اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مری سمیت خطہ کوہسارمیں نواز لیگ کا مستقبل؟

ef526b68 9d57 4d77 ad11 5c6d3d046536

مری میں آج 12 اگست کو مسلم لیگ ن کا طے شدہ جلسہ بغیر کوئی خاص وجہ بتائے ملتوی کر دیا گیا ہے. مگر نواز لیگ کی سیاست کے واقفان حال جانتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا وجوہات کار فرما ہو سکتی ہیں اور خطہ کوہسار کی قد آور سیاسی شخصیت شاہد خاقان عباسی کے نواز لیگ کی قیادت سے فاصلہ اختیار کرنے کے بعد پارٹی کو اس علاقے میں کن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے.  اس حوالے سے مری کے نوجوان لکھاری حماد سکندر عباسی کا مختصر تجزیہ ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

FB IMG 1669482156204

صاحب تحریر

 

شاہد خاقان عباسی اور مریم نواز کو ایک سٹیج پر لے کر آنا اب جُوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔ میں ذاتی طور پر شاہد خاقان عباسی کے موقف کے ساتھ کھڑا ہوں کہ انہوں نے مریم نواز کی خدمت گزاری اور تابعداری کے لیے خُود کو وقف نہیں کیا۔ جس طرح طلال چوہدری ، عابد شیر علی، مریم اورنگزیب ، مرتضیٰ جاوید عباسی اور دیگر لیگی رہنما خوشامد اور کاسہ لیسی کی تمام حدیں پار کر دیتے ہیں.

اب بھی کوہسار کے وہ لیگی جو یہ چاہتے ہیں کہ مری مال روڈ پر مریم نواز کے پیچھے سٹیج پر شاہد خاقان عباسی ہاتھ باندھے کھڑے ہوں اور وہ مجمع سے خطاب کرتے ہوئے اپنے روایتی غرور اور تکبر سے ہاتھ ہلا رہی ہوں تو ۔۔۔۔ بھائی! مجھے لگتا ہے کہ اب ایسا ہونے سے رہا.

شاہد خاقان عباسی کے حالیہ بیانات اور عزائم ان کے ماضی کے رویے اور انداز سیاست سے خاصے مختلف ہیں۔

ان کا یہ موقف درست ہے کہ مریم نواز میں لے دے کے صرف یہی ایک خوبی ہے کہ وہ نواز شریف کی اولاد ہیں۔ اس سے بڑھ کر نہ تو وہ کوئی عوامی شخصیت ہیں اور نہ ہی ان میں ایسی خاص صلاحیتیں ہیں جن کی بنا پر انہیں لیڈر تسلیم کیا جائے. البتہ

مریم نواز ایک ایسے ہجوم کی لیڈر ضرور ہیں جو نسل در نسل غلامی کو اپنا مقدر سمجھ کر موروثی سیاسی  عزائم کا ایندھن بن رہا ہے.

خاندان در خاندان چلنے والی موروثی سیاست اور طرزِ حکمرانی کو ہر پارٹی میں رد کیا جانا چاہیے اور یہ کام سب سے بڑھ کر ن لیگ کے ورکر کر سکتے ہیں. یہ کار ضروریہ کوئی باہر سے آ کر نہیں کرے گا۔۔ مگر

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

مریم نواز نرگسیت کی ماری ہوئی فیشن زدگی اور شخصیت پسندی کی معراج پر براجمان ایک ایسی شخصیت ہیں جن کی واحد خوبی یہی ہے کہ وہ نواز شریف کی صاحبزادی ہیں. اس سے بڑھ کر ان کی خوبی یہ بھی ہے کہ ان کی انٹری نے "عملا "پارٹی کو تقسیم کر دیا ہے. یہ تو ہے وسیع ملکی یا قومی تناظر۔۔۔ اب اسی کے عکس میں نواز لیگ کا مری سمیت خطہ کوہسار میں مستقبل تلاش کر لیجئے۔۔۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481