اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کی بدنامی۔۔ تلافی کیسے ہو؟

download

انہوں نے اپنے بوڑھے کمزور ہاتھ سے میری طرف اشارہ کیا آنسوں سے تر چہرہ اوپر اٹھایا اور کہا
زبیر تم بھی؟ تم بھی ان میں شامل ہو گئے؟

میں نے شدید شرمساری سے آنکھیں نیچے جھکا لیں. دل چاہتا تھا زمین پھٹے اور اس میں سما جاؤں
انہوں نے ٹشو پیپر سے اپنے آنسو پونچھے اور کہا چلو خیر ہے اور بھلا کس نے ہمارے ساتھ رحم کیا ہماری بات سنی کوئی ہماری پگڑی پھاڑ گیا تو کسی نے ہمیں بے لباس کرکے کیچڑ اچھال کر چسکے لئے..

آہ.. میں کرب سے بیٹھ نہ سکا اٹھ کر ان کے قدموں میں بیٹھ گیا ,سر ان کی گود میں رکھ کر جھریوں سے بھرے ہاتھ کو چومنے لگا۔ میرے آنسو ان کے ہاتھ کو تر کر رہے تھے اور سچ تو یہ ہے کہ میرے پاس الفاظ نہیں تھے۔۔
استاد تو پھر استاد ہوتا ہے ان ریٹائرڈ پروفیسر نے شفقت سے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور لرزتی ہوئی آواز میں بولے بیٹے ٹھیک ہے کچھ نا ہنجاروں نے میری جامعہ اسلامیہ بہاولپور کا بھرم تار تار کیا ٹھیک ہے آج کے لوگ نالائقی کے سبب ان کو روک نہ سکے مگر سارے سوشل میڈیا نے مل کر اس کی سزا ان ستر ہزار بیٹیوں کو دے ڈالی جو وہاں سے علم حاصل کر رہی تھی۔

وہ لمحے بھر کو رکے ضبط کا بندھن بمشکل باندھا اور بولے ۔”

"جانتے ہو جس ڈیپارٹمنٹ میں ہر سال دو دراز دیہات کے ایک ہزار داخلے آتے تھے اس بار صرف ڈیرھ سو فارم آئے ہیں ۔۔تم جیسے لوگوں نےایک ذرا دیر کی “حق گوئی” کے لئے میری یونی ورسٹی کو تباہ کر دیا ہے لاکھوں غریب اور پسماندہ طلبہ و طالبات کے خواب چھین لئے ہیں انہیں پھر جہالت کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے میری یونی ورسٹی کے نام کو کلنک کا ٹیکا بنا دیا ہے۔ان چند مجرموں کو سزا دلوانے کے بجائے تم سب نے مل کر وہاں کے استادوں اور دیگر لوگوں کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ وہ معاشرے میں نکل نہیں پا رہے۔۔آہ تمہارا کچھ دیر کا چسکا ہزاروں لوگوں کو لے ڈوبا۔

543a5ad6 2e52 4cc7 b5bd 3e6c2d7ed1da
بس کر دیں استاد محترم۔۔ بس کر دیں معاف کر دیں ہمیں واقعی ہمیں گندگی اچھالنے کا جو موقع ملا ہم نے اس میں بغیر سوچے سمجھے حصہ ڈال دیا۔۔اب تلافی کیسے ممکن ہے؟

وہ کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے” ہماری کرچی کرچی عزت تو اب بھلا کیسے پہلے جیسی ہو سکتی ہے مگر اس سے پہلے کہ ہم اللہ کے حضور فریاد کریں اور ان سب کا گریبان پکڑیں تم لوگ اپنے آنسوں اور توبہ سے اس کو دھوؤ اور کچھ نہیں تو کوئی پوسٹ کوئی ویڈیو کوئی پی آر کمپئین چلا کر ہی ہمارے چہرے پر ملی گئی کالک صاف کرو۔۔۔!
(میرے عزیزو! میں تو ان ندامت بھرے لفظوں سے اپنی تلافی کر رہاہوں۔ کسی اور کو بھی احساس ہو جائے تو کر لیجئیے جنہیں لگے کہ ہم نے ٹھیک کیا وہ اپنا جواب مجھے نہیں اللہ کو پیش کر دیجئیے گا)

#خودکلامی_زبیرمنصوری


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481