اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آٹےکےتھیلے میں چیتے کا بچہ۔ محکمہ وائلڈ لائف کب سدھرے گا؟

e98007b3 bc45 4e3b b4db b9cb533871b5

1a496e80 852c 4057 9bf7 6ec9c5568c9dصاحب تحریر

گلیات میں واقع ایبٹ آباد کی بالائی یونین کونسل تاجوال میں گزشتہ کئی روز سے دہشت  پھیلاتے جنگلی چیتوں کے خاندان کا ایک بچّہ گذشتہ روز وائلڈ لائف کی حراست میں آگیا ۔۔۔

صبح اسکول جاتے ہوئے معصوم بچّوں سفیان ایّان اور دیگر نےجن کی عمریں آٹھ سے بارہ سال کے درمیان تھیں ، تاجوال کے محلّہ کٹلہ اور کلس کے قریب روڈ پر گشت کرتے جنگلی چیتوں کے اس خاندان کو دیکھا تو چیختے چلاتے واپس بھاگے اور گھر پر بتایا جس پر معزّزین علاقہ سردار فرید اور دیگر نے محکمہ وائلڈ لائف کو اطلاع دی

خانسپور سے فوری طور پر وائلڈ لائف کی ٹیم روانہ ھوئی اور ایک گھنٹے کے اندر وائلڈ لائف آفیسر غلام احمد عباسی اپنے دو اہلکاروں کے ساتھ موقع پر پہنچے تو بڑی مادہ چیتا اور دیگر بچّے سائٹ چھوڑ چکے تھے تاہم ایک چھوٹی مادہ چیتا جس کی عمر تقریباً تین ماہ بتائی گئی بھوک سے نڈھال موجود پائی گئی جسے باآسانی تحویل میں لے لیا گیا ۔۔۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ وائلڈ لائف آفیسر اور ان کا معاون عملہ بغیر کسی ڈیپارٹمنٹل ایکوئپمنٹ اور ہنٹنگ ، کیرج وہیکل کے موٹر سائیکل پر آیا اور مقامی لوگوں سے رسّی مانگ کر اس چیتے کے بچّے کو باندھا اور آٹے کے بیس کلو کے ایک خالی بیگ میں ڈال کر موٹر سائیکل پر ہی روانہ ھوگئے ۔۔۔

محکمہ سے لی گئی تفصیلات کے مطابق یہ چھوٹا مادہ چیتا ایبٹ آباد میں سرکاری ویٹرنیری ڈاکٹر کے پاس لے جایا جارہا ھے جہاں طبی معائنے کے بعد اسےاپنے مقامی چڑیا گھر منتقل کر دیا جائے گا۔

آٹے کے تھیلے میں چیتے کا بچہ

38ca8864 6280 4dba a91d 796f7e1632e1

آٹے کے اس تھیلے میں کچھ اور نہیں بلکہ ایک زندہ سلامت ننھا چیتا ہے اور موٹر سائیکل سوار افراد محکمہ وائلڈ لائف ایبٹ آباد کے اہلکار ہیں جو چھانگلہ گلی تاجوال سے اس چیتے کو ریسکیو کر کے لے جارہے ہیں ۔
چند سیکنڈ کی اِس ویڈیو میں محکمہ وائلڈ لائف KPK کی کسمپرسی اور بدحالی واضح ہورہی ھے کہ کیا خطرناک جنگلی جانوروں بالخصوص چیتے کو ریسکیو کرنے کے لیئے محکمہ اپنے اہلکاروں کو بناء کسی گاڑی ، پنجرے ، جال ، اور بےہوش کرنے والی گَن کے خالی ہاتھ بھیج دیتا ھے کہ شیر اور چیتے کے ساتھ کُشتی کر کے قابو کرنا ھے ؟

واضح رہے کہ چیتے کو چارپائی میں استعمال ہونے والی پلاسٹک نوار کے ساتھ گلے سے باندھا گیا جیسے کتّا یا بکرا باندھا جاتا ھے اور تھیلے میں چیتا ڈال کر موٹرسائیکل پر بیٹھ کر لے جانا دنیا کی نظروں میں جہاں ایک مذاق بن کر رہ گیا وہیں بین الاقوامی محکمہ وائلڈ لائف پاکستان کے لیئے یہ بہت بڑا سوالیہ نشان بھی ہے ۔۔۔
مزکورہ اہلکاروں کی فرض شناسی اور بہادری قابل ستائش ھے لیکن ملازمین کو اس طرح بے سروسامان چیتا پکڑنے کے لیئے بھیج دینا ان کی زندگی سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔۔۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ خطرناک جانوروں کو پکڑنے یا ریسکیو کرنے کا سامان وائلڈ لائف ایبٹ آباد کے سینٹرل اربن ایریا میں ہے جو گلیات میں چیتوں کے اس مسکن سے چار گھنٹے آنے جانے کی مسافت پر واقع ہے ،اب بظاہر یہی منطق سمجھ آتی ھے کہ گاؤں کے لوگ چیتوں کو باتوں میں لگا کر رکھیں جب تک کہ وائلڈ لائف کے اہلکار مکمل تیاری کر کے جائے وقوعہ پر پہنچ سکیں ۔

زندہ چیتا پکڑنے کے حوالے سے تاجوال کے مقامی افراد کا تعاون اور قانون پسندی انتہائی قابل تعریف ھے اور یہ بڑی زبردست مثال قائم کی گئی کہ مقامی لوگوں کی طرف سے چیتے کو زرا بھی نقصان نہیں پہنچایا گیا ۔
آخری اطلاعات کے مطابق اندھیرا شروع ہوتے ہی چیتے کی چنگھاڑ اُسی علاقے میں مسلسل سنی جارہی ھے جو یقیناً اُس مادہ چیتے کی ھوسکتی ھے جو اپنے بچّے کی تلاش میں ھو ۔۔۔

8 2 1
گلیات کے گھنے جنگلات نایاب جنگلی جانوروں کی محفوظ پناہ گاہ ہیں لیکن ان چیتوں کے کھانے کے لیئے کوئی دوسرا جانور سردست ان جنگلوں میں موجود نہیں اور اس سنجیدہ مسئلے کے حل کے لیئے محکمہ وائلڈ لائف کو فوری طور پر اقدامات کرنے چاہیئیں ،خوراک کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ چیتے اب آبادیوں کا رُخ کررہے ہیں اور اس طرح مقامی لوگوں اور ان کے پالتو جانوروں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔

محکمہ وائلڈ لائف کے پی کے کو جنگلی حیات کے تحفّظ کے لیئے مزید بہتر ، فعّال اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ خطرناک جنگلی جانوروں کی وجہ سے انسانی آبادیاں اور ان کے پالتو جانور آئے روز نقصانات کا شکار ہورھے ھیں ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481