اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عبوری حکومت ، دیدار کا عالم کیا ہو گا؟

عبوری حکومت ، دیدار کا عالم کیا ہو گا؟

کتابی طور پر تو ملک میں حاکمیت کا تعین1973کے آئین میں کر دیا گیا تھا لیکن عملی طور پر حاکمیت کا تعین اب بھی ملک میں کشمکش اور انتشار کی وجہ بنا ہوا ہے۔مشرف دور میں ملک میں ملٹری ڈیموکریسی کی اصطلاح استعمال ہوئی۔ مشرف مغرب کو کہا کرتے تھے کہ پاکستان باقی دنیا سے مختلف ہے، پاکستان میں مغرب کی طرح کی جمہوریت قائم نہیں ہو سکتی۔پاکستانی جمہوریت کے اپنے تقاضے ہیں اور اپنی الگ صورت حال ہے۔ملٹری ڈیمو کریسی کے اس نظام کو  ہائبرڈ  نظام کا نام بھی دیا گیا۔

سابق صدر پرویز مشرف دبئی میں انتقال کر گئے

یہ بھی پڑھیں مری میں گائے اوربچھڑا چوری کرتاملزم رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

 

عمران خان حکومت کے وقت اپوزیشن جماعتوں کا جمہوری اتحاد قائم کیا گیا

اور ایسے بلند و بانگ جمہوری مطالبات کئے جانے لگے کہ عوام ملک میں عوامی جمہوریت کی بالا دستی کے خواب رات کے وقت ہی نہیں بلکہ دن کو بھی دیکھنے لگے۔

عمران خان کی حکومت کے خلاف مولانا فضل الرحمان کے اسلام آباد دھرنے میں شہباز شریف کی تقریر کو حکومت میں لائے جانے کی نوکری کی درخواست قرار دیا گیا تھا

جس میں وہ اسٹیبلشمنٹ سے ملتمس تھے کہ اپوزیشن جماعتیں عمران خان سے بہتر منیجر کا کردار نبھا سکتی ہیں۔

تاہم یہ درخواست ایک عرصے کے بعد شرف قبولیت کے درجے پہ پہنچی۔

نیب ترامیم کا فائدہ: نواز، زرداری اور گیلانی کیخلاف ریفرنس واپس

عوام کو توقع تھی کہ عمران خان حکومت کے خاتمے سے ان کا بھی کچھ بھلا ہو جائے گا لیکن ایک بار پھر ثابت ہو ا کہ حکمران جو بھی آجائے،

عوام کا کچھ بھلا نہیں ہونے والا ۔پی ڈی ایم  اتحاد نے تابعدار حکومت اور ربراسٹیمپ  پارلیمنٹ کا کردار قبول کیا

اور اسے بطریق احسن نبھاتے ہوئے آئندہ الیکشن کے بعد حکومت میں آنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی نظروں میں اپنی ساکھ کو بہتر بنایاہے۔

پی ڈی ایم اتحاد نے حکومت میں لائے جانے سے متعلق سونپی گئی ذمہ داریوں کے کئی اہداف حاصل کر لئے ہیں

جبکہ باقی ماندہ عبوری حکومت سے پورے کرائے جائیں گے۔ لگتا تو یہی ہے کہ عمران خان

کو مسلط کرانے کے وقت سے ملک میں ملٹری ڈیموکریسی رائج ہے، جس کی اب نوک پلک سنواری جا رہی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں مری میں گائے اوربچھڑا چوری کرتاملزم رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

 

اسٹیبلشمنٹ کو "جو ہے جیسا ہے” کی بنیاد پرعوام سے مطلوبہ حدود و قیود میں حب الوطنی درکار ہے اور اسی کے لئے نت نئے قوانین بنوائے جار ہے ہیں۔

عوام کے ہر شعبے کو تابعدار بنانے کے الگ الگ تقاضے ہیں جنہیں پورا کرنے کا اہتمام الگ الگ طور پر کیا جاتا ہے۔

جو ملکی پالیسیاں بنائیں گے،حکمت عملی طے کریں گے، وہ خود کو تنقید سے بالاتر تو نہیں کر سکتے۔

ملک کو نقصان پہنچانے والی پالیسیوں، حاکمیت کے نقصان دہ اور خلاف آئین طریقہ کار پہ تنقید تو ہو گی۔

عوام کی نظر میں عمران خان کا اپنے منطقی انجام کو پہنچایا جانا بہت اچھا،  تاہم ملک و عوام کے تناظر میں  سب اچھا نہیں ہے۔

پی ڈی ایم اتحاد نے حکومت میں لائے جانے سے متعلق سونپی گئی

ذمہ داریوں کے کئی اہداف حاصل کر لئے، باقی ماندہ عبوری حکومت پورے کرے گی۔

گدا،تکیہ،دو کرسیاں اور میز۔عمران خان کی نئی دنیا

اب ملک میں عبوری حکومت کے قیام کا مرحلہ ہے اور عندیہ دیا جارہا ہے کہ عام انتخابات مارچ2024سے پہلے ممکن نہ ہوں گے

 

یہ بھی پڑھیں ایف جی پبلک سکول مری کو ہائرسیکنڈری کا درجہ مل گیا

 

۔یعنی عبوری حکومت تقریبا آٹھ ماہ انجوائے کرتے ہوئے سونپی گئی ذمہ داریاں پوری کرنے پہ توجہ دے گی

۔جمہوری اتحاد کی حکومت کا وقت 9مئی کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم تک اختتام پذیر ہو رہا ہے ،

اب دیکھئے کہ عبوری حکومت کس نئے عزم کے ساتھ ملک اور عوا م کے لئے  شاندار کردار ادا کرنے کی کٹھن ذمہ داری  انجام دیتی ہے۔

بظاہر عبوری حکومت کا کام عام انتخابات کرانا ہے تاہم ملک کے مفاد کے

نام پہ اس سے کیا کام لیا جانا مقصود ہے، یہ منظر نامہ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

بقول شاعر

جب حسن تھا ان کا جلوہ نما انوار کا عالم کیا ہو گا

ہر کوئی فدا ہے بن دیکھے تو دیدار کا عالم کیا ہو گا


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481