بھارت میں ہندو انتہا پسند مساجدپربھی بم حملے کرنے لگے
بھارت میں مسلمانوں پر حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تازہ واقعے میں مدھیہ پردیش میں انتہا پسند ہندؤں کی جانب سے مسجد پر پٹرول بم سے حملہ کیا گیا ہے،
جس پر پولیس نے ایک شرپسن عورت سمیت 6 انتہا پسند ہندو گرفتار کرلئے ۔دوسری طرف ہریانہ میں ریاستی سرپستی میں مسلمانوں کے گھر مسمار کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ 4 روز کے دوران 300 سے زائد گھر مسمار کئے جا چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو اندور کے علاقے ملہار گنج میں شرپسند عناصر نے مسجد میں پٹرول بم پھینکا، ان کے ساتھ ایک عورت بھی تھی۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے ملزمان کے خلاف کیسدرج کرلیا ہے، فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انتہا پسندوں نے مسجد میں اور سڑک پر پیٹرول بم پھینکا جس سے آگ لگ گئی۔ پولیس نے مقامی شخص محمد صابر کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے خاتون سمیت 6 انتہا پسند ہندو گرفتارکرلئے،جن میں 18 سالہ لکی جگدلے،22 سالہ جتندر کھیتکر،22 سالہ ایوش واگ، 19 سالہ ستیم ماتھ،22 سالہ نایان جادم اور 18 سالہ خوشی چتانی شامل ہیں۔
ادھر ہریانہ میں ریاستی دہشت گردی کے تحت فرقہ وارانہ فسادات کے بعد گزشتہ 4 روز میں مسلمانوں کی 300 سے زائد گھر اور دکانیں گرائی گئی ہیں اور متعدد دکانوں کو فسادات کی آڑ میں نذر آتش بھی کیا گیا ۔ بھارتی ہائیکورٹ نے نوٹس لیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا خاص کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی عمارتوں کو نسلی صفائی کی مشق کے طور پر گرایا گیا ہے؟ عدالت نے حکام کو مزید عمارتیں گرانے سے بھی روک دیا۔

