مری اسلام آباد ایکسپریس وے ڈنہ کے مقام پر این ایچ اے اور مری انتظامیہ کا غیر قانونی تعمیرات کے خلاف گرینڈ آپریشنایک بار پھر موخر کر دیا گیا۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق سینئر وزیر راجہ اشفاق سرور کے صاحبزادے اسامہ سرور نے براہ راست وزیر اعظم سے بات کی جس پر این ایچ اے کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ واضح رہے کہ چھند ہفتے پہلے بھی نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ایکسپریس وے پر تجاوزات کیخلاف آپریشن شروع کیا تھا جو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی مداخلت پر روک دیا گیا تھا۔مقامی لوگوں اور کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ پہلے مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے مٹھی گرم کرنے پر بے مہار تعمیرات کی اجازت دی گئی اور اب مخصوص مقاصد کے تحت تجاوزات کے نام پر مقامی لوگوں اور چھوٹے کاروباری افراد سے روزگار چھینا اور انہیں بے دخل کیا جا رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کے دوران این ایچ اے کی جانب سے مقرر کردہ حدود میں تعمیرات اور تجاوزات کو مکمل ختم کیا جا رہا ہے۔ آپریشن میں ہیوی مشینری سمیت ڈیمالشنگ سٹاف ،مری انتظامیہ اور دیگر ادارے بھی شامل ہیں۔ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کیلئے انتظامیہ کی درخواست پر راولپنڈی پولیس کی بھاری نفری بھی طلب کی گئی تھی، لیکن آپریشن کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
انتظامیہ کی جانب سے آپریشن کے دوران ایکسپریس وے کے ایکٹریک پر ٹریفک کو مکمل بند کر دیا گیا تھا جبکہ ایک طرف سے ٹریفک بحال رکھا گیا ۔اس دوران متاثرین کی جانب سے کوئی بھی رد عمل سامنے نہ آیا جبکہ عوام کی بڑی تعداد موقع پر موجود رہی۔
اس کارروائی کے حوالے سے دوسرا موقف یہ ہے کہ
راولپنڈی انتظامیہ کی جانب سے مشترکہ ڈیمارکیشن کا آج ہی جاری کیا گیا لیکن این ایچ اے حکام بھاری مشینری کے ساتھ کارروائی کے لئے پہنچ گئے اور گلوریا جین کو مسمار کر دیا۔ اس پر راجہ اسامہ سرور نے وزیر اعظم ہاؤس سے بات کی جنھوں نے آپریشن فوری روکنے کا حکم دیا اور انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اسامہ سرور کے ساتھ بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالا جائے ۔
متاثرین کیا کہتے ہیں؟
متاثرین کا کہنا ہے کہ پہلے 66فٹ کی حدود میں تعمیرات کا قانون تھا۔ جب ہم اپنی جائیدادوں پر تعمیرات کر رہے تھے تو خاموشی اختیار کی گئی لیکن اب کچھ پٹواریوں کی ملی بھگت سے یہ حد 96فٹ کر دی گئی ہے جو غیر قانونی ہے جسے ہم نہیں مانتے ۔ اسامہ سرورنے موقع پر پہنچ کر متاثرین سے خطاب بھی کیا جس پر افسران نے آپریشن روک دیا اسامہ سرور نے کہا کہ 12اگست کو مریم نوازسے کشمیر پوانٹ ملاقات کر کے صورت حال سے آگاہ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ اب میں دیکھتا ہوں کون اپریشن کرتا ہے ۔۔جب تک کوئی ٹی او ار طے نہیں ہوجاتے ۔۔



