میں نے کتابیں خریدنا بہت کم کر دیا ہے۔ واحد وجہ یہ کہ میری سٹڈی کی وسعت مزید کتابوں کی متحمل نہیں رہی۔ جمخانہ یا کسی اور لائبریری سے کتاب لے کر لوٹا دیتا ہوں۔ لیکن بعض کتابیں ایسی ہیں کہ تنگئی داماں کے باوجود انہیں اپنے پاس محفوظ نہ رکھنے پر دل آمادہ نہیں ہوتا۔ یاسر جواد کی نئی کتاب “ تہذیب کی کہانی”، جو کہ ول ڈیورانٹ کی The story of civilisation کا ترجمہ ہے ایسی ہی کتابوں میں سے ایک ہے۔
ترجمے کی وادی کے مسافروں کو جن دشوار گزار اور کٹھن راستوں سے گزرنا پڑتا ہے ، انکی مشکلات کا اندازہ صرف یہ مسافر ہی کر سکتے ہیں۔ بہت جلد بھلا دئے جانے والے باکمال شاعر باقی صدیقی نے کہا تھاکہ
دوستی خون جگر چاہتی ہے
کام مشکل ہے تو رستہ دیکھو
ترجمے کےفن کی دیوی بھی” دوستی “ کی طرح خون جگر سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوتی۔ یاسر اس حقیقت کا راز پا چکا ہے۔

ما ضی قریب میں ہونے والے کئی ترجموں کو دیکھتا ہوں تو افسوس کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آتا ہے۔ افسوس کم اور غصہ زیادہ۔ اس کیفیت کو بڑھاپے کی علامت جان کر زیر لب مسکرانے والے احباب کاش کبھی ایسے صبر آزما مرحلے سے گزر کے دیکھیں۔ زبان و بیان ،ابلاغ اور متن سے وفاداری کے تقاضے تو ایک طرف ان تراجم میں مصنف کے نفس مضمون کی نسبت سے متناقص ہی نہیں ،متصادم مثالیں بھی آپکو مل جائیں۔ یعنی من چہ می سرائیم و طنبورہ من چہ می سراید
سر حد سے اس طرف بھی مضمون واحد ہے۔ حال ہی میں بھارت میں شائع شدہ ایک سیاسی رہنما کی سوانح کا اردو ترجمہ نظر سے گزرا۔ بارہ کے بارہ شرعی عیب اس میں موجود ۔ سات عیبوں کا اضافہ میں نےAntoine Bern کی روح کو ثواب پہچانے کے لئے کیا ہے۔ جی ہاں ! ایک عالم میں فن ترجمہ کی تنقید و تحسین میں حرف آخر سمجھے جانے والے فرانسیسی محقق، مورخ اور نقاد اے برن۔ انہوں نے ترجمے کے حسن و خوبی اور متقاضیات کے حوالے سے جن پہلوؤں کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی تعداد بارہ ہی بنتی ہے۔
تصنیف و تالیف کی غارت گری کے اس دور میں یاسر جواد جیسے مترجمین اور مصنفین کی کوئی تخلیق سامنے آنا ایسا ہی ہے ع جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم ۔یاسر جواد کی اس کاوش کے معنوی اور صوری حسن کی گواہی ہر سنجیدہ قاری باآواز بلند دے گا۔ ۔۔۔ میری آواز کو بھی ان آوازوں میں شامل سمجھئے ۔
