اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

سندھ۔ اس حال کو کیوں پہنچا؟

ef94d79e 8396 42ba 8e28 4c5389f9caff

سندھ کے حالات کا دوش کس کو دوں؟حکمرانوں کو یا عوام کو؟

حکمران جو برسوں اور دہائیوں سے سندھیوں کے مردار جسموں سے خون چوس رہے ہیں۔اور سندھی لوگ جو برسہابرس سے اپنے مردار جسموں کا نذرانہ ان گدھ نما حکمرانوں کو پیش کر رہے ہیں۔دونوں طرف بے حسی ہے،دونوں فریق بے رحم ہیں۔لیکن دونوں میں سے فائدہ صرف ایک کو ہو رہا ہے۔حکمرانوں کو۔

سندھی لوگ تو بس پستے ہی چلےجا رہے ہیں۔مگر کیوں؟کیوںکہ یہ لوگ چپ ہیں،خاموش ہیں؟کیوں سہہ رہے ہیں نہ ختم ہونے والے مظالم کو؟محرومی،بے بسی اور لاچاری کو؟چوری،ڈاکوں،کرپشن اور پولیس گردی کو؟کیوں برداشت کر رہے ہیں اب تک وڈیرہ شاہی اور ذات برادری کی بدمعاشی کو؟ کیوں لٹ رہے ہیں اب تک ایک ہی خاندان کی بے ایمان اور بدبودار سیاست سے؟سندھی قوم کی اس بے حسی کو ہم عقل کی کمی کہیں یا غیرت کا فقدان؟

323458150 679542453893850 6184172431106976314 n 324093242 717767009769659 4940974982598867635 n
دل خون کے آنسو روتا ہے۔یہاں ہر طرف بربریت ہے،غربت ہے، افلاس ہے اور محرومیوں کا انبار ہے۔چہروں پر لاتعداد جھریاں ہیں اور انکھوں میں لاچارگی اور ویرانی ہے۔یہاں پر غربت وہ لاعلاج وائرس ہے جو پھیلتا ہی جا رہا ہے۔غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے اور "سائیں” امیر ترین ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں ہر شخص ہر گاؤں بھوک اور افلاس کی منھ بولتی تصویر ہے۔بالخصوص اندرون سندھ کے حالات دیکھ کر تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔جہاں کے ٹوٹے پھوٹے گھر اور اجڑے بازار صومالیہ کا منظر پیش کرتے ہیں۔اور پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس جسم،ویران آنکھیں اور خالی پیٹ لیے ہوئے لوگ سوڈان کے باشندے دکھائی دیتے ہیں۔جہاں آج بھی مزدور کی دیہاڑی پانچ سو روپے اور کام والی کی ماہانہ تنخواہ دو ہزار روپے ہے۔

جہاں آج بھی ایک وقت کا کھانا اور دو وقت کے فاقے ہوتے ہیں۔جہاں ٹوٹی پھوٹی کیچڑ سے لت پت بدبودار گلیاں ہیں۔پینے کا کھارا پانی اور نہانے کے لیے نکاسی کی نالی جیسا بدبودار پانی ہے۔جہاں کے سرکاری ہسپتال، ہسپتال کم اور گائے بھینس کے باڑے زیادہ لگتے ہیں،جہاں کے سکول وڈیروں کے اوطاق ہیں اور پولیس کے تھانے عیاشی کے اڈے اور مجرموں کی پناہ گاہیں  بنی ہوئی ہیں۔جہاں اب بھی معمولی سی بات پر مظلوم قتل کیے جاتے ہیں اور قاتل آزاد بے باک پھرتے ہیں۔جہاں بنیادی انسانی حقوق اور بنیادی سہولت کا کوئی نام و نشان نہیں ہوتا۔جہاں واپڈا کی بجلی کو لوگ اب بھول چکے ہیں اور سولر کا زمانہ ہے۔جہاں سوئی گیس نہیں بلکہ سلنڈر چلتے ہیں۔لکڑیاں جلتی ہیں۔جہاں کا ایم پی اے اور ایم این اے شہنشاہ ہوتا ہے۔جو ہر سرکاری زمین، عمارت اور جائیداد پر اپنے باپ کی ملکیت سمجھ کر قبضہ کرتا ہے۔اور سرکاری نوکریاں اپنے دادا کی دکان سمجھ کر لاکھوں میں بیچتا ہے۔غریب کا ملنا جس سے چاند پر جانا ہوتا ہے۔

غریب کی قسمت کیا ہے؟

324016022 707689450738988 507534660330710975 n

سائیں بھوتار کی اوطاق کی چوکھٹ پر سر رکھ کر صبح سے بیٹھنا اور شام میں کہیں سائیں کے چرنوں کا دیدار ہونا۔جہاں کا سرکاری اسکول کا ٹیچر بیٹھا کراچی میں ہوتا ہے ،پر پڑھا کندھ کوٹ میں رہا ہوتا ہے۔جہاں کا سرکاری ڈاکٹر پانچ سال سے اسلام آباد میں نوکری کرتا ہے لیکن اس کے گاؤں والے سرکاری بنگلے میں چاچے مامے رہتے ہیں۔جہاں کے پرائمری اسکول کا کلرک مہینے کے لاکھوں کماتا ہے۔بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں کی پینشنز کھا کر۔

جہاں بدلے کے چکر میں خاندان کے خاندان اجڑ جاتے ہیں اور پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔جہاں بریانی کی پلیٹ یا 500 کے نوٹ پر ووٹ بکتے ہیں۔جی ہاں۔یہ ہے آج کا اندرون سندھ۔ ،یہاں جنگل کا قانون چلتا ہے۔یہاں خون خوار وحشی درندے دندناتے پھرتے ہیں اور مظلوم معصوم جسموں کے چھیتڑے اڑتے ہیں۔ارمانوں اور حسرتوں کے قتل ہوتے ہیں۔

پر اصل میں نہ تو سندھ جنگل ہے اور نہ ہی اس میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔پھر کیوں میرے سندھی بھائی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں؟کیا ان میں عقل کی کمی ہے یا غیرت کا فقدان ہے؟
پچاس سالوں سے سندھ کے اوپر بھٹو خاندان مسلط ہے یا سندھیوں نے خود اس خاندان کو اپنے اوپر مسلط کر رکھاہے۔یہ خاندان انگریز کی سرپرستی میں زمیندار بنا اور پھر موقع دیکھ کر سیاست میں گھس آیا۔عوام کو روٹی کپڑا اور مکان کے لارے پر رکھا اور ریاست کو اپنی جاگیر سمجھ کرحکمرانی کرتا رہا۔سیاست کو بھی اس خاندان نے زمینداری سمجھا اور مخالفین کو ہاری کسان سمجھ کر کچلتا رہا۔
المیہ تو یہ ہے کہ سندھیوں نے بھٹو کو اج بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔بھٹؤوں نے تو سندھ کے ساتھ جو کیا سو کیا،مگر اب اس کے نام پہ سولہ سال سے سندھی زرداریوں کو ووٹ دے رہے ہیں۔جنہوں نے کرپشن اور نااہلی کے عالمی ریکارڈ قائم کر لیے ہیں۔سندھ میں نظام یا قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔یہاں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔تمام سرکاری اداروں میں کرپشن کے بے باک بازار گرم ہیں۔کوئی بنیادی سہولت میسر نہیں۔

پورے سندھ کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، خاص طور پر کراچی کی جو کہ اب رہنے کے قابل بلکل نہیں رہا۔تعلیم نام کی کوئی شے نہیں یہاں،بس بھوت استاد اور گمنام بھوت اسکول ہیں۔ہر سال تعلیمی بجٹ کے اربوں روپے ہڑپ کیے جاتے ہیں یہاں۔بورڈ کے امتحانوں میں کاپی اور چیٹنگ بنا پکڑ دھکڑ کے عروج پہ ہے۔امتحانوں میں کوئی میرٹ نہیں۔تعلیمی بورڈ کے افسر بچوں سے امتحان کہ ایک پیپر کے پچاس پچاس ہزار روپے لے کر نمبر بیچتے ہیں۔سندھ پبلک سروس کمیشن کے نام پر یہاں کروڑوں اربوں روپوں کی نوکریاں بک رہی ہیں۔پر بھٹؤوں اور زرداریوں اور "پیپلوں” کے کانوں پر جون تک نہیں رینگتی۔

صحت کی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہے سندھی۔سوائے ایک دو شہروں کے باقی پورے سندھ میں خاطر خواہ ڈاکٹرز اور طبی سہولتیں نہیں ہیں۔بڑے بڑے ہسپتالوں کے بڑے بڑے عہدوں کی تقرری بھی سیاسی ہوتی ہے کروڑوں اربوں روپے کی دوائیں بیچ دی جاتی ہیں۔اربوں کے بجٹ غائب کر دیے جاتے ہیں۔اور عوام محروم کے محروم ہی رہتے ہیں۔مجال ہے کہ حکمرانوں میں سے یا عوام میں سے کوئی کچھ کرے۔

سندھ پولیس کا تو حال ہی مت پوچھیں۔ ان سے بڑا مجرم یہاں اور کوئی نہیں ہو سکتا۔چوروں ڈاکوؤں سے بھی زیادہ منحوس چہرے ہوتے ہیں ان کے یہاں۔ہڈ حرامی اور نااہلی کی اعلی مثال ہے سندھ پولیس۔اوپر سے کرپشن ایسی کہ سن کر دماغ مفلوج ہو جائے۔بھتہ خوروں سے زیادہ بھتہ لیتی ہے سندھ پولیس۔تھانوں کی پوسٹنگ کی بولی لگتی ہے یہاں۔تبادلے کروڑوں میں بکتے ہیں۔ایس ایچ اوز اور تھانیدار قبضہ مافیا ہیں یہاں جو کروڑوں اربوں کی زمینوں اور پلاٹوں پر قبضہ کیے بیٹھے ہیں۔ اور پھر یہی افسر لوگوں سے کروڑوں روپے لے کر قبضے چھڑواتے بھی ہیں۔پولیس سے بڑا بدمعاش سندھ میں کوئی نہیں۔ہماری جان مال کے محافظ ہی ہمارے قاتل اور لٹیرے ہیں۔اور ان کی پشت پناہی سیاسی حکمران ہی کرتے ہیں۔اس نااہل پولیس کے ہاتھوں نہ ہماری جان محفوظ ہے اور نہ مال۔لیکن پھر بھی بھٹو زندہ ہے۔

331613452 1143001469745108 532474142726465724 n 334288444 136294652426932 1293087138711606863 n

ہر ادارے میں تبادلے یہاں یا تو سیاسی ہوتے ہیں یا پیسوں پر۔چاہے ریو نیو ہو یا ایڈمنسٹریو ہو۔بلڈنگ کنٹرول ہو یا آڈٹ ہو۔ہر ادارے میں کروڑوں روپے پر کرسیاں بکتی ہیں۔پھر کروڑوں روپے دے کر وہ آنے والے افسر یہاں مدینے کی ریاست نہیں بنائیں گے بلکہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے لالچ میں زیادہ سے زیادہ حرام خوری کریں گے۔ اور یہ حرام خوری کرانے والی ہوتی ہے ہماری پیاری سندھ حکومت۔
خدا کی پناہ۔۔کوئی منصوبہ بندی نہیں،کوئی سوچ نہیں کوئی فکر نہیں۔بس اخری باری سمجھ کر ہر کوئی لوٹنے میں لگا ہوا ہے۔کھربوں کے بجٹ کھا جاتے ہیں یہ ظالم اور ڈکار تک نہیں لیتے۔لاقانونیت رشوت خوری اور کرپشن سندھ میں ہے وہ میں وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کے کسی اور صوبے میں نہیں۔پنجاب کو دیکھیں ،کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔رحیم یار خان سے لے کر اٹک تک پورا پنجاب ہشاش بشاش اور خوشحال ہے۔ہر طرف اچھے گھر اور اچھی سڑکیں ملیں گی۔لوگوں کے چہروں پہ خوشی نظر آئے گی۔

363446830 2303063423206562 5972901125968223813 n363728664 2303063303206574 4414250351573168849 n

خیبر پختون خواہ کو دیکھا ۔کیا نظام ہے وہاں کیا خوشحالی ہے۔اور پھر واپس آ کر سندھ کو دیکھ لیں۔مر چکا ہے یہ صوبہ۔اور مردار ہیں یہاں کے لوگ۔ بس "پنجابی کھا گئے ہمیں اور برباد کر دیا ہمیں فوج نے”۔ساری عمر یہی رونا روتے رہیں گے۔ یہ نہیں دیکھیں گے کہ ہمارے اپنوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے ۔ سندھی حکمرانوں سے زیادہ دشمنی پنجابیوں نے یا فوج میں نہیں کی ہمارے ساتھ۔ ۔۔ہمارے دشمن ہمارے اپنے ہیں۔یہ ہم ہیں کہ انکھیں بند کر کے انہی کو ووٹ دیے جا رہے ہیں اور ایک ہی راگ الاپے جا رہے ہیں کہ پنجاب کھا گیا ہمیں۔کیا کہیں اس بے وقوفی کو؟اس جہالت کو؟اگر بے عقل ہوتے تو فوج میں جنرل نہ بنتے۔ سی ایس ایس کر کے افسر نہ بنتے۔۔ بڑے بڑے کاروبار نہ چلارہے ہوتے،وڈیرے اور رئیس نہ بن پاتے، پھر کیا ہیں ہم۔
بے عقل یا بے حس؟
فیصلہ آپ خود کریں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481