اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مہنگائی کا طوفان

b95cddfb bc58 4224 ad16 f2f878d4fd6a

ملک بھر میں مہنگائی کا جن بےقابو ہوتا جارہا ہے اور مستقبل قریب میں اس طوفان کے تھمنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا. یہ خبر صبح کے اخبار کی سرخی تھی جس کو پڑھتے ہوئے ابا جی نے بجلی کی بچت کی تلقین کی اور ساتھ ہی کہا فالتو جلتے بلب اور پنکھے بند کر دیے جائیں۔ امی کہنے لگیں یہ تو روز کا کام ہے ان کا کچھ نہ کچھ مہنگا کر دیتے ہیں کہ غریب آدمی جی نہ سکے، مہنگائی نےتو مارہی دیا ہے، ارے بھئی سکھ کا سانس تو لینے دیں آپ کو مہنگائی کی پڑی ہے اور حکمرانوں کو کمائی کی۔۔۔

ارے بیگم کیا کیا بتائیں آپ کو؟ بجلی مہنگی ہو گئی ہے۔ اب تو خیر سے بجلی کے بل میں 35 روپے ٹیلیویژن ٹیکس اور 15 روپے ریڈیو ٹیکس الگ سے لگا دیاہے، اس کے علاوہ ایندھن کی قیمت اور وغیرہ وغیرہ سب شامل ہیں گیس الگ سے مہنگی ہے پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل 19,19 روپے مہنگے ہوگئے ہیں گزارہ بہت مشکل ہوگیا ہے۔

ایک آدمی جس کی تنخواہ 50,000 ہے اس کا اس مہنگائی کے دور میں گزارہ تقریبا”ہو گیا ہے گھر کا کرایہ 30,000، خیر سے اب تو 20,000 سے کم کرایے پر تو گھر ملنا کسی نعمت سے کم نہیں، آدمی بچوں کی سکول کی فیس دے، بوڑھے والدین کا علاج کرائے ،گھر پر راشن ڈلوائے یا برے وقت کے لیے بچت کرے۔۔ آخر کیا کرے اور کہاں جائے۔

اس مہنگائی کے دور میں بچوں کے شادی بھی ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ سونے کی قیمت کا ہی کوئی اندازہ نہیں،کب کتنی بڑھ جائے اور بڑھتی ہی چلی جائے۔ تعلیم ہے تو  وہ مہنگی، علاج تو وہ مہنگا ۔۔بنیادی ضرورت کی ہر چیز ہی مہنگی ہے۔۔  آخر کس کو سنائیں یہ دکھ بھری داستان۔

والد صاحب کی یہ باتیں سن کر میں نے چائے کی پیالی وہیں میز پر رکھ دی اور سوچنے لگی کہ ایک دفعہ کسی نے چاند کی طرف اشارہ کر کے بھوکے غریب آدمی سے پوچھا کہ وہ کیا ہے آسمان پر؟جو گول گول جو چمک رہا ہے تو بھوکے نے جواب دیا مجھے تو آسمان پر گول گول سی روٹی نظر آرہی ہے۔

جب تک حکمران اپنے پاؤں پر نہیں کھڑے ہو جاتے مہنگائی سے پسی عوام کو صبر سے کام لینا چاہیے انہیں صرف اپنے پیٹ کی فکر ہوتی ہے کہ اسے بھرنا ہے تو کیسے بھرنا ہے؟ اسی لیے تو وہ عرصہ اقتدار میں عوام کے مسائل سے بےفکر اور ان کے احوال سے بےنیاز رہتے ہیں روزمرہ کی ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور کمرتوڑ مہنگائی نے عوام کا جینا محال بنا دیا ہے۔اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں مسلسل اضافے کے باعث اس وقت عوام کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے ۔آٹا, چینی , گھی, دالیں سبزیوں اور گوشت کے ساتھ ساتھ  بجلی، گیس پٹرول  اور ادویات وغیرہ بھی بنیادی ضروریات ہیں جن کی کم قیمتوں پر دستیابی انسانی حق ہے۔

امریکہ اور یورپ میں اشیاء خورونوش کی قیمتوں پر حکومت نے کنٹرول کر رکھا ہے اور وہاں حکومت اور سپر مارکیٹ بزنسز کا اس بات یر اتفاق ہے کہ ان چیزوں کی قیمتیں کم ہی رہنی چاہیے کیونکہ یہ ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے مگر میری اس سرزمین پاکستان میں نظام الٹا ہے یہاں یہ چیزیں سب سے پہلے مہنگی ہوتی ہیں کیونکہ غربت سب سے بڑا جرم ہے یہاں کوئی بھوک پیاس سے مر جائے تو قصور اس کا ہوتا ہے جو مر چکا ہوتا ہے۔

پیارے وطن  میں جس چیز کی ضرورت بڑھ جائے،اسےمہنگا کر دیا جاتا ہے بلکہ وہ چیز نایاب بنا دی جاتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جاسکے۔ ذخیرہ اندوز سرگرم ہو جاتے ہیں حکومت کہتی ہے یہ سب مافیا کر رہا ہے، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

مہنگائی کا طوفان ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا اور حکمران ہیں کہ صرف اور صرف عوام کو لالی پاپ دیتے ہیں، پہلی حکومت چور تھی اس سے پہلی حکومت بہت اچھی تھی وہ ہوتی تو یہ ہوتا یہ ہوتی تو وہ ہوتا، مطلب کے جتنے منہ اتنی باتیں۔۔ ملک دیوالیہ ہونے پر آگیا ہے مگر ان کے شاہی اخراجات ختم نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے پروٹوکول میں کمی آئی ہے، ڈالر کی اونچی اڑان نے پاکستانی روپے کی قدر میں اس قدر کمی کر دی ہے کہ پاکستانی روپے کی کوئی اوقات ہی نہیں رہی۔مافیا کے خلاف جنگ کی ذمہ دار حکومت کی رٹ ختم ہوگئی ہے نا تو ضلعی حکومتیں عوام کے لیے سوچ رہی ہیں اور ناہی صوبائی حکومتیں عوام کے دکھوں کا درمان بن رہی ہیں جس کی وجہ سے عوام بےبسی کے تصویر بن کر رہ گئے ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481