اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کشمیری خواتین سے بھارتی فوج کی درندگی کی عالمی تصدیق

half widows of occupied kashmir 1459919043 7364

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم  ہیومن رائٹس واچ نے کشمیری خواتین کے ساتھ قابض بھارتی فوج کی درندگی کی تصدیق کرتے ہوئے دنیا بھر میں اسے سب سے زیادہ شرح پر مبنی قرار دیا ہے۔

تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ کشمیری خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارتی فوج اجتماعی زیادتی کو خوف پھیلانے اور اجتماعی سزا کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حریت پسندوں اور ان کے خاندانوں کےخلاف بھارتی فوج انتقاماً لوٹ مار، قتل عام اور جنسی زیادتی کرتی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق، 75 سال گزرنے کے باوجود زیادتی میں ملوث کسی کردار کو سزا نہیں دی گئی۔ ایشیا واچ کی رپورٹ کے مطابق، صرف ایک ہفتے میں 44 ماورائے عدالت قتل اور 15جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں  مزید بتایا گیا ہے کہ سزا اور جزا کا نظام نہ ہونے کے باعث بھارتی فوج کی پرتشدد کارروائیاں برسوں سے جاری ہیں۔

کشمیرمیڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی فوج کے ہاتھوں 1989ء سے  2020ء تک 11ہزار 224 کشمیری خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ صرف 1992ء میں 882 کشمیری خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ ریسرچ سوسائٹی آف انٹر نیشنل لا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی فورسز نے گیارہ سے ساٹھ سال تک کی خواتین کوبھی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے کھلی چھوٹ کےنتیجے میں بھارتی افواج بلاخوف وخطرجنسی زیادتی کےجرائم میں ملوث ہیں۔

سال 2005 کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیری خواتین کیخلاف جنسی زیادتی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، سوشل ڈویلپمنٹ کونسل کا کہنا ہے کہ کہ بھارتی فوجیوں کو زیادتی پر اکسانے میں اے ایف ایس پی اے کا مرکزی کردار ہے۔

دریں اثنا غیر ملکی جریدے دی گارجین کی رپورٹ کےمطابق 1989سے دوہزاربیس تک 150 سے زائد بھارتی فوجی افسران جنسی زیادتی میں ملوث تھے،  15 سے 21 مارچ 1991کے دوران طبی معائنوں میں 32 کشمیری خواتین پر تشدد اور جنسی زیادتی ثابت ہوئی۔ 1992میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں بھی کہا گیا بھارتی فوج کیخلاف اجتماعی زیادتی کےثبوت موجود ہیں۔ اپریل 2018 میں ہندوانتہاپسندوں نے زمین خالی کروانے کی خاطر8 سالہ آصفہ بانو کو 7 دن مندر میں زیادتی کانشانہ بنایا جبکہ 10 اکتوبر 1992میں فوجیوں نے شوپیاں میں 9 خواتین کواجتماعی زیادتی کانشانہ بنایا۔ کشمیری عدالتوں میں ایک ہزار سے زائد زیادتی مقدمات زیر التوا ہیں۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481