انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کشمیری خواتین کے ساتھ قابض بھارتی فوج کی درندگی کی تصدیق کرتے ہوئے دنیا بھر میں اسے سب سے زیادہ شرح پر مبنی قرار دیا ہے۔
تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ کشمیری خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارتی فوج اجتماعی زیادتی کو خوف پھیلانے اور اجتماعی سزا کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حریت پسندوں اور ان کے خاندانوں کےخلاف بھارتی فوج انتقاماً لوٹ مار، قتل عام اور جنسی زیادتی کرتی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق، 75 سال گزرنے کے باوجود زیادتی میں ملوث کسی کردار کو سزا نہیں دی گئی۔ ایشیا واچ کی رپورٹ کے مطابق، صرف ایک ہفتے میں 44 ماورائے عدالت قتل اور 15جنسی زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سزا اور جزا کا نظام نہ ہونے کے باعث بھارتی فوج کی پرتشدد کارروائیاں برسوں سے جاری ہیں۔
کشمیرمیڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی فوج کے ہاتھوں 1989ء سے 2020ء تک 11ہزار 224 کشمیری خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ صرف 1992ء میں 882 کشمیری خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ ریسرچ سوسائٹی آف انٹر نیشنل لا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی فورسز نے گیارہ سے ساٹھ سال تک کی خواتین کوبھی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے کھلی چھوٹ کےنتیجے میں بھارتی افواج بلاخوف وخطرجنسی زیادتی کےجرائم میں ملوث ہیں۔
سال 2005 کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیری خواتین کیخلاف جنسی زیادتی کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، سوشل ڈویلپمنٹ کونسل کا کہنا ہے کہ کہ بھارتی فوجیوں کو زیادتی پر اکسانے میں اے ایف ایس پی اے کا مرکزی کردار ہے۔
دریں اثنا غیر ملکی جریدے دی گارجین کی رپورٹ کےمطابق 1989سے دوہزاربیس تک 150 سے زائد بھارتی فوجی افسران جنسی زیادتی میں ملوث تھے، 15 سے 21 مارچ 1991کے دوران طبی معائنوں میں 32 کشمیری خواتین پر تشدد اور جنسی زیادتی ثابت ہوئی۔ 1992میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں بھی کہا گیا بھارتی فوج کیخلاف اجتماعی زیادتی کےثبوت موجود ہیں۔ اپریل 2018 میں ہندوانتہاپسندوں نے زمین خالی کروانے کی خاطر8 سالہ آصفہ بانو کو 7 دن مندر میں زیادتی کانشانہ بنایا جبکہ 10 اکتوبر 1992میں فوجیوں نے شوپیاں میں 9 خواتین کواجتماعی زیادتی کانشانہ بنایا۔ کشمیری عدالتوں میں ایک ہزار سے زائد زیادتی مقدمات زیر التوا ہیں۔
