باجوڑ میں جے یو آئی (ف) کے جلسے میں ہونے والے خودکش دھماکے کے 6 مبینہ سہولت کاروں کو حراست میں لے کر تفتیش شرو ع کردی گئی ہے۔اس حوالے سے سی ٹی ڈی ذرائع نے بتایا کہ باجوڑ دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اوراب تک 6 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جو مبینہ سہولت کار ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ خودکش حملہ آور کی شناخت کے لیے جائے وقوعہ سے لیے گئے سیمپل لیبارٹری کو بھیج دیے گئے تھے جن کی رپورٹ کا انتظار ہے۔ ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد کارروائی مزید تیز ہو گی۔
جمعیت علما ئےاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان زخمیوں کی عیادت کے لیے باجوڑ پہنچ گئے ۔ فضل الرحمان لواحقین سے بھی ملے اور تعزیت کی۔ گورنر خیبر پختونخوا غلام علی بھی ان کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر جے یو آئی کی جانب سے شہداء کے ورثاکیلئے پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں کے لیے تین تین لاکھ روپے کا اعلان کیا گیا۔
باجوڑکے واقعے نے ہماری مسکراہٹیں چھین لیں۔مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان نے شہداء کے اہل خانہ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ باجوڑ واقعے نے ہماری مسکراہٹیں چھین لیں اور ہمیں غموں میں ڈبو دیا مگر قاتل ہمارے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں کرسکتے بلکہ ان کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں۔سربراہ جے یو آئی ف نے پہلے زخمی سے ملاقات کی اور سلام کیا تو اس نے قرآن کریم کی آیت پڑھی۔
دوسرے زخمی نے کہا کہ کہ میرے ساتھی شہید ہوگئے اور میں شہادت کی آرزو لیے یہاں لیٹا ہوا ہوں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ جس زخمی کے پاس جاتے کہ اسے حوصلہ دیں وہ خود انہیں حوصلہ دیتا اور کہتا کہ ہماری اس حالت پر افسردہ نہ ہوں اور آپ نے مضبوط رہنا ہے ہم بھی مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس غلط فہمی میں ہیں کہ وہ جہاد کر رہے ہیں وہ یہ سمجھ لیں کہ یہ کوئی جہاد نہیں بلکہ وہ مفسدین ہیں۔
شہداء کے لیے فی کس 20 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 7 لاکھ امداد
گورنر خیبرپختونخوا نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور گورنر ہاؤس کی جانب سے باجوڑ دھماکے کے شہداء کے لیے فی کس 20 لاکھ اور زخمیوں کے لیے فی کس 7 لاکھ روپے کی امدادی رقم دی جائے گی۔ رقوم کے چیک شہداء کے لواحقین اور زخمیوں میں تقسیم کرنے کے لیے سینیٹر عبدالرشید اور ڈپٹی کمشنر باجوڑ انوارالحق کے حوالے کردیے گئے۔مولانا فضل الرحمان نے سول کالونی جرگہ ہال میں شہداء کے لواحقین اور علاقے کے عمائدین کے ایک بڑے جرگے سے اپنے خطاب میں کہاکہ باجوڑ دھماکہ دراصل چینی نائب وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کی اہمیت کو متاثر کرنے کیلئے کیا گیا ہے ۔خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے بے گناہوں کا خون بہایا گیا ۔



