اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

لیبیا میں انسانی اسمگلرز کے قبضےسے385 پاکستانی چھڑا لئےگئے

لیبیا میں انسانی اسمگلرز کے قبضےسے385 پاکستانی چھڑا لئےگئے

لیبیا میں انسانی اسمگلرز کے قبضےسے385 پاکستانی چھڑا لئےگئے

لیبیا میں انسانی اسمگلرز کے قبضےسے385 پاکستانی چھڑا لئےگئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ ان معصوم اور سادہ لوح پاکستانیوں کو یورپ کے نام پرلیبیا بھیجا گیا تھا جہاں اسمگلرز نے انہیں تاوان کیلئے قید کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق لیبیا میں سکیورٹی حکام نے انسانی سمگلروں کے ٹھکانوں پر چھاپے مار کر کم از کم 385 پاکستانی تارکین وطن کو بازیاب کرالیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق مہاجرین کے حقوق کیلئے کام کرنے وا لی تنظیم العبرین نے بتایا کہ پاکستانی شہریوں کو مشرقی لیبیا کے شہر تبروک سے تقریباً 5 میل دور جنوب میں الخیر کے علاقے میں سمگلروں کے ٹھکانوں سے بازیاب کر کے رہا کیا گیا۔العبرین کے مطابق بازیاب کرائے جانے والے تارکین وطن میں بچے بھی شامل تھے۔العبرین کے کارکن ایسریوا صلاح نے بتایا کہ پاکستانی تارکین وطن یورپ جانے کے ارادے سے لیبیا پہنچے تھے لیکن انہیں اسمگلروں نے اغوا کر لیا اور ان کی رہائی کے لیے تاوان کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ لیبیا افریقہ اور مشرق وسطیٰ سے یورپ جانے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کے لیے ٹرانزٹ پوائنٹ ہے۔العبرین نے سوشل میڈیا پربازیاب ہونےوالے پاکستانیوں کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں جن میں درجنوں پاکستانی تارکین وطن کو ایک گودام کے باہر بیٹھے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں سال جون میں ایک بحری جہاز جو لیبیا سے تقریباً 350 پاکستانیوں سمیت 700 تارکین وطن کو لے کر روانہ ہوا تھا یونان کے ساحل پر ڈوب گیا تھا جبکہ حادثے میں 12 پاکستانیوں سمیت صرف 104 افراد کو بچایا گیا تھا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481