اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

11 سالہ شہید محنت کش ابوذرسات بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا

c2820459 0f49 4f12 9

باجوڑ میں گذشتہ روز جے یو آئی کے ورکرزکنونشن  میں دہشت گردی کے نتیجے میں شہید ہونے والے گیارہ سالہ محنت کش ابوذر کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

ابوزر خان سکول سے چھٹیوں کے دوران چپس اور پاپڑ بیچ کر اپنے باپ کا سہارا بن رہا تھا،سات بہنوں کا اکلوتابھائی نئے کپڑے پہن کر کنونشن میں گیاتھا،اور پھرانہی کپڑوں سے اسے پہچاناگیا۔  غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا ابوذر گھر کا کفیل بھی تھا۔ وہ اپنی موت سے کچھ لمحے قبل تک گھر کی گزربسر کے لیے جلسے میں گھوم پھر کر چپس اور پاپڑ بیچ رہا تھا مگر رزق کماتے کماتے خود موت کا رزق بن گیا۔

دھماکے کی خبروں کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ضلع باجوڑ کے علاقے زندگی موڑ کے رہائشی 11 سالہ ابوذر کی تصاویر کے ساتھ اس کی گمشدگی کا اعلان کیا جانے لگا۔چند گھنٹے گزرے تو یہ پریشان کن انکشاف ہوا کہ کمسن ابوذر خان بھی اس خودکش دھماکے میں شہید ہونے والوں میں شامل ہے۔ خودکش بم دھماکے کے بعد پورے باجوڑ میں سوگ کا سماں ہے اور سوشل میڈیا پر کنونشن کے دیگر شہداکے ساتھ ساتھ ابوذر خان کی تصاویر بھی شیئر کی جا رہی ہیں اور صارفین شدید صدمے کا اظہار کر رہے ہیں۔

ابوذر خان کی پرانی تصاویر کے ساتھ ساتھ ان کی ایک حالیہ تصویر بھی شیئر کی جا رہی ہے جس میں یہ بچہ ایک تابوت میں سفید کفن میں لپٹا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

ابوذر کے والد جاوید خان اپنے علاقے سے دور لوئر دیر میں ریڑھی لگا کر خاندان کی کفالت کرتے ہیں۔جاویدنے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرا بیٹا چھٹی جماعت کا طالب علم تھا، اور ان دنوں سکول کی چھٹیاں تھیں تو وہ علاقے میں چپس اور پاپڑ وغیرہ فروخت کرنے کے لیے جلسہ گاہ گیا تھا۔جاوید خان کے مطابق ابوذر نے دوپہر کو اپنی بہن سے کہا کہ مجھے میرے کپڑے چاہئیں۔ کپڑے بدلنے کے بعد دو بجے کے قریب وہ گھر سے باہر نکل گیا،جس مقام پر دھماکہ ہوا وہ ہمارے گاؤں کے قریب ہی واقع ہے، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی میں بھاگا بھاگا ہسپتال پہنچا اور زخمیوں میں اپنے بچے کو تلاش کیا لیکن وہ نہیں ملا۔میں نے اس کے بعد مردہ خانے کا رُخ کیا تو چار پانچ لاشیں پڑی ہوئی تھیں، وہاں میں نے اپنے بیٹے کو اس کے کپڑوں کے رنگ سے پہچان لیا۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481