اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

80 روز بعد رہائی ملنے پرعلی محمد کا والہانہ استقبال

80 روز بعد رہائی ملنے پرعلی محمد کا والہانہ استقبال

80 روز بعد رہائی ملنے پرعلی محمد کا والہانہ استقبال

تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کو 80 روز بعد جیل سے رہائی مل گئی جس کے بعد وہ گھر پہنچ گئے۔ راستے میں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ پشاور ہائیکورٹ نے علی محمد خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔

80 روز بعد رہائی ملنے پرعلی محمد کا والہانہ استقبال

80 روز بعد رہائی ملنے پرعلی محمد کا والہانہ استقبال

 

علی محمد خان کو 8 مرتبہ گرفتارکیا گیا، محکمہ انسداد دہشتگردی نے انہیں من پسند افراد کو ٹھیکے دینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا

جبکہ علی محمد خان کو توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے الزام میں بھی گرفتار کیا گیا۔ ایک کیس میں ضمانت منظور ہونے کے بعد پولیس دوسرے کیس میں گرفتار کر لیتی تھی۔

 

یہ بھی پڑھیں ورلڈکپ؛ شائقین کرکٹ کیلئے ای ٹکٹس کی خریداری سے متعلق بڑا اعلان

 

تفصیلات کے مطابق علی محمد خان کی درخواست ضمانت کی سماعت پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فضل سبحان پر مشتمل دو رکنی بنیچ نے کی

جبکہ درخواست گزار کی طرف سے علی زمان اور ندیم شاہ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے علی محمد خان کی بار بار گرفتاری پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا

 ۔اس موقع پر جسٹس اعجاز انور نے اگلی پیشی پر ڈپٹی کمشنر مردان کو خود پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ

اگر ایک ڈپٹی کمشنر کو عبرت کا نشان بنائیں گے تو پھر غیر قانونی کام کوئی نہیں کرے گا۔

فاضل جج نے اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر مردان سے استفسار کیا کہ آپ نے علی محمد خان کو کیوں گرفتار کیا ہے ،

انہوں نے جواب دیا کہ ڈی پی او کے خط  پر ہم نے 3 ایم پی اوکے تحت گرفتار کیا۔

عدالت نے کہا کہ علی محمد خان تو 2 ماہ سے جیل میں ہیں، پھر کیسے امن و امان  خراب کیا

،آپ کو کوئی کچھ بھی کہے گا تو اپ کریں گے، کیا آپ اپنی سوچ نہیں رکھتے۔

عدالت نے ڈپٹی کمشنر مردان کو 8 اگست کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ علی محمد خان 80 دن بعد جیل سے رہا ہوئے، اس دوران


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481