اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مصطفیٰ زیدی سے شارق جمال خان تک—-ملیحہ سید

aa

مصطفیٰ زیدی سے شارق جمال خان تک

b

تحریر ملیحہ سید

سیانے کہتے ہیں کہ تاریخ کبھی نہ کبھی اور کہیں نہ کہیں خود کو ضرور دوہراتی ہے ۔ واضح رہے کہ آج سے ٹھیک 53 برس قبل پولیس، مجسٹریٹ اور محلے کے لوگ کراچی کے علاقے کے ڈی اے کے ایک فلیٹ کا دورازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے،یہ فلیٹ 24 گھنٹوں سے بند تھا۔ نہ دستک کا جواب مل رہا تھا اور نہ ہی کوئی اندر سے فون اٹھا رہا تھا۔

فلیٹ کے اندر ایک شخص کی لاش بستر پر پڑی ہوئی ملی۔ ناک سے خون بہتا ہوا بستر پر ایک بڑے دھبے کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ تکیے اور بستر کی

aa

چادر پر بھی خون کے دھبے تھے، ٹیلی فون الٹا پڑا تھا اور بستر پر فنائل کی گولیاں بکھری تھیں جبکہ ساتھ والے کمرے میں ایک خاتون بےہوش پڑی ہوئی ملیں ،جسے بعد میں اخباروں نے خوبرو، قتالہ کے نام سے لکھا اور پکارا۔

یہ شخص اردو کے معروف شاعر مصطفیٰ زیدی تھا اور خاتون شہناز گل تھیں۔ جن کے عشق میں مصطفیٰ زیدی مبتلا تھے اور جو ان کی شاعری کا محور اور مرکز بن چکی تھی۔

مصطفیٰ زیدی نے جرمن خاتون ویرا فان ہل سے شادی کی تھی جن سے ان کے دو بچے تھے مگر وہ شادی شدہ شہناز گل کے حسن کے اسیر ہوئے اور شہناز کا نام لے لے کر خوب خوب شاعری بھی کی۔

ان کی وفات کے بعد شائع ہونے والے مجموعے ’کوہِ ندا‘ میں شہناز کے عنوان سے ایک دو نہیں بلکہ چھ نظمیں ہیں۔

فن کار خود نہ تھی، مرے فن کی شریک تھی
وہ روح کے سفر میں بدن کی شریک تھی
اترا تھا جس پہ بابِ حیا کا ورق ورق
بستر کے ایک ایک شکن کی شریک تھی
۔۔۔۔۔

لے چلی تھی مجھے ذروں کی طرح بادِ سموم
تو نے ہیروں کی طرح مجھ کو سنبھالا رکھا
اس پہ ممنوع تھی اک بوند کی فیاضی بھی
تو نے جس ہونٹ پہ کوثر کا پیالا رکھا

۔۔۔۔۔

بزمِ ارواح تھی یا تیرے دہکتے ہوئے ہونٹ
واقعہ ہے کہ گماں تھا کہ یہیں تھا کوئی
شاعرو، نغمہ گرو، سنگ تراشو، دیکھو
اس سے مل لو تو بتانا حسیں تھا کوئی

53 سال کے بعد آج لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے میں یہی منظر دوبارہ دیکھنے کو ملا جب سابق ڈی آئی جی شارق جمال خان کی ناگہانی موت کے بارے میں میڈیا میں خبریں چلیں۔ نیوز رپورٹس کے مطابق شارق جمال نے اپنے 2 ملازمین کو کام سے گھر سے باہر بھیجا تھا، جیسے ہی ملازم گھر واپس آئے تو ڈی آئی جی کو مردہ پایا جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔

ذرائع کا کہناہے کہ ڈی آئی جی شارق جمال کے اہل خانہ دوسرے گھر میں موجود تھے۔ پولیس کی جانب سے واقعہ کی مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ شارق جمال ڈی آئی جی ٹریفک اور ڈی آئی جی ریلویز بھی رہے جبکہ ان دنوں وہ او ایس ڈی کے عہدے پر فائز تھے۔ شارق جمال بھی شاعر تھے اور ان کے دو شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔رپورٹس کے مطابق فلیٹ میں ان کے ساتھ ان کی خاتون دوست موجود تھیں جو خود بھی سرکاری افسر ہیں اور ادب سے بھی شغف رکھتی ہیں ۔ خاتون کو شاملِ تفتیش کر لیا گیا ہے ۔

مصطفیٰ زیدی اور شارق جمال خان میں بہت کچھ مشترک ہونے کی وجہ سے میں یہ تحریر لکھنے پر مجبور ہوئی۔۔۔ جیسا کہ

۔۔۔دونوں 20 گریڈ کے افیسر تھے
۔۔۔دونوں او ایس ڈی تھے
۔۔۔دونوں شاعر تھے
۔۔۔دونوں کی وفات کے وقت ان کی فیملی کی بجائے ان کی خاتون دوست موجود تھیں۔
۔۔۔مصطفے ذیدی کے وفات کے وقت شہناز گل ان کے ساتھ تھی۔۔۔ اور شارق جمال خان کے پاس ۔۔ اسلام آباد کی قرتالعین تھی۔۔۔

a 2
شہناز گل بھی شادی شدہ تھی۔۔۔قرتالعین بھی شادی شدہ ہے۔۔۔

دونوں کا تعلق ایک دوسرے سے کس نوعیت کا ہے اور خاتون وہاں کیا کر رہی تھیں ، تحقیقات جاری ہیں ۔ تاہم اوپر دیے گئے کافی سارے مماثلت کم از کم یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ہمارا حساس طبقہ اپنے رشتوں کے معاملے میں اتنا حساس نہیں جتنا انہیں ہونا چاہیے کیونکہ سکون جیسی خواہشات کے تعاقب میں وہ غیر فطری حالات کا شکار ہو کر زندگی کی دوڑ سے نکل جاتے ہیں ۔

شہناز گل پر دو سال تک مقدمہ چلا اور بالآخر 26 مئی 1972 کو ڈسٹرک مجسٹریٹ کنور ادریس کی عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ مصطفیٰ زیدی نے خودکشی کی تھی۔ شہناز گل کو ناکافی ثبوت کی بنا پر بری کر دیا گیا۔ اس واقعے اور اس میں شامل کرداروں کا فیصلہ بھی آنے والا وقت بتائے گا ۔ ملیحہ سید

نوٹ۔۔۔۔شہناز گل کے کردار کو بھی اس وقت اخبارات نے کھل کر بیان کیا ۔۔ ان کا تعلق سمگلروں کے ساتھ بتایا گیا اور بھی بہت کچھ ۔۔۔ جو آپ کو گوگل کرنے پر مل جائے گا .


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481