اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"قصہ ایک زرعی ملک کا”

PicsArt 04 26 11.05.07 1

landscape 3 2 1690117355309

آئیے ہم آپ کو ایک ایسے ملک سے متعارف کرواتے ہیں جو اپنی تخلیق کے فورا بعد ہی ایک زرعی ملک کے طور پر معروف ہوا۔ پہلے اس کے دو حصے تھے لیکن ایک حصے میں پٹ سن اور چاول پیدا ہوتا تھا لیکن وہاں کے لوگ روٹی بھی کھاتے تھے اور جسمانی طور پر کمزور ہونے کے باوجود سوچتے اور بولتے بھی تھے اس لیے ہم نے ان کو خود سے دور کر دیا۔ اس کارنامے میں بھی محکمہ زراعت نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔

آدھے ملک کی معیشت کے اتار چڑھاؤ میں محکمہ زراعت کا کردار ہمیشہ بنیادی نوعیت کا رہا۔ یہاں پر محکمہ زراعت کے ایک سربراہ نے زرعی انقلاب لانے کا دعوی کیا۔ لیکن اسی دور میں دیگر کئی بیماریوں کے علاوہ امریکن سنڈی جیسی موذی اور تباہ کن سنڈی نے ہمارے ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔ لیکن حیرت اور تاسف کی بات یہ ہے کہ محکمہ زراعت کے اعلی افسران کو ان بیماریوں اور خصوصا امریکی سنڈی سے بے پناہ فائدہ پہنچا۔ محکمہ زراعت نے ان بیماریوں اور امریکی سنڈی کے سدباب کے لیے بہت زیادہ بجٹ مختص کیا اور متعدد ادویات کے علاوہ مختلف سپرے بھی استعمال کیے گئے۔ لیکن ان ساری کاوشوں سے ملک کے ماحول پر بہت برے اثرات مرتب ہوئے۔ بدقسمتی سے امریکن سنڈی کے کنٹرول کی کوششیں بارآور ثابت نہ ہو سکیں۔ ہاں بہت سے فیض رساں اور معاون مقامی کیڑے صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔

images 11

محکمہ زراعت نے مقامی کے بجائے بہت سے درآمد شدہ درختوں کی افزائش پر بھی خصوصی توجہ دی‌۔ لیکن ان غیر موزوں اشجار نے ایسی ایسی بیماریوں کو جنم دیا جن کا علاج دوبئی، لندن، امریکہ اور آسٹریلیا کے علاوہ کہیں ممکن ہی نہیں۔ ہاں روحانی آسودگی کے لیے کچھ بیماروں نے سعودی عرب کا بھی رخ کیا۔

محکمہ زراعت میں نچلا طبقہ بے چارہ ہر دور میں کسمپرسی اور مشکلات بھری زندگی گزارنے پر مجبور رہا۔ جب کہ اعلی افسران نے پر تعیش زندگی کے مزے لوٹنے کی وہ مثالیں قائم کی ہیں کہ الحفیظ والامان۔ وہ ائرکنڈیشنڈ گاڑیوں اور محلات کے اس قدر عادی ہو گئے ہیں کہ ان کا اپنے محکمانہ کام سے کوئی واسطہ ہی نہیں رہا۔ انھوں نے بابائے قوم کے فرمان ” کام، کام اور کام” سے متاثر ہو کر "اور کام” شروع کر دیے جن میں سے ایک "کرپشن” بھی ہے۔

سب سے حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ محکمہ زراعت کے اعلی افسران نے خود ہی اپنے محکمے کو تباہی کے دھانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اب اس محکمے میں پیشہ ورانہ صلاحیتیں، بہادری اور دیانت داری جیسے جوہر رکھنے والوں کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ بلکہ ایسے لوگ جو اس محکمہ کی نیک نامی کو بحال کرنے کی کوشش کریں ان کی زندگی اجیرن بنا دی جاتی ہے۔ محکمہ زراعت کے اعلی افسران کی اکثریت امریکن سنڈی کی نشو و نما میں بنیادی کردار ادا کر کے دشمنوں سے انعام اور مراعات حاصل کرتی ہے۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ ٹیم ورک کے ذریعے کام ہوتا ہے۔ یہ افسران امریکن سنڈی کی بقا اور فروغ کے لیے ہمہ وقت منظم جدو جہد کرتے ہیں جب کہ تقاریر میں وہ اس عزم کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ فصلوں کی تباہی کے ذمہ دار کیڑوں بہ شمول امریکی سنڈی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

محکمہ زراعت کے اعلی افسران پر تعیش طرز زندگی کے عادی ہو کر اب اتنے نازک اور سہل پسند ہو چکے ہیں کہ وہ دھوپ میں نکل ہی نہیں سکتے۔ اس مسئلے کا حل انھوں نے یہ نکالا ہے کہ وہ کسی خوشگوار دن میں اسلام آباد، لاہور یا فیصل آباد میں ایک زرعی نمائش کا اہتمام کرتے ہیں۔ بڑی بڑی شخصیات کو مدعو کیا جاتا ہے اور ببانگ دھل اعلانات کیے جاتے ہیں کہ ہمارا محکمہ زراعت دنیا کا بہترین محکمہ زراعت ہے اور اس کا مقابلہ مشکل نہیں ناممکن ہے۔

images 15

ایسی تقریبات کی کوریج کے لیے مختلف ممالک کے سفیروں کے علاوہ عالمی میڈیا کو بھی مدعو کیا جاتا ہے۔ یوں دنیا بھر کا میڈیا محکمہ زراعت کی حسن کارکردگی کے گن گاتا اور منہ مانگے دام وصول کرتا ہے۔

حقیقت حال یہ ہے کہ محکمہ زراعت کے اعلی افسران جن عیاشیوں کے رسیا ہو چکے ہیں اب ان کے لیے ائرکنڈیشنڈ ٹریکٹر اور دیگر زرعی مشینیں ناگزیر ہیں۔ اس لیے اس مسئلے کا بہترین حل تو یہی نظر آتا ہے کہ محکمہ کو اس کے اعلی افسران کی پہنچ سے دور رکھا جائے۔ اعلی افسران کی مراعات کو دوگنا کر دیا جائے۔ ان کے محلات کو مشرق وسطی کے بادشاہوں کے محلات کے مماثل یا ان سے بھی بہتر بنا دیا جائے۔ ان کی سہولیات میں ہوش ربا اضافہ کر دیا جائے۔ ان کی تنخواہیں اور مراعات جس نوعیت کی بھی ہوں لیکن ان کے ذرائع آمدن پر کوئی قدغن نہ لگائی جائے تاکہ جب وہ ریٹائر ہوں تو ان کے خزانے قارون کے خزانوں سے کسی طرح بھی کم نہ ہوں۔

images 1

images 10 1


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481