اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آصف زرداری نےپیر پاگارہ کو کیسے رام کیا؟

a20994a6 6a22 48d3 a8c5 f4e5b6170820 1

تحریر۔آغاخالد (دوسری اور آخری قسط )

مگر دوسری طرف بھی آصف زرداری تھے وہ جونہی کنگری ہائوس پہنچے تو سامنا ہوتے ہی پیر صاحب پاگارہ کے پاؤں پڑگئے جس سے بقول راوی  پیر صاحب کا آدھا غصہ تو وہیں جاتارہا پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہی زرداری صاحب نے پیر جوگوٹھ کی درگاہ کا ذکر چھیڑ دیا اور بولے پچھلے دنوں میرا وہاں سے گزر ہوا تو درگاہ کی خستہ حالت دیکھ کر میں نے فیصلہ کیاتھا کہ سندھ کے اس عظیم اثاثے کی مرمت پونی چاہئے یہ کہہ کر وہ اٹھے اور ایک بھاری پیکٹ اپنے پی اے سے لے کر پیر صاحب کی خدمت میں پیش کردیا اور پھر اس کے بعد بقول شاعر چراغوں میں روشنی نہ رہی ۔

ملاقات میں کوئی بڑا بریک تھرو تو نہ ہوا اور نہ ہی پیر صاحب نے واضح طور پر حکومت کو حمایت کی کوئی یقین دہانی کروائی مگر ان کے نرم رویہ کی وجہ سے آصف زرداری کو بڑا حوصلہ ملا اور اس ملاقات کے اختتام کے ساتھ ہی زرداری صاحب بلاول ہائوس کے فون سے اسلام آباد محترمہ کو کامیابی کی نوید سنارہے تھے،

نیب ترامیم کا فائدہ: نواز، زرداری اور گیلانی کیخلاف ریفرنس واپس

زرداری صاحب روایتوں کی پاسداری کرنا بھی خوب جانتے ہیں۔ وہ جب ملکی تاریخ کی طویل ترین 12 سالہ سیاسی جیل کاٹ کر رہاہوئے اور پھر طویل جدوجہد کے بعد ملک کے صدر منتخب ہوئے تو انہوں نے کراچی کے اپنے پہلے دورے میں بلاول ہاؤس میں میڈیا سیل سے کہا کہ وہ شہر کے "کورٹ رپورٹرز” کے اعزاز میں ضیافت دیناچاہتے ہیں۔ زرداری صاحب کو جیل سے عدالتوں میں لایا جاتا تو جن رپورٹرز سے ان کی ملاقاتیں رہتیں وہ ملک کا سب سے بڑا عہدہ حاصل کرنے کے باوجود انہیں نہ بھولے۔

اس تقریب میں قومیت،مذہب،ادارے یا سیاسی وابستگی سے قطع نظر شہر کے سب” کورٹ رپورٹرز” کو مدعو کیاگیا تھا۔ ہال کھچا کھچ بھراہواتھااور کھانے سے پہلے کچھ رپورٹرز کی فرمائش پر حصول خبر کے لئے سوال کئے جانے لگے تو زرداری صاحب نے بڑے بے تکلفانہ انداز میں کہاکہ "سجنو، ساتھیو آج خبر کی کوئی بات نہیں ہوگی” میں نے آپ لوگوں کو اس لئے آج بلایاہے کہ آپ لوگ میرے برے وقت کے دوست ہو، میں ملکی سیاسی تاریخ کی طویل جیل کاٹ کر سرخ رو ہوا تو اس میں آپ لوگوں کے تعاون کو بڑا دخل تھا اب میں آپ کے کسی کام کے قابل ہوا ہوں تو میں چاہتاہوں کہ اپنے مسائل بتائیں جو میں حل کرسکوں۔

zardarimeetshujaa

اس موقع پر کراچی کی مثالی صحافت پھر جیت گئی کہ سوائے ایک آدھ کے کسی نے کوئی ذاتی مسلہ بیان نہیں کیا نہ ہی مدد مانگی۔ اس نشست میں اردو میں بات چیت جاری تھی کہ اچانک ایک "سندھی رپورٹر” نے کھڑے ہوکر سندھی میں فریاد کرنا شروع کی کہ سائیں کراچی پریس کلب کو سندھ حکومت ہرسال مالی گرانٹ دیتی ہے جبکہ کراچی پریس کلب میں ہم سندھیوں کو ممبر شپ نہیں دی جارہی پھر اس نے "سندھ سندھیوں کاہے” کے حوالے سے لمبی  جزباتی تقریر شروع کردی ۔زرداری صاحب اس کی چالاکی پر اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے اس کی بات کاٹ کر بولے، "بابا اگر تمہارے اپنے صحافی بھائی تمہیں قبول نہیں کرہے تو سندھ حکومت یا میں کیا کرسکتے ہیں”، اور منہ دوسری طرف پھیر لیا۔

asif ali zardari

محترمہ بے نظیر بھٹو کے شوہر اور مستقبل کے بڑے لیڈر بلاول بھٹو کے والد آصف علی زرداری کی خوبیوں اور خامیوں کاشمار گر کیا جائے تو بلاشبہ 98 فیصد ان میں خوبیاں ہوں گی مگر 2 فیصد خامیاں اتنی بڑی ہیں کہ 25 سال سے ان کی نیکیوں کو "ہڑپ”رہی ہیں، وہ بہترین سیاستداں کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے مگر "کامیاب نہیں”۔ وہ بہتریں سیاسی پتے کھیل کر ہرطرف چھاجاتے ہیں مگر ہمیشہ آخری لمحوں میں "قسمت” کے ہاتھوں کامیابی ریت کی طرح ان کی مٹھی سے پھسل جاتی ہے،

2022 میں عمران خان کے اقتدار کی قبر کھودنے اور شہباز کو سب سے بڑے ملکی منصب پر فائز کرکے اپنے بادشاہ گر کے خطاب پرمہر تصدیق ثبت کرڈالی اور موجودہ گیم چینجر کے موجد بھی کہلائے مگر بیٹے کے لئے ہرگزرتے دن کے ساتھ کامیابی ان سے دور ہوتی جارہی ہے 2008 میں ان کی جھولی میں اقتدار ایسے آن گرا کہ 1971 میں بھٹو کی مثال یاد آگئی مگر مکمل اختیارات کے ساتھ ایسا شاندار "تخت پاکستان” ملنے کے باوجود وہ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے معاملے پر غلطی کربیٹھے اور پھر پورے 5 سال انہیں بھگتنا پڑا افتخار چودھری ان کے لئے ایسی گولی بن گیا جو نہ نگلی اور نہ ہی اُگلی جاسکتی تھی، 2012 میں جنرل پاشا کے بہکاوے میں آکر ن لیگ کا پنجاب سے صفایا کرانے کی خاطر پی ٹی آئی کے جلسوں کو افرادی قوت فراہم کی اور غیر اعلانیہ اس کی بھرپور مدد کرتے رہے۔ ن لیگ تو اپنی جگہ کھڑی رہی ،خود زرداری صاحب کے ووٹ بینک پر جھاڑو پھر گیا اور پی ٹی آئی پہاڑ بن کر ان کے سامنے آن کھڑی ہوئی اور اب ایک بار پھر…

zardari1

کچھ لوگ ازراہ تفنن کہتے ہیں کہ شاید زرداری صاحب کا پیر کامل نہیں، صحت کے پیچیدہ مسائل میں گھرے زرداری صاحب اقتدار کی بھول بھلیوں میں زندگی کی شاید آخری اور سب سے بڑی اننگ کھیلنے نکلے ہیں وہ اپنے اکلوتے اور اعلی تعلیم یافتہ بیٹے بلاول کو وزیر اعظم کے منصب پر فائز دیکھنا چاہتے ہیں مگر کھیل کے آخری راؤنڈ میں ہمیشہ کی طرح کامیابی ان کی مٹھی سے پھسل رہی ہے کیونکہ ہمارے ملک کی طاقت ور اسٹبلشمنٹ اور بین الاقوامی قوتیں شہباز شریف کے سحر میں، گھر چکی ہیں تاہم سیاست کے اس بوڑھے جادو گر کے ہاتھ میں اب بھی کچھ پتے تو ہونگے اور کوئی بعید نہیں کہ آخری پتہ کھیل کر وہ سارا منصوبہ الٹ دے اس نے اپنے ہونہار بیٹے کو اقتدار کی سنگھا سن پر بٹھانے کو شطرنج کی جو چال بچھائی ہے اس میں سندھ کے ساتھ بلوچستان میں اگلی صوبائی حکومتیں پی پی کی ہون گی۔

اس سب کے بعد بھی سیاسی بساط بچھانے اور طاقت کے اس کھیل میں اصل فیصلہ تقدیر کو کرناہے اور وہی حتمی فیصلہ کرے گی کہ 2024 کے اقتدار کا ہما کس کے سرپر بیٹھے گا-


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481