کوہسار نیوز خصوصی رپورٹ
ملکہ کوہسار مری یوں تو گرمائی سیزن کے حوالے سے اس وقت خبروں کی زینت بنا ہوا ہے اور ہر چھوٹے بڑے چینل کے نمائندے کے علاوہ وہاں تعطیلات گزارنے کے لیے جانے والے سیاح بھی انفرادی طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے مری کی کوئی نہ کوئی خبر یا ویڈیو شیئر کرتے دکھائی دیتے ہیں جسے مری کے مقامی لوگ سیاحت کی ترقی کے حوالے سے تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں مگر گزشتہ دو روز سے مری شہر کے حوالے سے جو خبریں سامنے آئی ہیں وہ سیاسی و غیر سیاسی اور کسی حد تک مذہبی اشرافیہ کے ایسے پر آسائش پروگراموں کے حوالے سے ہیں جو کسی نہ کسی لحاظ سے عام آدمی کے لیے مشکلات پیدا کرنے اور دل آزاری کا سبب بنے ہیں۔
ہفتے کے روز ایک بڑی گدی یا خانقاہ کی جانب سے مری میں ایک بڑی تقریب منعقد کی گئی جس کے شرکا سینکڑوں بڑی گاڑیوں کا لشکر لے کر آئے، جس کے ساتھ ٹریفک اور پروٹوکول کی متعدد گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ اس طرح گرمائی سیزن کے عین عروج پر جب مری شہر میں پارکنگ تو کجا ، تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی۔ سرکاری پروٹوکول اور جاہ و جلال کے ساتھ یہ محفل منعقد کی گئی جو کئی گھنٹے جاری رہی اور مری شہر سمیت جھیکا گلی اور گرد و نواح کی رابطہ سڑکوں پر بھی بدترین ٹریفک جام رہا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مری کے روایتی میڈیا نے اس حوالے سے خالصتا” "مثبت رپورٹنگ” کا مظاہرہ کیا تاہم نوجوانوں کی تیزی سے مقبول ہوتی تنظیم مری ڈیویلپمنٹ فورم نے اس معاملے کو ہائی لائٹ کیا جسے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی اور عام لوگوں نے بھی شدید رد عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔
اس سے ملتی جلتی خبر اتوار کے روز سوشل میڈیا ہی کے ذریعے سامنے آئی اور اس خبر کو بھی اتفاق سے مری ڈیویلپمنٹ فورم کی جانب سے ہی بریک کیا گیا۔ اس خبر میں بتایا گیا کہ گورنر ہاؤس مری اور فارسٹ ریسٹ ہاؤس مری سمیت تمام مقامی سرکاری اقامت گاہیں چیف سیکرٹری پنجاب کی صاحبزادی کی منگنی یا نکاح کی تقریب میں شرکت کرنے والے ڈھائی سے 300 مہمانوں کے لیے دو روز سے بک ہیں۔

اب ظاہر ہے صوبے کے سب سے بڑے سرکاری افسر کی خاندانی تقریب کے لیے درکار جاہ و جلال اورحیش و حشمت کا تقاضا تو یہی ہے کہ 300 مہمانوں کو لانے والی گاڑیوں کی تعداد بھی ڈیڑھ 200 سے کم نہیں ہوگی اور ان میں اگر سو کے قریب گریڈ 20 یا زائد کے افسران مدوعوئین میں شامل ہوں تو انہیں ڈسٹرکٹ پولیس اور ٹریفک پولیس کا "جائز” پروٹوکول بھی حاصل ہوگا۔جب یہ مہمان ہوٹر والی گاڑیوں کے تام جھام کے ساتھ مری کی شاہراہوں سے گزریں اور مہمان خانوں میں قیام کریں گے تو آٹے دال کے لیے محنت مشقت کرنے اور قطاروں میں لگنے والا عام آدمی ڈوبتی معیشت پر ان تعیشات کے چونچلوں کو دیکھ کر اپنی نبض ڈوبتی ہوئی محسوس کرے گا، یہی حال آج مری والوں کا ہے۔ مقامی لوگوں اور سیاحوں کے مطابق "صاحب بہادر” کے مہمانوں کی قیام گاہوں اور گزرگاہوں سے ملحقہ تمام علاقے مری کے لوگوں اور سیاحوں کیلئے "نو گو ایریاز” بنے رہے۔
