اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

آئی ایم ایف قرضہ عوام کیلئے سوہان روح بن گیا، بجلی کے بعد گیس مہنگی کرنے کی تیاری

1x 1

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کیلئے  قرض پروگرام کی منظوری کو اگرچہ خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ تاہم یہ پروگرام اپنے ساتھ کئی کڑی شرائظ لانے کی وجہ سے  عوام کیلئے سوہان روح بن گیا ہے، بجلی  کے ٹیرف میں کموبیش پانچ روپے فی یونٹ اضافے کے بعد اب  گیس مہنگی کرنے کی تیاری بھی شروع کر دی گئی ہے۔

ذرائع  کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو بتا دیا گیا ہےکہ گیس کی قیمتوں پر ورکنگ جاری ہےاور یہ  اضافہ ہر صورت ہوگا کیونکہ اس حوالے سے  حکومت نےآئی ایم ایف سے تحریری معاہدہ کر رکھا ہے، اب صرف اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہےکہ کس سلیب کے صارفین کے لیےگیس مہنگی کی جائے۔

آئی ایم ایف مشن آج رات پاکستان پہنچے گا

وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق ماہانہ 300 مکعب میٹر اور اس سے اوپر والے گھریلو صارفین کے لیے گیس پہلے ہی بہت مہنگی ہے،چنانچہ  کوشش کی جا رہی ہےکہ آخری تین مہنگے ترین گیس سلیب  میں ردوبدل نہ کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت ماہانہ 300مکعب میٹر تک گیس کے استعمال پر فی ایم ایم بی ٹی یوقیمت 1100روپے ہے، اسی طرح ماہانہ 400 مکعب میٹر استعمال تک فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت 2000 روپے ہے،جبکہ ماہانہ 400 مکعب میٹر سے زائد استعمال پر فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت 3100 روپے ہے،

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تین کے علاوہ باقی تمام سلیبز اور سیکٹرز کے لیےگیس کی قیمت کی ایڈجسٹمنٹ ہوگی، کوشش کی جارہی ہے کہ باقی گھریلو صارفین پر کم سے کم بوجھ پڑے۔ ذرائع وزارت توانائی کا کہنا ہےکہ گیس کی قیمتوں میں اضافےکے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹیکو تفصیلات آئندہ ہفتے پیش کی جائیں گی۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481