صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے بھارت میں اقلیتوں پر بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف قرارداد اس بات کا برملا اظہار ہے کہ بھارت میں مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسی کی وجہ سے بھارتی عزائم عالمی برادری کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں اور دنیا اب مودی کی انتہاء پسندانہ پالیسیوں کو جان چکی ہے لہذا اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بھارت کے مکروہ چہرے کو عالمی برادری کے سامنے آشکار کریں۔
انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر اوباما نے کہا تھا کہ اگر بھارت میں اقلیتوں کے خلاف اسی طرح کی پالیسی رہی تو اُس کا شیرازہ بکھرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔جبکہ میں کہتا ہوں کہ مودی بھارت کا گوربا چوف ثابت ہو گا اور مودی کی توسیع پسندانہ اور انتہاء پسندانہ پالیسیوں کے باعث بھارت کو بکھرنے سے اب کوئی نہیں روک سکتا۔ جبکہ گزشتہ روز یورپی پارلیمنٹ نے بھارت میں مقیم اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ایک مذمتی قرارداد پاس کر کے اس بات پر مہر ثبت کر دی ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ حال ہی میں بھارت کے علاقے منی پور میں عیسائیوں کو مذہبی تعصب کا نشانہ بنایا گیا اور اُن کی عبادت گاہوں اور گھروں کو مسمار کیا گیا جس سے مودی سرکار کی انتہاء پسندانہ سوچ کا اعادہ ہوتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یورپی پارلیمنٹ کی طرف سے بھارت میں بڑھتی ہوئی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف مذمتی قرارداد کی منظوری پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔
