اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر سیلاب کے باعث درجنوں دیہات زیر آب

بھارتی ریلوں سے پنجاب میں بڑی تباہی،ایک لاکھ افراد متاثر

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر سیلاب کے باعث درجنوں دیہات زیر آب

بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کے بعد گنڈا سنگھ والا میں درجنوں دیہات زیر آب آ گئے ہیں، دیہاتی اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ علاقوں کا رخ کرنے لگے ہیں۔

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، پانی کی آمد 1 لاکھ 14 ہزار 260 کیوسک تک پہنچ گئی، اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا میں اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر سیلاب کے باعث درجنوں دیہات زیر آب

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر سیلاب کے باعث درجنوں دیہات زیر آب

 

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھکی والا ، مستے کی ، فتح والی ، ماہی والا اور چندا سنگھ کے دیہاتوں میں بھی ریسکیو کیمپس قائم کر دیئے گئے،

قصور کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 211 افسران و اہلکار ڈیوٹی دے رہے ہیں۔

 

8

پی ڈی ایم اے کے مطابق ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر پانی کی آمد 62118 اور اخراج 62118 ہے،

سیلابی پانی سے قصور اور اوکاڑہ سمیت متعدد دیہات زیر آب آئے ہیں۔

دریائے ستلج میں پاکپتن کے مقام پر بھی درمیانی سطح کے سیلابی ریلے کا الرٹ جاری کر دیا گیا،

8d

 

دریا میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث قریبی آبادیاں خالی کرا لی گئیں۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال کے ممکنہ اقدامات کیلئے ریلیف کیمپ قائم کر دیئے ہیں،

مشینری اور بوٹس کے ساتھ ریسکیو عملہ موجود ہے،

متعلقہ محکموں کو 24 گھنٹے ڈیوٹی پر الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ انسانی جانوں کو بچانے کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481