اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

”کاش کہ بچپن فر مڑ آئے“

FB IMG 1685506584702 3

 

تختی تختی دانہ دانہ…کل کی چھٹی پرسوں آنا۔
چھٹی چھٹنگ،
بڈھے باوے نی جنگ،
بڈھا مریا بڈھی تنگ،
میں نے جلدی سے اپنا پھول کلیاں قاعدہ بستے میں ڈالا اور باقی بچوں کے ساتھ قطار میں کھڑا ہو گیا۔کلاس وائز پانچ قطاریں تھیں،دو بچے قطاروں کے سامنے کھڑے ہو گئے اور اونچی آواز سے پڑھنے لگے:
ہک دونہ دونہ دو دونے چار
ترے دونے چھ چار دونے آٹھ…..

ہک تِریوں تِریوں دو تِریوں چھ
ترے تِریوں نو چار تِریوں باراں…..

ہک چوکا چوکا دو چوکے آٹھ
ترے چوکے باراں چار چوکے سولاں….

ہک پانجا پانجا دو پانجے دس
ترے پانجے پندرہ چار پانجے وِی….

یہ 1985 کی سردیوں کی بات ہے جب میں پہلے دن سکول گیا تھا۔ملیشیاء رنگ کی شلوار قمیض،پلاسٹک کی جوتی اور لنڈے کی گرے رنگ کی بٹنوں والی جرسی پہنے،ہاتھ سے بنے کپڑے کے بستے میں ایک پراٹھا اور قاعدہ لے کر والد گرامی کی انگلی پکڑ کر میں سکول گیا۔سکول گھر سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔تصویر میں نظر آنے والے”دریو“ کے درخت کی نیچے استاد محترم کرسی پر تشریف فرما تھے۔ ارد گرد زمین پر جماعت چہارم تک کے بچے ٹاٹ بچھائے بیٹھے تھے۔پانچویں جماعت سنئیر ہونے کے ناطے لکڑی کے بنچوں پر بیٹھی تھی۔استاد جی کے سامنے ایک ٹیبل پر حاضری رجسٹر،بچوں کی قلمیں بنانے کے لیے چاقو اور کہو کے درخت کے دو ڈنڈے پڑے تھے۔

ffae253f 7979 4a15 afbd 0f0d0099a473
ساتھ ہی دو بڑے اور ایک چھوٹے کمرے پر مشتمل پتھر کی دیواروں اور ٹین کی چھت والی ایک عمارت موجود تھی جسے پرائمری سکول پھاگوعہ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ٹاٹ پر بیٹھے ہوئے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ کبھی موبائیل کی سکرین پر انگلی کے پوروں کی حرکت سے یوں اپنی کہانیاں انٹرنیٹ پر لوگوں کو سنایا کریں گے۔
استاد جی کےرعب و دبدبے کے علاؤہ عمدہ تدریس کے چرچے پورے گاؤں میں مشہور تھے کہ ماسٹر کمال بہت محنتی استاد ہے اور یہ بات سو فیصد سچ تھی۔آج تقریباً 38 سال بعد نقشہ بدل گیا ہے،استاد جی کب کے ریٹائر ہو گئے،عمارت کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی بس کچھ نشانات باقی ہیں،یہاں ٹاٹ پر بیٹھنے والے بچوں کے بالوں میں اب سفیدی آگئی ہے اور کچھ جوانی کے عالم میں اللہ کے حضور حاضری دے چکے ہیں۔
آج میں نے کچھ پل اس درخت کے نیچے اُس پتھر (تراڑ) پر بیٹھ کر گزارے جس پر استاد جی نماز ظہر ادا کیا کرتے تھے۔اردگرد نظر دوڑائی کہ مجھے میرے سارے سنگی نظر آجائیں اور میں اُنھیں آوازیں دے کر بولاؤں اور کہوں کہ چلو آج مل کر بیٹھتے ہیں اور بچپن کو اپنے ہم ذرا آواز دیتے ہیں لیکن مجھے دور دور تک کوئی سنگی نظر نہیں آیا،نہ استاد جی نظر آئے نہ اُن کی کرسی میز نظر آئے۔بس ایک یہ درخت نظر آیا جس نے مجھے میرے بچپن میں لوٹا دیا۔

سر تُوں لتھن دکھ دے سائے
کاش کے بچپن فر مڑ آئے
#ممتازغزنی


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481