اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مری میں پانی کا بحران – گھر گھر پریشانی

eb3323e7 a0f0 4fe1 9da5 9a7545cf3a62

مری کے متعدد گاؤں اس وقت پانی کے بحران کی وجہ سے پریشان ہیں. کہیں چشمے سُوکھے پڑے ہیں تو کہیں  چشموں سے پانی کی ترسیل منظم اور منصفانہ نہیں ہے۔ جہاں جہالت آڑے آتی ہے، وہاں جھگڑے فساد بھی ہوتے ہیں، اور پانی کی ضرورت بھی ایسی ہے کہ اس کے بنا زندگی پھر زندگی نہیں ہے۔ ہماری بستی بھی اس وقت پانی کی قلت کا شکار ہے، ہم کسی نہ کسی طرح مینیج کر رہے ہیں لیکن پھر بھی تنگی تو تنگی ہے ،جو رہتی ہے.

بدقسمتی سے سوائے بورِنگ کے ہمارے ہاں پانی کی دستیابی کا  کوئی خاطر خواہ متبادل حل نہیں ہے. اب جس گھر میں لوگ آسودہ ہیں وہ بورِنگ کروا لیتے ہیں، لیکن جو استطاعت نہیں رکھتے وہ لوگ پانی کی لائنوں کی مرمت اور منصفانہ تقسیم پر توانائیاں صرف کر کے نفرت انگیزی اور ناراضگیوں اور تنگیوں کا سامنا بھی کرتے ہیں۔ اس بار ہمارے گاؤں میں پچاس سے زائد بورِنگ ہو چکی ہیں اور ابھی جاری بھی ہیں۔ اور وقتی حل بھی یہی ہے.
بورِنگ کی کثرت، واٹر ٹیبل کو نیچے کر دیتی ہے. لیکن یہ وہ باتیں ہیں جو یہاں کہنا اور سمجھانا بے معنی ہیں کیونکہ پانی کی ضرورت جب تک پوری نہ ہو، علمی و سائنسی باتیں محض باتیں ہوتی ہیں.
مری پوری کا پانی، کہاں سے جنریٹ ہوتا ہے، کہاں تقسیم ہوتا ہے، کس طرح تقسیم ہونا چائیے، اس پالیسی پر آج تک کسی نے بات نہیں کی اور نہ ہی کوئی نظام وضع کیا گیا.
ان شاء اللہ پانی کے مسئلے پر ایک ماڈل بنا کر موجودہ ذرائع کو بروئے کار لا کر اہلیانِ علاقہ اور مری کے باسیوں کو ایجوکیٹ بھی کریں گے اور ریسوس فُل بھی کریں گے.
اس ضمن میں Aam Aadmi League – AAL کی ایک کمیٹی ایک پراجیکٹ پر کام کرے گی اور اسکا ماڈل پیش کرے گی. ان شاء اللہ ۔
ہم یہ چاہتے ہیں کہ پانی کے متعدد ذرائع جو کہ ضیاع ہو رہے ہیں انہیں محفوظ کیا جائے اور گرمیوں کے تین مہینے جو پانی کی ضرورت کے حوالے سے پریشان کُن ہیں ان کا پری پلان حفظ ما تقدم کے طور پر کیا جائے، تاکہ پھر سارا سال پانی کا مسئلہ حل ہو اور پانی کے مسئلہ کے علاوہ ہمارے لوگ اپنی توانائیاں دوسری مثبت چیزوں کی طرف دھیان دیں.
ساتھ ساتھ رہیے گا۔

#حمادسکندر


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481