اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر ترین نے خود کشی کر لی

جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر ترین نے خود کشی کر لی

لاہور ،جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر ترین نے خودکشی کر لی۔ پولیس ذرائع کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کے پیٹرن انچیف جہانگیر خان ترین کے بھائی عالمگیر ترین نے پستول سے اپنے سر میں گولی مار لی۔

 

جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر ترین نے خود کشی کر لی

جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر ترین نے خود کشی کر لی

یہ بھی پڑھیں اسلام آباد پولیس کا اہلکار فائرنگ سے شہید

 

عالمگیر ترین معروف بزنس مین اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی ٹیم ملتان سلطانز کے مالک اور مینیجنگ ڈائریکٹر تھے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے عالمگیر ترین لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع اپنے گھر میں تھے،

وہاں سے اطلاع ملنے پر پولیس پہنچی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق عالمگیر ترین نے خود کشی سے قبل ایک تحریر بھی چھوڑی ہے جس میں انہوں نے اپنی بیماری کا ذکر کیا ہے۔
عالمگیر ترین غیر شادی شدہ تھے، ان کی عمر 63 سال تھی، ان کی منگنی ہوئی تھی

اور وہ دسمبر میں شادی کرنے جا رہے تھے۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ جہانگیر خان ترین کو پارٹی اجلاس کے دوران بھائی کی خود کشی کی خبر ملی۔
دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے بھی

عالمگیر ترین خان کی خودکشی کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

عالمگیر خان دسمبر میں شادی کا ارادہ رکھتے تھے

جہانگیر ترین کے بھائی عالمگیر خان کی خودکشی نے سیاسی اور کاروباری حلقوں میں ہلچل مچا کر رکھ دی ہے ۔ اگرچہ ابتدائی خبروں میں یہ بتایا جا رہا تھا کہ عالمگیر خان کو صحت کے مسائل درپیش تھے تاہم ان کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ عالمگیر خان نے کبھی ایسے کسی مسئلے کا ذکر نہیں کیا۔ وہ صحت مند تھے ،ان کی عمر 63 برس تھی اور وہ دسمبر میں اپنی منگیتر سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
واضح رہے کہ عالمگیر خان گلبرگ لاہور کے ایک فلیٹ میں رہائش پذیرتھے۔ انہوں نے خودکشی سے پہلے ایک تحریر بھی چھوڑی ہے جس میں بیماری کا ذکر کیا گیا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481