اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

احساس کمتری کی وجہ سے نئی نسل کو مادری زبان سے محروم کرنا جرم عظیم ہے

1669864386597

یونیسف کی رپورٹ کے مطابق پہاڑی زبان جیسی قدیم، پرتاثیر، شیریں اور گہرائی اور گیرائی کی حامل زبان معدومی کے خطرات سے دوچار ہے۔ یقینا یہ ایک بڑا سانحہ ہے لیکن اس سے بھی بڑا سانحہ یہ ہے کہ ہماری عظیم الشان مادری زبان، جو بہ قول ڈاکٹر نصراللہ ناصر پنجابی سے بھی قدیم زبان ہے، میں ہمارے اجداد نے ضرب الامثال (آخان)، لوک کہانیوں، لوک گیتوں اور شاعری کو جس اعلی معیار و مقام پر لاکھڑا کیا تھا تحریری صورت میں یہ عظیم ورثہ محفوظ نہ رہ سکا۔

سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ احساس کمتری اور بے اعتنائی کے بہ سبب پہاڑی زبان ہماری نئی نسلوں کی زبان نہیں رہی۔ ہم اب خود اردو پڑھتے، لکھتے، بولتے ہیں اور مادیت پرستی کی وجہ سے اپنی نئی نسلوں کو انگریزی کا غلام بنا رہے ہیں کہ ہمیں ایک صریح غلط فہمی میں مبتلا کر دیا گیا ہے کہ انگریزی اور ترقی لازم و ملزوم ہیں۔

پہاڑی زبان کے چالیس فی صد الفاظ پہلے ہی متروک ہو چکے ہیں اور اگر ہماری بے حسی، احساس کمتری اور بے اعتنائی کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اگلے تیس سالوں میں مزید چالیس فی صد الفاظ موت کا شکار ہو جائیں گے اور یوں یہ قدیم اور عظیم زبان معدومیت کے قریب ہو جائے گی۔

مجھے عام لوگوں سے کبھی شکوہ نہیں رہا، اس لیے کہ ان کے پاس علم، شعور اور آگہی کی کمی ہے۔ لیکن پڑھے لکھے اور صاحب علم و مطالعہ احباب اگر مادری زبان کی اہمیت سے لاعلم ہوں تو اس سے بڑا کوئی المیہ ہو ہی نہیں سکتا۔

اہل روس کے ہاں سب بڑی بد دعا کیا ہے؟؟؟ "خدا کرے تو اپنی ماں کی زبان بھول جائے "۔

ہر بچے کی فطری زبان اس کی مادری زبان ہوتی ہے۔ بچہ ماں کی گود میں جو الفاظ سنتا ہے اور جو بے معنی اظہار غوں غاں کی صورت میں کرتا ہے وہ کس قدر فطری اور دل آویز ہے۔ یہی انسان کی مادری زبان ہے۔

مادری زبان پڑھائی نہیں جاتی بلکہ بچہ اسے حاصل کرتا ہے۔ اس لیے مادری زبان کسی بھی فرد کی پہچان کی بنیادی اکائی ہوتی ہے۔ انسان مادری زبان بغیر کسی مشکل کے بتدریج سیکھتا جاتا ہے۔ سکھانے والی ہستی وہ ہے جو سراپا محبت، شفقت اور مامتا ہے۔ اس لیے اس کی آغوش میں مشکل درپیش ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

میرے شعری مجموعے”سولی ٹنگی لو ” پر جہاں کوہسار کے علاوہ ہزارہ، پنجاب، پوٹھوہار اور سندھ سے بے شمار تعریفی اور توصیفی پیغامات موصول ہوئے وہیں کوہ مری سے تعلق رکھنے والے ایک عزیز بزرگ دوست کی بات سن کر میری روح تک سکتے میں آ گئی۔ انھوں نے فرمایا۔۔۔۔۔

"اتنی معیاری، خوبصورت اور مہنگی کتاب پہاڑی زبان کے بجائے اردو میں چھاپتے ۔ یہ تو آپ نے سراسر نقصان کر دیا”۔

اہل کوہسار کے ہاں یہ عجیب ریت چل پڑی ہے کہ وہ آپس میں بھی اب اپنی مادری زبان میں بات نہیں کرتے۔

اپنے ہی کسی ہم زبان کے ساتھ کسی دوسری زبان میں گفت و شنید کرنا پڑھا لکھا ہونے کی نہیں، احساس کمتری کا شکار ہونے کی دلیل ہے۔

اگر آپ سعودی عرب، ترکی، فرانس ، جرمنی ، اٹلی یا پھر چین جائیں تو وہاں آپ کو ہر انسان اپنی مادری زبان میں ہی بات کرتا ہوا ملے گا۔ دیگر اقوام نے ضرورت کے تحت ایک زبان کے طور پر انگریزی کی طرف توجہ دی ہے لیکن ہماری طرح اپنی مادری زبان کے معاملے میں وہ احساس کمتری کا شکار نہیں ہوئے۔

آپ زیادہ سے زیادہ زبانیں سیکھیے۔ انگریزی میں کامل مہارت حاصل کیجیے۔ بچوں کوبھی انگریزی سکولوں میں ضرور بھیجیے اور انھیں اردو، انگریزی سکھائیے۔ لیکن میں اس امر کے سخت خلاف ہوں کہ بچوں سے ان کی مادری زبان کا حوالہ چھین لیا جائے۔

اس سے بھی بڑا ظلم یہ ہے کہ عدم شعور کے زیر اثر نئی نسل کو مادری زبان کے حوالے سے احساس کمتری کا شکار کیا جائے۔ کل کے معماروں کو اپنی مادری زبان بولنے اور سیکھنے سے محروم کر دیا جائے۔ وہ مادری زبان جس میں صدیوں کی دانش پنہاں ہے۔ یقین جانیے جسے آپ کامیابی کا وسیلہ سمجھ رہے ہیں تباہی کا راستہ ہے۔ شاید نئی نسل کو اپنی پہچان کھو کر اور اپنے آپ سے کٹ کر پیشہ ورانہ مہارت حاصل ہو جائے۔ وہ معاشی طور پر بھی درجہ کمال تک پہنچ جائے۔ لیکن یاد رکھیے۔۔۔۔

تاریخ ہمارا یہ گناہ کبھی معاف نہیں کرے گی اگر ہماری نئی نسلیں اپنی زبان ، روایات، اقدار اور ثقافت سے کٹ کر ایک بہترین انسان بننے کا موقع کھو دیں گی۔۔

1669864388859

Screenshot 20210426 183843 3

صاحب مضمون


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481