اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

قربانی کے جانوروں کے انتظامی معاملات بہتر بنانے کی ضرورت ہے

قربانی کے جانوروں کے انتظامی معاملات بہتر بنانے کی ضرورت ہے

قربانی کے جانوروں کے انتظامی معاملات بہتر بنانے کی ضرورت ہے

سنت ابراہیمی کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کا جوش و خروش وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے

حال آنکہ قربانی کے خلاف غیر مسلموں کے پروپیگنڈے کے ساتھ ساتھ کئی مسلمان دانش ور بھی میڈیا کے ذریعے قربانی پر جانور ذبح کرنے کے بجائے اس سرمائے سے جامعات اور ہسپتال بنانے کی بات کرتے ہیں۔

لیکن علمائے کرام لوگوں کو سنت ابراہیمی کی اہمیت سے روشناس رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔

انتظامی حوالوں سے بات کی جائے تو آج تک نہ انتظامیہ، نہ علمائے کرام اور نہ ہی تعلیم یافتہ طبقے نے قربانی کے جانوروں کو ایک دو دن منظم طریقے سے رکھنے کا کوئی طریقہ وضع کرنے کی متفقہ و مشترکہ سعی و کوشش کی ہے۔

کئی لوگ ہفتوں پہلے قربانی کا جانور لا کر اپنے گھر کے سامنے باندھ دیتے ہیں۔ یوں گلی سے گزرنے والی ٹریفک کے لیے مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔

پھر گلی میں گندگی اور تعفن کا مسئلہ ہوتا ہے۔ قربانی کے بعد شہری صفائی کے عملے کی ہدایات کے برخلاف آلائشیں جا بہ جا پھینک دیتے ہیں۔

یوں آلائشیں، گوبر، اور پھینکا گیا گوشت وغیرہ کئی کئی روز تک سڑکوں پر پڑا رہنے کی وجہ سے گندگی و تعفن ہی نہیں پھیلتا

بلکہ یہ لاپرواہی متعدد بیماریوں کا بھی موجب بنتی ہے۔

Picsart 23 06 30 13 18 58 636

Picsart 23 06 30 13 19 30 788

 

اکثر جگہوں پر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جانوروں کی تعداد جب بہ تدریج بڑھنا شروع ہوتی ہے

تو پھر پیدل چلنے والوں کے لیے بھی کئی گلیوں سے گزرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ کئی جگہوں پر تو گلیاں بند کر دی جاتی ہیں۔

حال آنکہ اس ضمن میں مفتیان کرام کے واضح فتاوی موجود ہیں۔۔۔

"عمومی شاہراہ اور راہ گزر میں ایسا تصرف کرنا کہ گزرنے والوں کو تکلیف ہو یا گزرنے کا راستہ ہی نہ رہے، ایذائے مسلم ہونے کی وجہ سے حرام ہے

، لہذا قربانی کے جانور باندھنے کے لیے قناتیں لگا کر گزرنے والوں پر گلیاں بند کردینا یا راستہ تنگ کردینا جائز نہیں،  اس سے اجتناب کیا جائے۔ 

راستہ مکمل یا جزوی طور پر بندکیے بغیر گلی میں جانور باندھنا جائز ہے، بصورتِ دیگر متبادل جگہ کا انتظام کیا جائے۔” 

(دارالافتاء، بنوری ٹاؤن)

علمائے کرام، اہل علم و دانش اور انتظامیہ کو مل کر اس امر کو یقینی بنانا چاہیے

کہ ہر علاقے میں ایسی چھت کی حامل محفوظ جگہیں مختص ہوں

جہاں پر جانوروں کو بہ احتیاط و حفاظت رکھا جائے۔ ۔

نیز قربانی کے لیے بھی ہر گلی محلے کے بجائے قربان گاہیں بنائی جائیں۔

پہلے کچی جگہوں پر قربانی جاتی تھی اور خون کے رسنے کے لیے گڑھے بھی بنائے جاتے تھے۔

قربان گاہوں میں قربانی سے صفائی کے عملے کے لیے بھی آسانی ہو گی،

بیماریوں کی روک تھام ہو گی اور انتظامی مسائل بھی پیدا نہیں ہوں گے۔ 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481