محمد آصف مرزا کو مری جیسے شہر سے ادبی رسالہ "دستک” شائع کرتے دو دھائیوں سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ ان کا اردو شعری مجموعہ "ستارہ ہے خاک پر” زیور طبع سے آراستہ ہوکر اہل سخن سے داد و تحسین وصول کر چکا ہے۔ اس مجموعے میں کیا ہی لاجواب اشعار شامل ہیں۔
چڑھتے سورج کی اگرچہ ہے پجاری دنیا
جیسی کیسی بھی سہی، ہے تو ہماری دنیا
کِبر کی خاک اُڑا، عجز کے اسرار کو کھول
رقص کرتا ہوا چل اور درِ یار کو کھول
عالمِ ہُو تھا عرش پر، میرے ہبوط کے سبب
میں جو پلٹ پڑا تو پھر، حشر سا اِک بپا ہوا
اُسے خبر ہے کہ گھر میرا بے چراغ نہیں
ہزار رنگ کے طوفاں اُٹھا رہی ہے ہوا
محمد آصف مرزا پہاڑی زبان کے وہ استاد شاعر ہیں جن کی مادری زبان پہاڑی نہیں ہے۔ "رنتن غزل نمبر” میں شامل ان کی ایک غزل آپ کے ذوق مطالعہ کی نذر۔
(راشد عباسی، مدیر "رنتن”)
پہاڑی غزل
کس دن ٹَہلسی رات غماں نی، ہوسی سجر سویر
کس دن بَلسن وصل نے دِیوے، مُکسی ہجر ہنیر
راہ پَیئا جانے، واء پَیئا جانے ۔۔ کَہر بیٹھا بے خبرا
عشق ناں پَینڈا ڈاہڈا اوخا، رستے کُہمّن کہیر
جے ہتھ پَنجا کرنا چاہو، وچ میدان نے اَچھّو
اپنی گلی نے وِچ تے کُتا وی ہونا آ شیر
چنگے دن نی سدھر تائیں دل نانہہ ہاریں سنگیا
چنگے دن نے اشنے اندر ہونی دیر، سویر
یاد اَشنے نِکیاں ہونے نَیں سارے سنگی ، ساتھی
رَلی مِلی تے کھانے سیاں جد کُھمّاں، کھوڑ تے بیر
موہڑہ، کَہیّا، اوسیہ، دیول، حد، بیروٹ، تریمٹھیاں
سِرے ار مُشکپوری ناں سایہ، پَیراں ہیٹھ کَنیر
دنیا نی لشکاہٹ تائیں علم نَیں دِیوے بالو
نعرے لانے نَل تے ظلمت کدے نہ ہوسی زیر
۔۔۔۔ محمد آصف مرزا ۔۔۔۔
لوئر مال، کوہ مری



