اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جامعات زیتون پرلانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم کورسز متعارف کرائیں

xllqczc7tghdaylaj1ih 1 1

انٹرویو: راشد عباسی (چوتھا اور آخری حصہ)

aa8b5572 fa04 47f3 812f 74212587fb07 1

 

سوال : آپ نے فرمایا کہ زیتون کے باغات پھل دینے میں تین چار سال کا عرصہ لگاتے ہیں۔ کسان اپنے اخراجات ضروریہ کو پورا کرنے کے لیے کیا ان باغات میں کوئی فصلیں کاشت کر سکتے ہیں؟
جواب : جی بہت اہم سوال ہے یہ۔ ہم کسانوں کو اس سلسلے میں تربیت بھی فراہم کرتے ہیں کہ وہ اس عرصے کے دوران کون کون سی فصلیں کاشت کریں۔ فصلوں کی کاشت کا ایسا طریقہ اختیار کریں کہ فصل بھی زیادہ ہو اور باغات کو نقصان بھی نہ پہنچے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر سال فصلوں کی کاشت کے حوالے سے منصوبہ بندی اور طریقہ کار تبدیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جیسے جیسے پودے افزائش کے عمل سے گزرتے ہیں اور ان کا قد بڑھتا ہے وہ جگہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ گھیرتے ہیں اور ان کی ضروریات بھی مقابلتاً زیادہ ہو جاتی ہیں۔ پھر اس بات کا بھی امکان ہوتا ہے کہ تھوڑے سے فائدے کے لیے زیتون کے درختوں کو کوئی نقصان پہنچ جائے۔ اس لیے کسانوں کو چاہیے کہ فصلوں کی کاشت متعلقہ ماہرین کے مشورے سے کریں۔

355139002 236738009103498 4792951167709660106 n 355875245 239098775534088 5468327953539912177 n

سوال : مری، کوٹلی ستیاں، گلیات اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں میں زیتون کی کاشت کے حوالے سے کچھ رفاہی تنظیموں نے آگاہی بیدار کی ہے اور وہ عملی طور پر اس انقلابی منصوبے کا حصہ بن رہے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا گیا کہ ان علاقوں میں جنگلی زیتون کے اشجار کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ لیکن محکمہ زراعت یا محکمہ جنگلات مری کے پاس خصوصی طور پر زیتون کے حوالے سے تربیت یافتہ سٹاف موجود نہیں ہے۔ اس مسئلے کا کیسے حل نکالا جائے؟
جواب : پہلی بات یہ ہے کہ ان تنظیموں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور ان کو خراج تحسین پیش کرنا چاہیے کہ وہ اس قومی خدمت کا حصہ بنے۔ مری کے سرکاری اداروں کے ملازمین کے ساتھ ساتھ کسان اور ان رفاہی تنظیموں کے ذمہ داران این اے آر سی کے ساتھ جدول بنا کر مختلف تربیتی ورکشاپیں اور اجلاس رکھ سکتے ہیں۔ لیکن اس سے پیشتر اگر ہمارے یو ٹیوب چینل پر موجود مواد سے استفادہ کر لیا جائے تو بہت سا وقت جو بنیادی معلومات کے تبادلے پر صرف ہونا ہے وہ بچ جائے گا۔ اور ان ورکشاپوں کے شرکاء صرف ان امور پر ماہرین سے تربیت حاصل کریں گے جن کے بارے میں یا تو یو ٹیوب پر معلومات سرے سے موجود ہی نہیں ہیں یا جزوی معلومات موجود ہیں لیکن شرکاء کو کچھ مزید تفصیلات درکار ہوں۔ ہمارے یو ٹیوب چینل کا لنک درج ذیل ہے

https://youtube.com/@PakOlive

fc7b190d 3666 4e75 844e 10c9185d3719 1

سوال : پاکستان زیتون منصوبہ قومی اہمیت کا حامل ایک انقلابی منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کی رفتار کار بڑھانے اور نئی نسلوں کو اس سے منسلک کرنے کے لیے طلبا کا اس سے انسلاک نہایت ضروری ہے۔ کیا کوئی تعلیمی ادارے اس سلسلے میں کوئی طویل مدتی یا قلیل مدتی کورسز کروا رہے ہیں؟
جواب : آپ سے مکمل اتفاق ہے کہ نوجوانوں کے انسلاک سے اور نئی تحقیق سے منصوبے کی رفتار کار بڑھنے کے ساتھ ساتھ نئی راہیں کھلنے کے بھی امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ کراچی میں ایک دو پرائیویٹ اداروں نے اس ضمن میں کچھ کورسز کا اہتمام کیا ہے لیکن بدقسمتی سے جامعات نے اس ضمن میں آج تک کوئی قدم اٹھانے کی زحمت نہیں کی۔ آپ کے توسط سے ہم ساری جامعات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم کورسز متعارف کروائیں ہمارے ماہرین ان کے ساتھ مکمل معاونت کریں گے۔ اگر کہیں فیکلٹی کے طور لیکچر دینے ہوئے تو اس کا بھی ہم انتظام کر سکتے ہیں۔ تمام جامعات کو اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
بلکہ میں تو محکمہ تعلیم سے درخواست کروں گا کہ وہ سکولوں کالجوں کی مطالعہ پاکستان میں اس ضمن میں اسباق شامل کریں تاکہ پرائمری کے بچے کو زیتون کے درخت کا تعارف اور اہمیت معلوم ہو جائے۔ مڈل سکول کے بچوں کو معلوم ہو کہ یہ درخت پاکستان کے موسمی حالات سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کا پھل کھایا جاتا ہے اور اس سے زیتون کا تیل تیار ہوتا ہے جو بہت قیمتی ہے۔ اس کے پتوں کو قہوے اور دوائیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ میٹرک کے طلباء کو عملی تربیت دی جائے اور ان سے شجر کاری کروائی جائے۔ کالجوں کے نصاب میں زیتون کی مختلف مصنوعات کی تفاصیل، عالمی طور پر مشہور مختلف ممالک کے اعداد و شمار، پاکستان میں اس کی صورت حال اور ہمارے معاشی، ماحولیاتی اور صحت کے مسائل کے حل میں اس کے کردار پر مواد شامل ہو۔
تعلیمی اداروں کے تعلیمی دوروں کے ذریعے طلبا کو وادی زیتون کی سیر کروائی جائے تاکہ ان میں عملی طور اس کار خیر میں شامل ہونے کا جذبہ پیدا ہو ۔

جامعات اس منصوبے کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر مکمل غور و خوض کے بعد قومی ضرورتوں کے عین مطابق کورسز تشکیل دیے جائیں تو نوجوان اس شعبے میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال اور تحقیقی کام سے ملک و قوم کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں۔

  • کئی نوجوان اسی شعبے میں انٹرپرینورشپ اختیار کر سکتے ہیں۔
  • بیروزگاری کے خاتمے میں یہ کورسز اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
  • غیر کاشت شدہ زمینوں کو حیات نو مل سکتی ہے۔
  • برآمدات کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔
  • ہمارے نوجوانوں کو اس شعبے میں اعلی تعلیم حاصل کر کے بیرون ملک اعلی درجے کی ملازمتیں مل سکتی ہیں۔

347152118 1190871088277395 2442651482646502246 n 347433893 236737595770206 3331488068775003431 n

سوال : ڈاکٹر صاحب آپ کی بے پناہ مصروفیات کے باوجود ہم نے بہت وقت لے لیا۔ ابھی سوالات تو بہت سے ہیں لیکن آخر میں آپ کسانوں اور عوام کو کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟
جواب : آپ احباب کا شکریہ کہ آپ اس قومی خدمت میں شامل ہونے کے لیے تشریف لائے۔ زیتون کی کاشت ہر لحاظ سے انفرادی اور اجتماعی فائدے کا کام ہے اور مجموعی طور پر انسانیت کی خدمت ہے۔ اس وقت ماحولیاتی مسائل سے نمٹنا انسانی برادری کے سامنے ایک گھمبیر چیلنج ہے۔ زیتون کا درخت ماحولیاتی مسائل کا بہترین حل ہے۔ یہ درخت طویل العمری اور سخت حالات میں زندہ رہنے کی صلاحیت کے معاملے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا۔

ہم مسلمان ہیں۔ انسانیت کی خدمت ہم پر فرض ہے۔ ہمارے لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا فرض سمجھتے ہوئے اور عبادت کے طور پر زیتون کے متبرک درخت کی کاشت کریں۔ فوائد تو سو سال تک حاصل ہوں گے ہی۔

ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ یہ آگہی عام کرے کہ زیتون کی کاشت سے ہم نہ صرف معاشی طور پر خوشحال ہو سکتے ہیں بلکہ اس سے ماحول، قومی استحکام، قومی عزت و وقار اور صحت عامہ کے حوالے سے بھی دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔

زیتون منصوبے کا حصہ بن کر اور اسے مشن کے طور پر اپنا کر ہم نہ صرف پاکستان کی بلکہ اپنی بھی مدد کر سکتے ہیں۔

345654233 3397138517205812 6784585945182793974 n

لبنان میں زیتون کا ایک قدیم درخت،  جس کی عمر کا  اندازہ    6000  سال لگایا گیا ہے ۔
All reactions:

6

Like

 

Comment
Share


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481