اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"پرسکون زندگی کے راز”

Screenshot 20230627 011555 1

          مجھے سکون چاہیے

Happiness is a choice. Peace is a state of mind. Both are free

آپ کے پاس کیا نہیں ہے؟ آپ کو تو خوش ہونا چاہیے ۔ اس نے غریب مالی کی بات سنی اور مسکرا کر کہا۔  بابا ! میرے پاس سب کچھ ہے لیکن "سکون” نہیں ہے۔ مالی نے کہا، "صاحب! پھر تو آپ مجھ سے زیادہ غریب ہوئے.

یہ سچ ہے کہ دنیا میں اس شخص سے زیادہ کوئی قابل ترس نہیں جو سب کچھ ہونے کے باوجود بے سکون ہو۔ بے سکون ہونے کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں اور وہ ہمارے اندر ہی موجود ہوتی ہیں۔ یا یوں کہیے کہ وہ ہم سے اور ہمارے معاملات سے جڑی ہوتی ہیں۔  مگر ہم باہر کی دنیا میں "نام نہاد” وجہ تلاش کرتے ہیں کہ کسی طرح اس پریشانی کو جسٹیفائی کیا جائے۔

پریشانی اندر ہو اور وجہ باہر کی دنیا میں ڈھونڈنا انتہائی احمقانہ حرکت ہے۔ لیکن کیا کرے بے چارہ انسان۔ صدیوں سے ایسی حرکتیں کرنے پر مجبور ہے۔ جب انداز فکر غلط ہو گا تو پھر انسان پریشان تو ہوگا۔

چلیے آپ کو وہ چند کام بتاتے ہیں جو آپ کو پر سکون رکھ سکتے ہیں۔

1۔۔۔ ما حول تبدیل کریں

ایسے ماحول سے خود کو آزاد کریں جہاں ہر وقت لڑائی جھگڑا ہوتا ہو۔ جہاں بحث برائے بحث ہو۔ جہاں آپ پر مذاق میں بھی تنقید ہوتی رہے ۔ جہاں کسی نہ کسی کی غیبت ہو رہی ہو۔

یاد رکھیے! جو لوگ آپ کے ساتھ بیٹھ کر کسی کی غیبت کر سکتے ہیں وہ کسی کے ساتھ بیٹھ کر آپ کی بھی غیبت کر سکتے ہیں۔

 

2۔۔۔ پریشانی کی تشہیر مت کریں

اگر آپ کسی وجہ سے پریشان ہوں تو اس پریشانی کا حل تلاش کیجیے۔ اپنی پریشانی کی تشہیر کرنے سے آپ کا تاثر ہی متاثر نہیں ہوتا ہے بلکہ شخصیت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ یاد رکھیے ! لوگوں کو کسی کی پریشانیوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ وہ کسی کی پریشانی کا بھی تماشا بنا سکتے ہیں۔

3۔۔۔ خوش فہمیوں اور غلط فمہیوں سے جان چھڑائیں

اگر آپ اپنے بارے ایک ایسی خوبی کا گمان رکھتے ہیں جو آپ میں نہیں ہے تو یہ خوش فہمی ہی نہیں، خود فریبی بھی ہے۔  اور اگر آپ کسی کے بارے ایسے عیب کا خیال رکھتے ہیں جو اس میں موجود نہیں تو یہ غلط فہمی ہے ۔ دونوں سے نکل کر حقیقت پسندی اختیار کریں۔ جتنا حقیقت پسندی اختیار کریں گے اتنے پر سکون رہیں گے ۔

4۔۔۔ کسی جیسا بننے کی کوشش مت کریں

اللہ پاک نے ہر انسان کو منفرد بنایا ہے۔ کسی کی طرح بننے کی کوشش مت کریں ۔ وگرنہ کوا چلا ہنس کی چال والا معاملہ ہو گا۔ ہاں اپنے اندر اوصاف ضرور پیدا کریں ۔ موازنہ آپ کو بے سکون کر دیتا ہے اگر آپ کے پاس کسی سے زیادہ ہے تو آپ احساس برتری کا شکار ہو سکتے ہیں جو آپ کو متکبر بنا سکتا ہے اور اگر آپ کے پاس کم ہے تو آپ احساس کم تری کا شکار ہو کر حاسد بن سکتے ہیں۔

5۔۔۔ نظر انداز کریں

کم علمی کے ساتھ، ادھوری معلومات کے ساتھ کسی سے بحث مت کریں ۔ کوشش کریں کہ بحث سے دور رہیں۔ ہاں مکالمہ ضرور کریں۔  عموما لوگ بحث جیتنے کے لیے کرتے ہیں۔  یہ مقابلہ آپ کو اپنے ادھورے علم اور فضول گوئی پر متکبر بنا دیتا ہے۔ علم کی لذت سے دور کر کے بے سکون کر دیتا ہے ۔ لوگوں کی باتوں کو نظر انداز کریں ۔معاف کریں۔  دل کا سکون حاصل ہو گا ۔ وگرنہ انتقام کی آگ میں جل کر سکون سے محروم ہو جائیں گے ۔

6۔۔۔ مسکرائیے ، مسکراہٹ بکھیرے

ایسے چھوٹے چھوٹے چٹکلے ضرور کریں جن سے آپ خود بھی مسکرائیں اور دوسرے بھی محظوظ ہوں ۔ مذاق اڑانے اور مزاح میں فرق رکھیں۔ مذاق اڑانے سے دل کو اذیت ملتی ہے اور مزاح دل کو طاقت دیتا ہے ۔ آپ کسی محفل میں کسی کو ایسا کچھ نہ کہیں جو دیگر سب اہل محفل کے لیے مسکراہٹ کا باعث بنے لیکن آپ کے مخاطب کی دل آزاری ہو ۔ مسکراہٹیں بانٹنا بھی صدقہ ہے مگر کسی کو اذیت دے کر آپ جہنم کا ایندھن خرید لیتے ہیں ۔

7۔۔۔ شکر گزار ہو جائیں

اللہ کا شکر ادا کرنے کے ساتھ ساتھ بندوں کا شکریہ بھی ادا کریں۔ اس طرح اللہ آپ کو زیادہ نوازے گا اور بندے آپ کی قدر کریں گے۔ نیز باہمی تعلق میں پہلے سے زیادہ اخلاص پیدا ہو گا ۔

8۔۔۔۔ ہر کسی کو نفع دیں

ہر وقت بے لوث رہیں۔  اپنے اردگرد لوگوں کے لیے بلا تفریق رنگ و نسل، ذات قبیلہ، علاقہ و زبان نفع کا باعث بنیں۔ کیونکہ

خیرالناس من ینفع الناس ۔

لوگوں میں سے "دی بیسٹ” وہ ہے جو لوگوں کو نفع دے۔ کسی کی حق تلفی مت کریں بلکہ نوازنے والے بن جائیں ۔ بانٹنے والوں میں شامل ہو جائیں ۔

9۔۔۔۔ خوشامد اور خوشامدی

تعریف کے لمبے لمبے پلوں کے نیچے اکثر بہنے والی ندیاں مطلب کی ندیاں ہوا کرتی ہیں۔ خوشامد سے ہمیشہ بچیں۔ نیز کسی خوشامدی کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر اپنے مخلص لوگوں کو ضائع نہ کر دیں۔ خوشامدی لوگوں سے دامن بچائیں ۔

10۔۔۔ تین کام فورا نہ کریں

غصے میں فورا فیصلہ نہ کریں، خوشی میں فورا وعدہ نہ کریں۔  اپنی بات منوانے کے لیے کسی طرح کی بھی سچی جھوٹی قسم نہ اٹھائیں ۔

11۔۔۔۔ ماضی کے خیالات

ماضی میں ہونے والے نقصانات کو سوچ کر کبھی بے سکون نہ ہوں۔ ماضی کی فکر میں اپنے آپ کو غمگین مت کریں۔  ماضی میں کیے اچھے کاموں پر مغرور نہ ہوں۔ ہاں کوشش کریں کہ اس سے زیادہ اچھے کام کریں۔ ماضی پر فخر کرنا شروع کر دیں گے تو کامیابی کا دروازہ بند ہو جائے گا اور آپ خوش فہمی کی دیوار سے اچانک گر جائیں گے ۔

12۔۔۔۔ دوسروں پر انحصار

دوسروں پر انحصار مت کریں۔ یعنی اپنی مدد آپ کریں ۔ کام کا آغاز کریں، سہارے مت تلاش کریں۔ خود کو کسی کا بھی عارضی اور دائمی طور پر محتاج نہ بنائیں ۔ یہی لوگ کسی نہ کسی وقت فرعون بن جاتے ہیں ۔

13۔۔۔۔ دعا مسلسل کریں

اپنے لیے اور اپنے محسنین کے لیے دعا لازمی کیا کریں ۔ اللہ سے یہ تعلق لازمی قائم رکھیں ۔ اس کے نام کی تسبیح لازمی کریں ۔ اس کے ساتھ یاری مضبوط کریں تا کہ کسی کے محتاج نہ ہوں ۔

ڈاکٹر اعظم رضا تبسم

03317640164


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481