اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

نوجوانوں کو تحقیق اور ایجادات کا خوگر بنائیں

Picsart 22 03 06 12 32 47 355 1

Picsart 23 06 26 14 41 03 295

ترقی یافتہ قوموں کی تاریخ پڑھیں تو آپ کو علم ہو گا کہ مختلف ادوار میں وہاں ایسے نابغہ روزگار لوگ پیدا ہوتے رہے جن کے دیدہ بینا اور بلندی فکر نے لوگوں کے ہجوم کو منظم قوم یا قومیں بننے میں مدد کی۔

ترقی یافتہ دنیا میں تعلیم، تربیت اور امن عامہ کی فضا نے لوگوں کو آگے بڑھنے اور کچھ نیا کرنے پر ابھارا۔ تحقیق و ایجادات کی حوصلہ افزائی نے نوجوانوں کی ذہانت، صلاحیت اور جذبے کو ایک ناقابل شکست قوت بنا دیا۔

دنیا تبدیل ہوتے ہوتے اس نہج پر آ گئی ہے کہ ہر زندہ انسان محو حیرت ہے کہ یہ کیا سے کیا ہو رہی ہے۔ روایتی سوچ، معاملات، کاروبار اور فن حرب قصہ پارینہ ہوئے۔ اب سوشل میڈیا، ڈیجیٹل ورلڈ اور مصنوعی ذہانت نے انسان کے سامنے ایسے سوالات لا کھڑے کیے ہیں کہ غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کے حامل لوگ ہی بقا کی جنگ لڑ سکتے ہیں، جیتنا تو خیر بعد کی بات ہے۔ ویسے بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگیں جنگیں جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر یا تعداد کی کثرت سے نہیں، بلکہ بہتر منصوبہ بندی، حالات کے بہتر تجزیے، دشمن کے منصوبوں کی تفہیم اور جذبے سلامت رکھنے سے جیتی جاتی ہیں۔

جن لوگوں کو اپنا ملک پھولوں کی سیج پر زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرتا ہے وہ مشکل وقت میں اس کا دفاع ایسے کرتے ہیں جیسے وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہوں۔ 

آج من حیث القوم ہمیں بے رحم خود احتسابی کی اشد ضرورت ہے۔

یقینا ہم آزادی کے سفر میں کہیں غلط موڑ مڑ گئے ہیں۔ ہماری سمت سفر قطعا درست نہیں ہے۔

بدقسمتی سے پون صدی ہو گئی عام آدمی فقط "آزادی” اور "خُودمُختاری” کے نعرے لگا رہا ہے۔ بھلا عام آدمی کو کون سی آزادی میسّر ہے؟

انگریز کی غلامی سے نجات کے بعد عام آدمی کو یقین تھا کہ پاکستان ایک فلاحی ریاست بنے گا۔ لیکن اس کی توقعات کے برعکس بنیادی سہولیات سے محروم عام آدمی ایک ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوتا آیا ہے اور اب بھی استعمال ہو رہا ہے۔ اس کے پاس نہ ملازمت ہے، نہ کاروبار اور نہ ہی "امید” کی کوئی کرن۔

پاکستان ایک فلاحی ریاست بننے کے بجائے "کنٹرولڈ ڈیموکریسی ” اور "ڈیپ سٹیٹ” بن گیا۔

پے بہ پے مارشل لاؤں نے جمہوری اقدار کا جنازہ نکال دیا۔ پاکستان ایک طبقاتی معاشرہ ہے  جہاں "طبقاتی نظامِ تعلیم” عام آدمی کے بَچّے کو صرف مشین کا ادنی سا پُرزہ بنانے کے لیے ایک ہتھیار کے طَور پر استعمال ہوتا ہے۔

اس صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ وی سی لیول سے بنیادی تعلیم کا معیار بہتر بنایا جائے۔ بچوں کی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کر کے اور ان کو تخلیقیت اور جدت فکر سے وابستہ کر کے انھیں بہترین انسان بنانے کی جدوجہد کی جائے۔ ان کے ذہن سے اس خیال کو کھرچ کھرچ کر نکال دیا جائے کہ انھوں نے "نوکری” کے لیے پڑھنا ہے۔ بلکہ ان کو تحقیق اور ایجادات کی لت لگا دی جائے تاکہ وہ اعلی تعلیم کے لیے دنیا کی بہترین جامعات میں سکالرشپس حاصل کرنے کے لیے شروع سے ہی سنجیدہ کوششیں کریں۔ والدین کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں۔  والدین سے دست بستہ گزارش ہے کہ بچوں کو تحقیق میں لگائیں۔ پاکستان میں انھیں بے دست و پا نوکر بنانے کے بجائے سکالرشپ پر دنیا کی بہترین جامعات کا حصہ بننے کے لیے ان کی نہ صرف حوصلہ افزائی کریں بلکہ ان کو اس پر ابھاریں تاکہ صلاحیتیں اور ٹیلنٹ ضائع ہونے سے بچ جائے۔

۔۔۔۔۔۔ راشد عباسی ۔۔۔۔۔۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481