پورے سال ہم کیٹرنگ والوں کو شادی بیاہ کے جو آرڈر ملتے ہیں اس میں اس بات کی تاکید ہوتی ہے کہ گوشت بچھیا کا ہونا چاہئیے اور بچھیا کا گوشت ہوتا بھی مہنگا ہے ۔
تلخ ہے مگر حقیقت ہے کہ چونکہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربان کئیے گئے جانور کا گوشت عام طور پر لوگ خود نہیں کھاتے بلکہ تقسیم کرتے ہیں تو ترجیح بدل جاتی ہے، اب خوبصورت صحت مند بچھیا کی جگہ چربی کا پہاڑ خرید لاتے ہیں
ایسا کیوں ؟
ایسا اس لئیے کہ ہم لوگوں کے خریدے ہوئے جانور سے ان کی حیثیت کا اندازہ لگاتے اور پھر اس پر تبصرہ کرتے ہیں کہ ابے یار دیکھ زید انکل کے پاس آلٹو کار ہے اور ماشاءاللہ 6 من کا جانور لائے ہیں اور عمر انکل کے پاس کرولا کار ہے مگر جانور 4 من کا لائے ہیں اتنے میں دوسرا دوست تبصرہ کرتے ہوئے کہتا ہے ابے کرولا عمر انکل کی تھوڑی ہے یہ تو انکو کمپنی نے دی ہے جہاں جاب کرتے ہیں یہ سب عمر کے بچوں کو بھی پتا لگ جاتا ہے وہ الگ گھر میں رولا ڈال دیتے ہیں کہ پاپا ہمارا جانور اتنا چھوٹا کیوں ہے 
یہاں سے زید اور عمر کے بیچ مقابلہ شروع ہوجاتا ہے مگر اسی محلے میں ایک بکر انکل بھی ہوتے ہیں جن کی دکان تو پکوڑوں کی ہوتی ہے مگر بات ہمیشہ کروڑوں کی کرتے ہیں اب وہ کیوں زید اور عمر سے پیچھے رہے ادھار کرے گا مگر جانور اس کا بھی بڑا ہی آئے گا ۔
اس مقابلہ بازی میں جانور کا وزن 12 من سے کراس ہو چکے ہیں جس پر زید، عمر، بکر کا تبصرہ یہ ہے کہ یار شریعت میں حکم ہے کہ قربانی کا جانور خوبصورت ہونا چاہئیے ۔
شریعت میں صرف خوبصورتی کا حکم ہے کیا؟
صحت مند ہونا بھی تو شرط ہے ۔
وہ چربی کا پہاڑ جو دوڑنا تو دور صحیح سے چل نہیں سکتا گاڑی میں مشکل سے چڑھا دیا جائے تو پھر آرام سے اتر نہیں سکتا جس کا گوشت صحت کیلئے فائدہ مند بھی نہیں سمجھا جاتا بلکہ قربانی کرنے والے زیادہ تر خود کھاتے بھی نہیں بلکہ سارا تقسیم کردیتے ہیں جبکہ اپنے لئیے الگ سے بکرا خرید رکھا ہوتا ہے جس کی ران سسرال جاتی ہے 
اس چربی کے پہاڑ کو خوبصورتی کے نام پر زبح تو کر دیتے ہیں مگر جب تقسیم کرنے لگتے ہیں تب غریب بچارہ اپنی تھیلی ہاتھ میں پکڑے کہتا ہے ” صاحب ساری چربی ڈال دی تھوڑا گوشت بھی ڈال دو بچے بھوکے ہیں "
