اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

صدر علوی کی غیر موجودگی میں حکومت کا بڑا چھکا

2331341 ashahbazandalvi 1654448941 886 640x480 1

صدر علوی کی غیر موجودگی میں حکومت نے بڑا چھکا مار دیا،تاحیات نااہلی کے قانون کو پانچ سال تک محدود کرنے کا بل منظور کر لیا گیا جس پر دستخط چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی بطور قائم مقام صدر کریں گے اور اس طرح نواز شریف کی پارلیمانی سیاست میں واپسی یقینی ہو جائے گی۔

لندن،نواز شریف اور مریم نواز جنیوا روانہ

تفصیلات کے مطابق سینٹ کے بعد قومی اسمبلی نے بھی تاحیات نااہلی کے قانون میں ترمیم منظور کرلی ہے اور اس کی مدت زیادہ سے زیادہ 5 برس کر دی گئی ہے جس کے بعد مسلم لیگ نون کے سربراہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی نااہلی ختم ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور اب وہ پارلیمانی سیاست میں حصہ لے کر ایک بار پھر وزیر اعظم بننے کی پوزیشن میں آ جائیں گے۔ ترمیم کا فائدہ تحریک انصاف کے سابق سربراہ اور حال ہی میں استحکام پاکستان پارٹی بنانے والے جہانگیر ترین کو بھی ہوگا تاہم اگر کسی مقدمے میں عمران خان کو نااہلی کی سزا ہوتی ہے تو وہ پانچ سال کے لیے پارلیمانی سیاست سے باہر ہو جائیں گے۔

 نواز شریف کو واپس کیسے لایا جائے؟ قانونی ٹیم تشکیل

law
دوسری طرف نواز شریف کی وطن واپسی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے حکومت نے قانونی ماہرین کی  ٹیم تشکیل دے دی ہے جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر مملکت عطااللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی عرفان قادر شامل ہوں گے۔علاوہ ازیں نواز شریف کے خلاف قائم مختلف مقدمات میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے امجد پرویز اور دیگر وکلاء کی ٹیم کو بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ میاں نواز شریف اس وقت متحدہ عرب امارات میں ہیں ، جہاں لندن سے آنے پر انھیں شاہی پروٹوکول دیا گیا ہے اور رہائش کے لیے شاہی خانہ پیش کیا گیا ہے۔
میاں نواز شریف بی کے بعد ابوظہبی اور پھر سعودی عرب جائیں گے جہاں وہ مریم نواز اور خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ حج ادا کریں گے۔

الیکشن ایکٹ میں کیا ترمیم کی گئی؟

election

حکومت کی جانب سے اتوار کے روز قومی اسمبلی میں الیکشن ترمیمی بل منظوری کے لیے پیش کیا گیا جس میں آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت انتخابی ایکٹ میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔اس کے ساتھ الیکشن اصلاحات بل 2017 میں ترمیم کی گئی ہے جسے الیکشن ایکٹ 2019 کے طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔نئی ترمیم کے مطابق آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت اب نایلی کی سزا پانچ برس ہوگی۔ الیکشن ایکٹ 2023 کے تحت عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیار کلی طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو دے دیا گیا ہے جس کے لیے وہ صدرمملکت کے ساتھ مشاورت کا پابند نہیں ہو گا۔ علاوہ ازیں الیکشن کمیشن انتخابی تاریخ میں ردوبدل بھی کرسکے گا۔واضح رہے کہ سینیٹ نے چند روز قبل الیکشن ایکٹ 2030 منظور کر لیا تھا۔

صدر علوی کی عدم موجودگی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی تیاری

arifalviandimrankhan

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے خاندان کے افراد اور سٹاف کے ہمراہ حج کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق الیکشن ایکٹ میں ترمیم اور نااہلی بل کی منظوری ایک ایسے وقت میں عمل میں لائی گئی ہے جب صدر مملکت ملک میں موجود نہیں ہوں گے اور ان کی جگہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی قائم مقام صدر کا منصب سنبھالیں گے۔ایسی صورت میں ایوان صدر سے ترمیم کی منظوری میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی جو کہ تحریک انصاف سے وابستہ صدر کی موجودگی میں پیش آسکتی تھی واضح رہے کہ صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اس سے پہلے کیا ہم قوانین اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیے تھے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481