سینئر صحافی اور تجزیہ کار عمران شفقت نے اپنے وی لاگ میں دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان آئندہ ہفتے گرفتار ہو جائیں گے اور اس بات کا امکان ہے کہ انہیں عید جیل میں گزارنا پڑے۔
صحافی کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث عناصر کو کیفرکردار تک پہنچانے کے حوالے سے فوجی قیادت کسی قسم کے ابہام کا شکار نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو یہاں تک کہنا پڑا کہ اس معاملے میں خدانخواستہ ان کا بیٹا بھی ملوث ہوتا تو اسے بھی معاف نہیں کیا جاتا۔
اس حوالے سے چند ہفتے قبل فارمیشن کمانڈرز کے اجلاس میں فیصلوں کو حتمی شکل دے دی گئی تھی اور اجلاس کے اعلامیے میں بھی واضح کر دیا گیا تھا کہ فوجی تنصیبات پر حملوں سمیت 9 مئی کے واقعات میں ملوث عناصر کیلئے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کی جاۓ گی اور یہ کہ نہ صرف حملے کرنے والوں بلکہ ان کے سرپرستوں اور منصوبہ سازوں کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
رپورٹ میں مزید دعوی کیا گیا ہے کہ دراصل نو مئی کے تناظر میں فوجی قیادت کے فیصلوں پر عملدرآمد بڑی حد تک پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے اور ان واقعات میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث عسکری اداروں سے وابستہ عناصر کا ٹرائل مکمل کرنے کے بعد ان کیلئے سزا اور جزا کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔
اس حوالے سے فوج کے کئی اعلی افسر زد میں آئے ہیں جنھیں کورٹ مارشل کے بعد سزا بھی سنا دی گئی ہے تاہم امکان ہے کہ ان سزاؤں کا اعلان آئندہ ہفتے کر دیا جائے گا اور یہی موقع ہو گا جب تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری بھی عمل میں آ جاۓ گی۔
صحافی عمران شفقت کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاک فوج کے قانون اور ڈسپلن کے تحت فوجی افسران کو سزائیں دینے کا ایک مقصد عدلیہ اور سیاست سمیت ہر شعبے میں موجود لوگوں کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ سنگین جرم میں ملوث کسی بھی شخص کیلئے معافی کی گنجائش نہیں ہے۔

