اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کون بنے گا نگراں وزیر اعظم؟ میڈیا کی تین شخصیات میں مقابلہ

WhatsApp Image 2023 06 24 at 01.54.01

کوہسار نیوز اسپیشل رپورٹ

جوں جوں موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے کا وقت قریب آ رہا ہے ، سیاسی جماعتیں اور ان سے وابستہ افراد اپنی انتخابی حکمت عملی ترتیب دیئے کیلئے بے تاب ہو رہے ہیں ، مگر اس سے پہلے نگراں حکومت قائم ہو گی جس میں شامل ہونے کیلئے بے شمار لوگ لابنگ کی خاطر میدان میں نکل پڑے ہیں۔ واضح رہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پہلے سے نگراں حکومتیں موجود ہیں ،تاہم حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد تین ماہ کے لئے وفاق ، سندھ اور بلوچستان میں بھی نگراں حکومتوں کا قیام ضروری ہے۔

اس حوالے سے سب سے اہم عہدہ نگران وزیر اعظم کا ہے جس کیلئے کئی اہم شخصیات امید لگائے بیٹھی ہیں، تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ وزارت عظمی کے لیے میڈیا سے تعلق رکھنے والی تین اہم شخصیات اپنے اپنے طور پر لابنگ کر رہی ہیں یا پھر ان کے نام فیصلہ سازوں کے درمیان زیرغور آرہے ہیں۔ ان میں سے پہلا نام ایک خبر رساں ایجنسی کے مالک اور ٹی وی پر عام طور پر دیکھے جانے والے تجزیہ کار محسن بیگ کا ہے، جو کبھی سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی دوست ہوا کرتے تھے۔مگر بعض وجوہات کی بنا پر یہ دوستی تقریبا” دشمنی میں بدل گئی اور محسن بیگ زیرعتاب آگئے۔ عمران حکومت کے آخری دور میں انہیں گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ محسن بیگ اقتدار کی راہداریوں میں خاصا اثر رسوخ رکھتے ہیں اور انہیں نگراں وزیر اعظم کے عہدے کیلئے مضبوط امیدوار خیال کیا جا رہا ہے تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ شاید وہ اپنا مطلوبہ ہدف حاصل نہ کر سکیں۔

نگراں وزیراعظم کے لئے ایک اور اہم نام میڈیا ہی سے تعلق رکھنے والی ایک اور شخصیت میاں عامر محمود کا ہے جو دنیا ٹی وی اور اخباری گروپ کے مالک ہیں اور لاهور کے میئر بھی رہے ہیں۔ان کی ایک اور اہم شناخت پنجاب گروپ آف کالجز کے نام سے ایک بہت بڑے ایجو کیشنل گروپ کے مالک کی بھی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں عامر بھی سرگرمی سے نگران وزیر اعظم کے عہدے کے لئے لابنگ میں مصروف ہیں تاہم تحریک انصاف کے بعض ایسے لوگوں کے ساتھ ان کا قریبی تعلق آڑے آرہا ہے جو 9 مئی کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہیں۔ تاہم کچھ بعید نہیں کہ انہیں اس اہم ترین عہدے کے لیے کلیئرنس مل جائے۔

نگران وزیر اعظم کے لئے میڈیا انڈسٹری ہی سے جڑا تیسرا نام معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کا ہے، جو 2018 کے الیکشن سے پہلے بھی نگران وزیراعلی پنجاب کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور عمران خان کی جانب سے ان پر 35 پنکچر کے نام سے دھاندلی کا سنگین الزام لگایا گیا تھا جو بعد ازاں ثابت نہ ہو سکا۔ نجم سیٹھی کو حال ہی میں دوسری بار پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین لگایا گیا تھا تاہم وہ چند ماہ بعد ہی اس عہدے سے مستعفی ہوگئے ، جس کا بنیادی سبب یہی بتایا جاتا ہے کہ ان کی نگاہیں نگراں وزیر اعظم کے اہم ترین عہدے پر ہیں ، بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس کے لئے لابنگ بھی کر رہے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ نجم سیٹھی ماضی میں بائیں بازو سے تعلق کی بنیاد پر پیپلزپارٹی کے زیادہ قریب رہے ہیں اور نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں انہیں گرفتار بھی کیا گیا تھا ، تاہم اب وہ نواز لیگ کے زیادہ قریب ہیں اور پیپلز پارٹی کے لیے بھی قابل قبول سمجھے جاتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر میڈیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات میں سے کسی کے سر پر اقتدار کاھما عارضی طور پر بیٹھتا ہے تو اس حوالے سے نجم سیٹھی "ہاٹ فیورٹ” ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم ذرائع کا یہ بھی دعوی ہے کہ اس بار میڈیا سے طویل تعلق کے بعد سیاست سے ناطہ جوڑنے والے مشاہد حسین سید ان سب کو سرپرائز دے سکتے ہیں۔ مذکورہ تینوں شخصیات کے مقابلے میں سینیٹرمشاہد حسین سید کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ وہ نوازلیگ سے تعلق رکھنے کے باوجود بے لاگ تبصروں اور تنقید کے لیے مشہور ہیں، جس کی وجہ سے وہ تحریک انصاف کے لئے بھی قابل قبول ہو سکتے ہیں اور پیپلز پارٹی میں بھی ان کے لیے نرم گوشہ موجود ہے۔
مگر چونکہ سیاست میں کوئی بھی بات حرف آخر نہیں ہوتی اس لیے مذکورہ چاروں  شخصیات کے علاوہ بھی کسی کو نگران وزیر اعظم کے لئے زیر غور لایا جا سکتا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481