اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

”بے ناں سکا” شریف شاد۔ ماں اور ماں بولی پر ایک شاہکار تحریر

fc64beb3 9fb8 433d 9f86 1387f530fec0

رب کے معنی پالنے والے کے ہیں اور اندر کی لو (روشنی) رکھنے والے کہتے ہیں کہ ” بے ” (ماں) بھی ایک چھوٹا سا رب ہی ہوتا ہے لیکن دونوں میں خالق و مخلوق اور حقیقی و مجازی کا فرق ہے۔ اللہ کے پاس رب کی صفات اپنی ذاتی ہیں اس نے کسی سے نہیں لیں جبکہ ” بے ” (ماں) کے پاس اللہ سوہنڑیں کی عطا ہیں۔

” بے” (ماں) ایک سبب اور رب سوہنڑاں "مسبب الاسباب ” بے۔ ماں کا خمیر، مٹی گارا رب سوہنڑیں نے اپنی مہربانیوں، محبتوں، رحمتوں اور کریمی کے پانیوں سے گوندھا۔ یوں ” بے ” کو اپنی جمالی صفات کی معرفت کا آئینہ و تصویر بنا بھیجا۔

بندہ اپنے نفس، وجود اور جسم کے غلاف میں لپیٹا اور سمیٹا ہوا ساری زندگی جسم کی دیوار کے پیچھے ہی کھڑا رہتا ہے اور کبھی بھی اس دیوار کی دوسری اور بستی دنیا کی جانب تانک جھانک کی ہمت و جدوجہد نہیں کرتا۔ اس کا اپنا جسم اور وجود ہی اس کی راہ روکے اس کے سامنے کھڑا رہتا ہے۔ اسی نے اندھیر مچا رکھا اور ہر سمت ظلمتیں تان رکھی ہیں۔

” بے”  کی جھولی اور گود جس کو پہلا مدرسہ کہا جاتا ہے، رب کی معرفت ہے جس کو پڑھ کر بندہ نہایت سہولت و آسانی سے رب کے راز تک رسائی کی منزلوں کو جا پہنچتا ہے۔ جن لوگوں نے ” بے”  مجازی رب کو سیانڑ (پہچان) لیا یہ سمجھیں انھوں نے حقیقی رب (اللہ) کو سیانڑ (پہچان) لیا اور جنھوں نے ” بے”  نہیں سیانڑتی (پہچانی) انھیں رب (اللہ) کی بھی کوئی خبر و شناسائی نہیں ملی۔

” بے” ہر کسی کی سوہنڑٍیں ہوتی ہے۔ اسی طرح ساری ماء بولیاں بھی خوب صورت ہیں۔ آئیے ! آج ہم سب مل کے پوٹھوہاری ” بے” (ماں) کو سلام پیش کریں۔

پوٹھوہار میں بسنے والی ” بے”  جو بسم اللہ کی گھٹی ڈالتی، لوری "لا الہ الا اللہ یا محمد پاک رسول اللہ” (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی سناتی، حوالے رب رسول کے کرتی اور ضمانت امام ضامن کی پیش کرتی، جو بیٹے جان لیوا جدوجہد سے پال کے رب کی راہ میں قربان کر دیتی، سلاتے کلمہ پڑھا کے سلاتی اور جگاتے کلمہ پڑھاتے ہوئے اٹھاتی تاکہ آج آدھی موت مرتے ہوئے کلمہ کی راہ پر مریں اور جی اٹھتے کلمہ کی راہ پر ہی جی اٹھیں یعنی کل پوری پوری موت مرتے وقت بھی کلمہ کی راہ پر روانہ ہوں اور حشر نشر کر دینے والے حشر کے روز بھی کلمہ کی اوٹ پناہ میں کلمہ پڑھتے پڑھتے اٹھیں۔ ”

"بے” جسے قرآن پاک پڑھنا نہ بھی آتا ہو تو اولاد کے سامنے آیات پر انگلی پھیرتی رہتی ہے تاکہ اولاد بھی مائل ہو کر قرآن کے رستے پر چل نکلے۔

WhatsApp Image 2023 06 24 at 00.42.50

ماں کی محبت کے مختلف رنگ

پوٹھوہاری ” بے ” نے جہاں راجہ سرور، محمد حسین اور محفوظ شہید جیسے فولادی حوصلوں کے مالک رزم گاہ کے مرد میدان پیدا کیے، وہیں فضل الدین کلیامی، بری امام، باوا لعل شاہ اور غلام حسین جیسے نفس کے محاذوں کے فاتح بھی انہی کی کوکھ کے پروردہ، مہرِ علی ماہِ بتول وکیلِ ختم نبوت پیر مہر علی شاہ بھی اسی ” بے ”  کی گود کھیلے۔ پوٹھوہار کی دھرتی کے راکھے سلطان منگ، سلطان سارنگ، سلطان آدم اور راجہ نادر و سردار باز خان بھی پوٹھوہار کی ” بے ”  کا شیر پی کر جوان ہوئے۔ عشق و مستی کی راہوں کے مست و بے خود راہی راجہ سوار خان قلندر (جناب فیاض کیانی صاحب کے والد گرامی)، شہنشاہ پوٹھوہار سائیں صدیق سرکار اور امام الشعراء موذنٍ عشاق باوا فقیر مرزا (شیر زمان مرزا رح) بھی اسی دھرتی کی ” بے ”  نے جنے پالے۔ تفکر تدبر و دانش کا دوسرا نام باوا اختر امام بھی اسی خطہ کی ” بے ” کی آنکھوں کا تارا اور مزدور و غریب کے حقوق کی جنگ لڑنے والا بے خوف مجاہد دادا امیر حیدر بھی پوٹھوہار ہی کی ایک ” بے ”  کا بیٹا تھا۔ پوٹھوہار پوٹھوہار، پوٹھوہاری پوٹھوہاری کرنے والے ڈاکٹر رشید نثار، دلپذیر شاد اور سید حبیب شاہ بخاری بھی اسی سیٹ کی اکائیاں ہیں۔

شریف شاد بھی پوٹھوہار کی ماؤں کے بیٹوں میں سے ایک بیٹا ہے اور صرف یہی نہیں وہ ” بے ”  کا سگا بیٹا ہے۔ وہ بیٹا جس نے نہ صرف ” بے ” (ماں) کو سیانڑ (پہچان) لیا ہے بلکہ اس کی معرفت سے اپنے حقیقی رب کو بھی سیانڑ (پہچان) لیا ہے۔

Screenshot 20230624 115539 1

شریف شاد

ابھی وہ سمجھنے سوچنے کی قوت سے قاصر تھا کہ اس کا پالا حروف سے پڑا، دو طرح کے حروف ایک وہ جو اس کی ماں کی ممتا و شیر بن کے اس کے خون میں دوڑتے تھے دوسرے وہ جن میں روحانیت کا نور جسم کے اندھیروں سے آگے روح کی پوہ پھوٹتی فضاؤں کو نور و نور کرتے رہتے تھے۔ گویا ” بے ” الف کے نکتے کی کاشف بن کر اس کے باطن میں رچ بس رہی تھی۔ اس عمر میں وہ مشاہدہ، مجاہدہ، تجزیہ، قیاس، قیافہ، منطق و فلسفہ، ادراک و عرفان جیسے کسی علم سے روشناس نہیں تھا۔ ایک عالمِ بے خبری میں” بے ” دیکھے ان دیکھے جہانوں اور کائناتوں کی مخبر بن کر حرف حرف، نکتہ نکتہ اس پر کھول رہی تھی۔۔۔۔ اسے نہیں خبر کہ ” بے ”  اور رب کے عشق کی داب دل کے پر اسرار گوشوں میں کس نے داب دی تھی۔۔۔ وقت نے کروٹ لی ” بے ” (ماں) کا عشق "بے کی زبان” کے عشق میں ڈھلنے لگا اور رب کا عشق آیات کے توسل سے رب سے ہمکلام ہونے لگا۔
پوٹھوہاری زبان کے حرف ” بے ”  بن کر اس کو کبھی انگلی لگا کر کبھی کُچھڑ کبھی موہنڈے بٹھا کر دنیا و ماورا کی سیر کرانے لگ گئے۔ وقت کچھ آگے بڑھ گیا نئی دنیاوں میں داخل ہوا تو دوسری زبانوں کی چکا چوند نے اسے چونکا کے رکھ دیا. اسے یوں لگا جیسے اس کی ”بے” کی زبان کے حروف دم توڑنے لگے ہیں۔ اسے اچانک یوں لگا جیسے اس کی کی ” بے ” کی سانسیں اکھڑ گئی ہیں۔ اس نے لغت، آکھانڑ، تراجم کے ذریعے فسٹ ایڈ شروع کر دی۔۔۔۔ حرف زندہ ہونے لگ گئے۔۔۔۔ ” بے ” کی سانسیں ترتیب میں ہونے لگیں۔۔۔۔ "بے” نے آنکھیں کھولیں اور کچھ امر ہوتے ہوئے حرف نواز دیے۔۔۔۔

”پترا توں میہکی مرنیں سوں بچایا گو اللہ تہکی کدے نہ مرنڑ دیہ ”۔۔۔۔۔۔۔۔

” بے ”  اسے اپنے قدموں سے اٹھا کر رب کے حضور لے آئی۔۔۔۔ ” بے ”  نے اسے رنگ ڈالا ہے۔ ایسے گوہڑے رنگ میں جو حشر نشر، قیامتوں شیامتوں سے بھی نہیں اترے گا بلکہ نفسا نفسی کی ان ظلمتوں میں اوٹ پناہ اور فضل کریمی کی چادر بن کر بچا و چھپا رکھے گا۔ بے شک یہ اس کے لیے اس کی ” بے ” (ماں) کی طرف سے محبتوں کی پہھانجی و پناتر (تحفہ و عطیہ) ہے جو توشہ بن کر اگلی منزلوں تک اس کے ساتھ رہے گی۔

(واااااااااااااااہ۔۔۔۔۔۔ زندہ باد شریف شاد! دنیا بھی لے اڑے اور آخرت بھی۔ قرآن پاک۔۔۔۔۔ کلام الہی کے اردو ترجمہ کو پوٹھوہاری میں ڈھال کر آپ نے ” بے ” کو زندہ کیا اور ” بے ” نے آپ کو زندہ کر دیا)

مجھ پر ابھی تک لرزہ طاری ہے۔  میری سوچ۔۔۔۔ سوچ کر کانپ جاتی ہے، ایک وحشت و دہشت نے دبوچ رکھا ہے۔۔۔۔ قرآن۔۔۔۔۔ کلام الہی ہے اور جب بندہ اسے پڑھتا ہے، جس صیغے میں رب کلام کر رہا ہوتا ہے، بندہ بھی اسی صیغے میں تکلم کرتا ہے۔ میں کامل ادب کے ساتھ علماء کا پیر گوڈا کرتے رہنمائی چاہتا ہوں کہ جب بندہ اسی صیغہ میں کلام کر رہا ہوتا ہے تو اللہ کہاں ہوتا ہے اور بندہ کہاں۔۔۔۔۔۔۔

پتہ نہیں کون ہے…… کیا ہے !۔۔۔ لیکن شریف شاد ہو یا۔۔۔۔۔ یاسر کیانی۔۔۔۔۔ نقیب ہو یا….. ساجد الرحمن اور حمید مدنی….. یہ بت اسی واجب الوجود و توحید الوجود کی معرفت کے پردے چاک کرتا رہتا ہے۔۔۔۔۔۔ حقیقت کا مجاز۔۔۔۔۔۔ ” بے ” (ماں) کا سگا۔

FB IMG 1661231126267 2

صاحب مضمون


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481