اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

"کسانوں کو 67 فی صد رعایتی قیمت پر زیتون کے پودے مل رہے ہیں”

aa8b5572 fa04 47f3 812f 74212587fb07 1

انٹرویو۔۔ راشد عباسی (تیسرا حصہ)

 

سوال : کسانوں کو مہیا کی جانے والی سہولیات اور ان کے طریقہ کار کے بارے میں تھوڑی سی وضاحت فرما دیں۔
جواب : اس منصوبے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار کسانوں اور عام لوگوں کا ہے۔ اب تک کی کامیابیوں میں انھی لوگوں کا بڑا حصہ شامل ہے۔ سہولیات کی بات کریں تو ایک طویل فہرست ہے۔
درجن سے زیادہ نرسریاں ہیں جہاں سے پہلے بالکل مفت پودے مہیا کیے جاتے رہے تاکہ کسانوں پر کسی قسم کا بوجھ نہ پڑے۔ اب بھی انھیں 67 فی صد رعایتی قیمت پر پودے مہیا کیے جا رہے ہیں۔ پورے پاکستان میں اس سہولت سے کسان فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر میں بھی بیس، تیس ہزار پودے لگائے گئے ہیں ۔ اب منظور شدہ ورائٹیوں کے جو پودے لگائے جاتے ہیں ان کو ٹیگ لگایا جاتا ہے اور نمبرنگ کی جاتی ہے تاکہ وہ ڈیٹابیس میں شامل ہوں اور ان کے بارے میں مکمل معلومات دستیاب ہوں۔ نیز گوگل سرچ کے ذریعے بھی ان پودوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکے کہ کہاں کہاں زیتون کے پودے کاشت کیے جا رہے ہیں۔ نیز کسی پودے کے بیمار ہونے یا مرجھا جانے کی صورت میں تحقیق سہل ہو اور بہتر اور فوری علاج کیا جا سکے۔

0cb150de 8e0e 4d4a 894f 90dc2a0762df 2 26a7b0f4 d22d 4baf a6b5 34ef7074e46b 2
شجر کاری اگر سائنسی بنیادوں پر اور زرعی اصولوں کو مدنظر رکھ کر کی جائے تو کامیابی کی شرح بہتر ہو جاتی ہے۔

اسی نکتے کو پیش نظر رکھتے ہوئے کسانوں کو پورے پاکستان میں باقاعدہ تربیت مہیا کی جاتی ہے۔ ایک سالانہ جدول بنا کر سب کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے جس میں پورا پروگرام درج ہوتا ہے کہ کون سی ٹریننگ ، کس مرکز میں کس مہینے کی کن تاریخوں میں منعقد ہو گی۔ ان تربیتی ورکشاپوں میں تھیوری کے ساتھ ساتھ عملی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ آڈیو وژیول کے ذریعے ہر پہلو کی وضاحت کی جاتی ہے۔

مختلف ضروری اوزار یورپی ممالک سے درآمد کر کے پروننگ اور ہاروسٹنگ کٹس بنائی گئی ہیں۔ ان اوزار کے استعمال کی تربیت دے کر یہ کٹس نصف قیمت پر کسانوں کو مہیا کی جاتی ہیں تاکہ باسہولت پیشہ ورانہ مہارت عام کی جائے۔

اچھی پیداوار حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہدایات کے مطابق پھل اکٹھا کرنا بھی ضروری ہے۔ کسانوں کو اس حوالے سے مکمل عملی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ دو درجن سے زیادہ آئل اکسٹریکشن یونٹس لگائے گئے ہیں جہاں سے کسان آسانی اور سہولت کے ساتھ زیتون کا تیل حاصل کرتے ہیں۔ ایک موبائل ایکسٹرکش وین بھی ہمارے پاس آ گئی ہے۔ اس کے ذریعے ہم دیہات کے کسانوں کو ان کے علاقے میں آئل ایکسٹرکشن کی سہولت مہیا کر سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ ویلیو ایڈیشن لیبارٹریاں بھی قائم کر دی گئی ہیں تاکہ کسانوں کو زیتون کی بائی پروڈکٹس کے بارے میں تربیت دی جائے۔ مقصد یہ ہے کہ ٹیبل پروڈکٹس اور زیتون کے تیل کے ساتھ ساتھ ٹی بیگز، صابن، ہینڈ واش اور دیگر عالمی معیار کی مصنوعات کی پیداوار کو بھی تیز کیا جائے۔ کسانوں کو پیکجنگ، لیبلنگ اور پیش کاری کے حوالے سے مکمل رہنمائی فراہم کی جاتی ہے تاکہ عالمی معیار کی مصنوعات کی پیکنگ اور لیبلنگ بھی اسی معیار کی ہو۔
مصنوعات کی مارکیٹنگ کے حوالے سے بھی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ اب پرائیویٹ انٹرپرینیئور بھی اس میدان میں آ گئے ہیں۔ اس لیے مہیا کی گئی ٹیکنکل اسسٹنس سے وہ بھرپور استفادہ کرتے ہیں۔ اور ہمارا کام منظم اور مستحکم انداز میں بہ تدریج بہتر سے بہتر ہو رہا ہے۔

3abae8b4 3b6b 42b5 9d6f a1a4377bc939 4fc540da d48c 42b0 9061 fc62e86828ff

سوال : بلا شبہ پاکستان زیتون منصوبہ ایک انقلابی معاشی پروگرام ہے۔ لیکن اس کی آگاہی مہم موثر طریقے سے نہیں چلائی جا رہی کہ یہ میڈیا کی سرخیوں میں رہے یا سوشل میڈیا ٹرینڈ بنے۔ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے”؟

جواب : مجھے آپ سے مکمل اتفاق ہے۔ ہمارے منصوبے کے بارے میں نیشنل پریس میں خبریں چھپتی رہتی ہیں۔ مختلف چینلز پر بھی بات چیت ہوتی ہے۔ اخباروں میں خصوصی اشاعتیں بھی چھپیں لیکن ایک منظم آگاہی مہم کا فقدان رہا۔ آپ کی بات سے مکمل اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا اب بہت طاقت ور اور موثر ذریعہ معلومات بن چکا ہے۔ ہمیں سارے ذرائع کو فعال انداز میں استعمال میں لا کر پاکستان زیتون منصوبے کے بارے میں ہمہ گیر آگاہی مہم چلانی چاہیے۔ لیکن میں اس کے ساتھ ساتھ آپ جیسے باشعور احباب سے بھی گزارش کروں گا کہ اس قومی خدمت میں ہمارے دست و بازو بنیں۔ اپنے اپنے شعبے کے ذریعے اس حوالے سے آگاہی عام کریں۔ مضامین لکھیں۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز بنائیں۔ ہمارے یو ٹیوب چینل کی ویڈیوز شیئر کریں۔ تاکہ اس معاشی انقلاب کو بہ سرعت اور کامیابی کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔

سوال : ڈاکٹر صاحب آپ کی بات سے یقینا ہماری صحافتی برادری کو اس منصوبے کے بارے میں آگاہی مہم میں شریک ہونے کی تحریک ملے گی۔ اس بارے میں مزید کوئی ایسے نکات جن سے لوگوں کی دل چسپی بڑھے اور انھیں اس جانب راغب کیا جا سکے۔
جواب : جی بالکل بہت سے ایسے پہلو ہیں جن کے بارے میں ہمارے ہاں ابھی کلچر ڈویلپ نہیں ہوا۔ مثلا پوری دنیا میں زیتون کے باغات سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مختلف شعبہ ہائے حیات کی اہم اور معروف شخصیات ان باغات کی سیر کے لیے آتی ہیں۔ وہ یہاں وقت گزارتی ہیں۔ تصاویر اور ویڈیو بناتی ہیں اور انھیں شیئر کرتی ہیں۔ ان میں فلمی ستارے، علم و ادب اور فنون لطیفہ کی شخصیات بھی شامل ہیں۔
پھر ہمارا بڑا مسئلہ بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ اور سہولیات کی کمی ہے۔ کیونکہ دیہی علاقوں میں مقامی روزگار کے مواقع موجود نہیں ہیں۔

اگر اس منصوبے پر دیہی آبادی بھرپور توجہ دے تو چند برس بعد دیہی آبادی خصوصا خواتین معاشی خودمختاری حاصل کر لیں گی۔

زیتون کے باغات سے پھل اور تیل ہی حاصل نہیں ہوتا بلکہ چھوٹی گھریلو صنعتیں بھی قائم کی جا سکتی ہیں۔ جن میں صابن، ہینڈ واش، ٹی بیگ، سرکہ، اچار وغیرہ جیسی مصنوعات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جب باغات کی کثرت ہو گی اور شاخ تراشی عام ہو گی تو لکڑی کی مصنوعات کی طرف بھی توجہ دی جا سکتی ہے۔ جس طرح مڈل ایسٹ میں زیتون کی لکڑی کے جیولری باکس، قلم دان، چھڑیاں وغیرہ دستیاب ہوتی ہیں۔
اس کے علاوہ ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے فیول پیلٹس بنائی جا سکتی ہیں۔ یوں مصنوعات کی نوعیت میں ایک اور پہلو کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

26a7b0f4 d22d 4baf a6b5 34ef7074e46b 0cb150de 8e0e 4d4a 894f 90dc2a0762df

سوال : زیتون کی شجر کاری کے لیے موزوں موسم کون سا ہے۔ جنگلی زیتون پر پیوندکاری کامیاب ہو جائے تو کوئی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہیں؟
جواب : زیتون کی شجر کاری اور پیوند کاری کے لیے موسم بہار اور موسم سرما موزوں ترین ہیں۔ سردیوں کے موسم میں شجر کاری زیادہ کامیاب ہوتی ہے۔
جنگلی زیتون ذرا سخت جان ہوتا ہے۔ جب پیوند کاری ہو جائے تو شدید خشک موسم میں کبھی کبھار پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ نیز تھوڑی بہت کھاد بھی تجویز کی جاتی ہے۔

سوال : زیتون کے باغات کو دیگر پھلدار باغات کی طرح بیماریوں کے حملے کا کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے؟ اگر ہاں تو ادویات دستیاب ہیں۔
جواب : جس طرح میں نے پہلے عرض کیا ہے۔۔۔ زیتون کا درخت ایک معجزاتی درخت ہے۔ کوئی اور درخت اس کی خصوصیات کے حوالے سے اس کے ساتھ موازنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اس طویل العمری کے حامل درخت کو کوئی سنگین بیماری لاحق نہیں ہوتی۔ معمولی بیماریاں جیسے فنگس وغیرہ ہیں لاحق ہو سکتی ہیں، جن کا علاج موجود ہے۔

سوال : جس طرح آپ نے فرمایا کہ کشمیر میں تیس چالیس ہزار پودے لگائے گئے اور قلم کاری بھی ہوئی۔ مری اور گلیات کا موسم بھی ویسا ہی ہے اور وہاں پر جنگلی زیتون کے ہزاروں درخت پہلے سے موجود ہیں۔ اس علاقے میں زیتون منصوبے کو عام کرنے کے لیے آپ کا ادارہ کیا سہولیات فراہم کر سکتا ہے؟
جواب : مری اور ملحقہ علاقوں میں اس حوالے سے اتنے امکانات ہیں اس سے پہلے ہمارے ساتھ کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ اس کے لیے مری سے محکمہ زراعت اپنے کچھ افسران کو ہمارے پاس تربیت کے لیے بھیج دے۔ تربیت مکمل ہونے پر یہ افسران اس علاقے میں زیتون منصوبے کو پھیلانے کے لیے تربیتی مرکز قائم کر سکتے ہیں۔

اس دوران اگر مری، ہزارہ اور دیگر ملحقہ علاقوں کے کسان اور عام پڑھے لکھے لوگ کسی تربیت میں دلچسپی رکھتے ہوں تو ہم این اے آر سی میں ورکشاپ کا بندوبست کر سکتے ہیں۔

سوال : ایک عام تاثر یہ ہے کہ زیتون کا تیل کھانا پکانے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اس بارے میں سائنسی حقائق کیا ہیں؟
جواب : اب تو یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ غلط فہمی کے سوا کچھ نہ تھا۔ شروع میں لوگوں کو میں نے بھی کہتے ہوئے سنا کہ لو سموک پوائنٹ کی وجہ سے کھانا پکانے کے لیے ٹھیک نہیں۔ لیکن اب تو تحقیقات نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ پومس آئل تلنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ بلکہ ایک سے زیادہ بار بھی چھان کر اور ٹھنڈا کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایکسٹرا ورجن تیل کھانا پکانے کے لیے نہایت موزوں ہے۔ پاکستان میں جو تیل تیار ہوتا ہے اس کا معیار یورپ سے درآمد شدہ تیل سے کسی طرح کم نہیں ہے۔ ہم نے اس کے بیرون ملک لیبارٹریوں سے بھی ٹیسٹ کروائے ہیں۔

dxu0ultesiourkzc56g6 xllqczc7tghdaylaj1ih 1

سوال : اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ ساٹھ کی دھائی سے اسلام آباد میں زیتون کے درخت موجود تھے۔ آپ کے منصوبے کا باقاعدہ آغاز دو ہزار چودہ میں ہوا۔ اس سلسلے میں اتنی زیادہ تاخیر کیوں ہوئی؟
جواب : جی بالکل ایوب خان صاحب کے دور میں زیتون کے کچھ درخت لگائے گئے تھے۔ اس کے بعد بھی کبھی کبھار کچھ درخت لگا دیے جاتے تھے۔ لیکن یہ کام باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے، زمین اور ماحول کے حوالے سے مکمل تحقیق کے بعد، ماہرین زراعت کی نگرانی میں نہیں ہوا۔ یہ اندھیرے میں تیر چلانے والی بات تھی۔
ایسے منصوبوں کے لیے زرعی سائنس دانوں کی ایک وژنری ٹیم کا ہونا ضروری تھا۔ پھر زیتون کی نوے سے زاید قسمیں ہیں۔ ان میں سے پاکستان کے مختلف علاقوں کی زمین اور موسمی حالات سے مطابقت رکھنے والی قسموں کا تجربات کے بعد چناؤ کرنا ایک کٹھن کام تھا۔

اب مکمل تحقیق کے بعد صرف نو دس قسم کے پودوں کو ہمارے ماحول کے لیے موزوں قرار دیا گیا ہے۔

پھر زیتون کے باغات کے لیے دور دراز علاقوں میں تربیت یافتہ عملہ درکار تھا۔ شجر کاری کے عمل کو زرعی اصولوں کے مطابق کرنا ضروری ہے۔ جنگلی زیتون پر پیوند کاری کے لیے تربیت درکار ہے۔ باغات کی دیکھ بھال اور شاخ تراشی، آب پاشی، پیسٹ کنٹرول وغیرہ کے مسائل ہیں۔ اس کے لیے ماہرین کے ساتھ ساتھ کثیر سرمائے کی بھی ضرورت تھی۔ ورنہ درخت زیادہ تعداد میں بھی لگا دیے جائیں اور شاخ تراشی، آب پاشی، کھاد وغیرہ کا خیال نہ رکھا جائے تو پیداوار حاصل ہونا ناممکن ہے۔ پھر پھل تیار ہونے پر اس کو چننے کے لیے باقاعدہ احتیاطی تدابیر ہیں۔ جب ہمارا میگا منصوبہ شروع ہوا تو ہم بہ تدریج منظم انداز میں آگے بڑھے اور آج الحمد للّٰہ ہم کامیابی سے اس منصوبے کو ملک کے دور دراز علاقوں تک پھیلا رہے ہیں (جاری ہے)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481