اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

غلام سرور خان اورہمایوں اختربھی تحریک انصاف چھوڑ گئے

WhatsApp Image 2023 06 23 at 02.33.19

دو سابق وفاقی وزرا غلام سرور خان اورہمایوں اختر نےبھی تحریک انصاف کو داغ مفارقت دے دیا۔ سابق وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے عسکری تنصیبات اور شہداکی یادگاروں پرحملے کرنے والوں کو شرپسندقراردیا اور کہاکہ وہ لوگ ملک دشمنی کے مرتکب ہوئے ہیں۔

جمعرات کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس  سے خطاب کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ مجھے اور میرے خاندان کو سیاست میں  50 سال ہوچکے ہیں، جہاں تک 9 مئی کے واقعہ کا تعلق ہے، بحیثیت پاکستانی کہتا ہوں کہ جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس اور شہدا کی یادگاروں کے حملہ آور ملک دشمنی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ شرپسندوں نے جی ایچ کیو اور کورکمانڈر ہاؤس پر  نہیں بلکہ پاکستان کے دل اور پاکستانیت پر حملہ کیا، میں ان کے تمام ناپاک عزائم اورناپاک اقدام کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، ایسے لوگوں کو قرار واقعی سزادینی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں نے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی، میں اُسکی بھی بھرپور مذمت کرتا ہوں، میں نے پارٹی کے ہر فورم پر بھی کہا کہ ہمیں محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے، اداروں کے ساتھ لڑائی نہیں کرنی لیکن جو کچھ ہوا، بُرا ہوا اس بنا پر تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں۔

ادھر سابق وفاقی وزیر تجارت ہمایوں اختر خان نےبھی تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کردیا۔سماجی رابطے کی سائٹ پر اپنے ایک بیان میں ہمایوں اختر خان کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے خاندان کا پاک فوج سے لازوال تعلق قائم ہے اور میرے والد شہید اختر عبدالرحمٰن جس فوج کے جرنیل تھے اس پر ہمیں فخر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔  ہمارے شہداء کا لہو اور قربانیاں یہ قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات نے پوری قوم کی طرح ہمارے خاندان کو بھی انتہائی افسردہ کیا، بالخصوص شہداء کی یادگاروں کو جو نقصان پہنچایا گیا وہ شہید کی اولاد ہونے کے ناطے اُن کے لیے شدید باعثِ رنج تھا اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481