اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

روزگار کیلئےجان خطرے میں ڈالنے والے بہ مقابلہ شوقین؟

WhatsApp Image 2023 06 16 at 21.00.16 1

یونان کشتی حادثے میں بیرون ملک جانے کے خواہشمند پاکستانیوں کی اموات کے المناک واقعے نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اوربالخصوص پاکستان اور جنوبی ایشیا کے رہنے والے ہر پلیٹ فارم پر اس حوالے سے گفتگو کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس وقت پاکستانیوں کا یہ سب سے اہم موضوع ہے۔ یہاں دو پاکستانی صحافیوں اور تجزیہ کاروں کمنٹس پیش کئے جارہے ہیں ۔ ان میں سے ایک سینئر تجزیہ کار اور طویل عرصے سے یورپ میں مقیم عائشہ غازی ہیں جن کی تحریر کے جواب میں نامور پاکستانی صحافی فیض اللہ خان نے اپنا نکتہ نظر بیان کیا ہے۔

عائشہ غازی

31695d4f e221 4314 b35b a301af50f6b5

غیر قانونی تارکین وطن میں کچھ وہ بدقسمت بھی ہیں کہ اتنا رسک لینے کے بعد بھی قسمت انہیں شارٹ کٹ آفر نہیں کرتی۔ ان کو نہ اسائلم ملتا ہے نہ کوئی لڑکی جس سے شادی کر کے شہریت لے لیں ۔۔ یہ وہ ہیں جو پھر سالہا سال چکی میں گیہوں کی طرح پستے ہیں ۔ گھر والوں کو بتا نہیں سکتےکہ کس حال میں ہیں کیونکہ گھر والوں نے پورے خاندان میں اپنی دھاک بٹھائی ہوتی ہے کہ بیٹا باہر ہے اور وارے نیارے ہیں اور اگر کبھی برے حالات میں گھر والوں سے ذکر کر بھی دیں تو واپس آنے کی اجازت نہیں ملتی ، انہیں یہی بتایا جاتا ہے کہ تم آ گئے تو سب بھوکے مر جائیں گے کیونکہ گھر والوں کو فری مال کا نشہ لگ گیا ہوتا ہے ۔

ایسے لوگوں کو میں نے لندن کی گلیوں میں دسمبر کی سخت سردی میں پُلوں کے نیچے یا بس سٹاپ کے بنچ پر سوئے دیکھا ہے جو لوگوں کی پھینکی ہوئی رضائیاں اٹھا کراپنی سردیاں گزارتے ہیں۔ کچھ وہ بھی ہیں جو انتہائی کم اجرت پر کسی دکاندار کے ہاتھ غلام بن جاتے ہیں کیونکہ وہ انہیں اپنی دکانوں میں رات رہنے کا ٹھکانہ دے دیتے ہیں ۔

یہ ایسا چنگل ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں یہاں تک کہ پولیس کے چھاپے میں پکڑے جائیں اور پولیس انہیں زبردستی ان کے ملک واپس بھیج دے ، جہاں ان کی اب کوئی جگہ نہیں رہی۔ گھر والوں کو جن کی "باہر کی کمائی ” کی عادت پڑ جائے ، پھر بغیر کمائی کے ان کا بوجھ کون اٹھانا چاہتا ہے ۔ ان لوگوں کو ساری جوانی پردیس میں چکی پیس کر پیچھے والوں کو پالنے کے بعد اگر شہریت مل ہی جائے تو پہلا کام یہ پاکستان جانے کی ٹکٹ لینے کا کرتے ہیں اور جاتے ہی ملنے آنے والے ان سے پہلا سوال یہ کرتے ہیں "واپسی کب ہے ؟”

فیض اللہ خان

WhatsApp Image 2023 06 21 at 16.17.59

‏یہاں ساری فیملی ملکر اتنا نہیں کماتی جتنا یورپ میں مقیم1فرد کماتا ہے پاکستان بہتر ہوتا تو لوگ باھر نہ جاتےمیرا بھائی خلیجی ملک کی ایک کمپنی میں کلرک نوعیت کا کام کرتا ہے اسکی تنخواہ میری 20 برس کی صحافت سے زیادہ ہے اور سچی بات یہ ھیکہ اسی کی بدولت گھریلو اخراجات پورے ہوتے ہیں۔

راشد رضوی کا نکتہ نظر

دو پاکستانی امیر زادے پندرہ کروڑ دے کر سمندر کی تہہ میں لا پتہ ہیں۔
آج کل ٹی وی پر ایک خبر بہت دھرائی جا رہی ہے۔ ایک سب مارین، یعنی آب دوز جو
‏سیاحوں کو ٹائی ٹینیک Titánic دکھانے لے کر جاتا ہے وہ بحری جہاز جو 1912 میں سمندر میں غرق ہوا تھا۔ اس بحری جہاز کا ملبہ سمندر کی تہہ میں دکھانے سیاحوں کو لے جانے والی یہ آبدوز بحر اوقیانوس میں 3800 میٹر گہرائی میں لاپتہ ہو گئی ہے۔اس میں دو پاکستانی امیر زادے باپ بیٹا بھی موجود تھے ۔

شہزادہ داؤد اور سلیمان داؤد اینگرو کارپوریشن داؤد گروپ اولپرز ترنگ ڈیری امنگ کے مالکان ہیں ۔

امریکا اور کینیڈا کے حکام آبدوز کو ڈھونڈنے میں مصروف ہیں، آبدوز میں پانچ افراد موجود تھے۔

‏ٹائی ٹینیک کا ملبہ دیکھنے کے لیئے فی کس ٹکٹ دو لاکھ پچاس ہزار ڈالر فی سیاح وصول کیا جاتا ہے جو پاکستانی روپوں میں تقریبا ساڑھے سات کروڑ روپے بنتا ہے ۔
آپ اندازہ کریں کہ یہ امیر زادے کس قدر مالدار ہیں کہ وہ اس سفر کیلئے پندرہ کروڑ روپے ادا کر کے شامل ہوئے ہیں۔
آبدوز میں صرف 96 گھنٹے کی آکسیجن کا ذخیرہ ہوتا ہے، آبدوز نے 2دن قبل جو سگنل بھیجا تھا وہ آخری ثابت ہوا۔ اب صرف 30 گھنٹوں کی آکسیجن موجود ہے۔
ہم دعا تو کرتے ہیں کہ موصوف زندہ واپس آجائیں لیکن زندگی بھی عجیب شے ہے۔ ایک ہی ملک کے کچھ لوگ روزی روٹی کمانے کیلئے ڈوب مرے اور کچھ پندرہ کروڑ دے کر سمندر تلے جانے کو تیار ہو گئے۔ واہ رے مالک تیرے رنگ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481