خیبرپختونخوا میں چند روز کے وقفے کے بعد بارش اور طوفان ایک بار پھر تباہی کی داستان رقم کر گیا۔شدید آندھی اور تیز بارش سے ہونے والے حادثات کے نتیجے میں آٹھ انسانی جانیں ضائع ہو گئیں۔
زیادہ متاثر ایک بار پھر بنوں شہر ہوا جہاں دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ تباہی آئی۔ بارش سے متاثر ہونے والے دیگر شہروں میں پشاور ، لکی مروت، وزیرستان اور گرد و نواح کے علاقے شامل ہیں۔بارش اور طوفان سے درخت اور کھمبے اکھڑ گئے ۔چھتیں اور دیواریں منہدم ہوگئیں اور آسمانی بجلی گرنے کے کئی واقعات پیش آئے جاں بحق ہونے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق بنوں اور لکی مروت سے نقصانات کی زیادہ رپورٹس موصول ہوئی ہیں۔ بڈھ بیر ماموں زئی، بڈھ بیر گلبہار میں دیوار گرنے کا واقعہ پیش آیا ۔ نشتر آباد کامرس کالج کے ساتھ مسجد کا شیڈ گر گیا۔ اس کے علاوہ گورنر ہاؤس میں بھی درخت گرگئے۔ترجمان ریسکیو نے بتایا کہ طوفان اور تیز بارشوں سے بنوں کے مختلف علاقوں سے دیواریں و چھتیں گرنے کی متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ للوزائ سورانی بنوں میں ایک خاندان کے 4 بچے دیوار کے نیچے دب گئے۔ 2 بہن بھائی شہید اور دو تشویشناک حالت میں خلیفہ گلنواز ہسپتال میں زیر علا ج ہیں۔معمرخاتون گھر کی چھت گرتے دیکھ کردل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگئی۔
واضح رہے کہ اتوارکے روز سہ پہر تین بجے اچانک طوفانی بارش شروع ہوئی اورنصف گھنٹے تک جاری رہنے والی بارش نے چند ہفتے پہلے کی طرح ایک بار پھر تباہی مچادی۔ بارش کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں گھروں کی چھتیں اوردیواریں گر گئیں۔ درخت اور بجلی کے کھمبے گرنے سے بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا ۔ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی اور مختلف علاقوں سے ریسکیو1122کی ایمبولینسوں اور ذاتی گاڑیوں میں جاں بحق افراد کی لاشیں اورزخمیوں کو منتقل کیا گیا ۔الخدمت فاٶنڈیشن.پولیس جوانوں اور مختلف سماجی تنظیموں کے رضاکاروں نے امدادی کاروائیوں میں حصہ لیا۔دو لاشیں اور10زخمی کے جی این ہسپتال، ایک لاش اور47زخمی ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال بنوں منتقل کیے گئے۔ے ہیں
