اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

زیتون شجرکاری یا پیوندکاری۔۔۔منزل ما دور نیست

0cb150de 8e0e 4d4a 894f 90dc2a0762df 1

ہماری درآمدات کا ایک بڑا حصہ خوردنی تیل پر مشتمل ہے۔ اسی لیے ہم سالانہ اربوں ڈالر خوردنی تیل باہر سے منگوانے پر خرچ کرتے ہیں ۔ جو ہماری معیشت کی ناہمواری کی ایک بڑی وجہ ہے۔

ایک عرصے سے ہمارے ملک میں خوردنی تیل میں خود کفالت کے لیے زیتون کی کاشت پر محنت سے کام جاری ہے ۔ ہم آپ کے سامنے اسی حوالے سے چند گذارشات پیش کرنا چاہتے ہیں۔
زیتون کی کاشت کا ایک طریقہ تو شجر کاری ہے۔ یعنی زیتون کی اعلی نسلوں کے پودے لگانا ۔ اس ضمن میں کئی علاقوں (مثلا” چکوال وغیرہ) میں خاطر خواہ کامیابی دیکھنے کو ملی ہے. چناں چہ اب ملک کے طول و عرض میں زیتون کے باغات لگانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے ۔ خوردنی تیل کی ضروریات پوری کرنے، کثیر زر مبادلہ بچانے اور ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان زیتون پروجیکٹ کے ذمہ داران کی مشاورت سے اپنے اپنے علاقوں میں نئے باغات لگانے کے سلسلے کو جاری رکھا جائے ۔ البتہ زیتون شجر کاری میں ہمیں ایک بڑا چیلنج بھی درپیش ہے۔۔۔۔

  • ہمارے ملک میں لاکھوں ایکڑ زمین ایسی ہے جو مشکل پہاڑی سلسلوں میں پھیلی ہوئی ہے ۔
  • سڑکیں نہ ہونے کے سبب یہ علاقے ٹریکٹر اور دوسری زرعی مشینوں کی پہنچ سے دور ہیں ۔
  • یہ ایسی کھلی زمینیں ہیں جہاں چار دیواری یا باڑ کا اہتمام بھی نہیں ہے ۔
  • یہاں لوگوں کے جانور بکریاں گائے وغیرہ آزادانہ چرتے ہیں
  • یہاں جنگلی جانوروں کی روک تھام کا بھی کوئی بندوبست نہیں ہے ۔

چناں چہ یہاں کوئی نیا پودا کاشت کر کے اسے جانوروں کی دستبرد سے بچانا مشکل ترین کام ہے ۔

26a7b0f4 d22d 4baf a6b5 34ef7074e46b 1 b04f1d85 0040 43bb b8e6 8e3d39aa937a

سب سے بڑی بات یہ کہ یہ علاقے مکمل طور پر بارانی ہیں ۔ آب پاشی کے جدید طریقے ڈرپ ایرگیشن سسٹم کا تو ذکر ہی کیا یہاں نہر، کنواں وغیرہ بھی ناپید ہیں ۔ چناں چہ یہاں زیتون کے باغات لگانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لیکن۔۔۔۔۔۔

مندرجہ بالا سب مشکلات کے باوجود یہ علاقے زیتون کی کاشت کے لیے بہت سازگار بھی ہیں ۔

لیکن یہاں پہلے سے جنگلی زیتون، جنگلی انجیر، آڑو وغیرہ کے درخت کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ اس لیے یہاں زیتون کے باغات لگانے کے لیے پہلے سے موجود جنگلات کا صفایا کرنا ہو گا۔  لیکن اس میں وہی مشکلات ہمارے آڑے آئیں گی جن کا ذکر اوپر ہو چکا ۔

کوئی اس جانب بھی توجہ مبذول کروا سکتا ہے کہ ان علاقوں میں کچھ نہ کچھ تو میدان اور کھلیان موجود ہیں وہاں کیوں نہ زیتون کی کاشت کو فروغ دیا جائے۔  یاد رکھنا چاہیے کہ اس علاقے کی زراعت کا انحصار انھی معدودے چند کھیتوں پر ہے ,جہاں لوگ کھیتی باڑی سے کچھ غلہ اور اناج حاصل کرتے ہیں ۔ ان کھیتوں کو زیتون کے باغات کے لیے مختص کرنے کا مطلب انھیں فوری ضرورت کے غلے سے بھی محروم کرنا ہو گا ۔

لیکن قدرت کی مہربانی دیکھیے کہ اس نے ہمارے پہاڑی علاقوں میں کثرت سے جنگلی زیتون یعنی کہو کے درخت اگا رکھے ہیں۔

اوپر جو کہا گیا کہ پہاڑی علاقوں میں زیتون کی شجر کاری کے لیے جنگلات کا صفایا کرنا ضروری ہے تو یہ سمجھانے اور قدرت کے احسان کو باور کرنے کے لیے کہا گیا تھا ورنہ ان جنگلات کی صفائی ضروری نہیں ہے اس لیے کہ۔۔۔۔۔

یہ جنگلات اکثر و پیشتر جنگلی زیتون ہی پر مشتمل ہیں ۔

لوئر دیر ، باجوڑ ، مالا کنڈ، وزیرستان ، بلوچستان، کشمیر، ایبٹ آباد ، ہری پور، مری اور اس کے مضافات میں لاکھوں جنگلی زیتون کے چھوٹے بڑے درخت پہلے سے موجود ہیں۔ لہذا یہاں زیتون کی شجرکاری کے بجائے پیوندکاری کا طریقہ اختیار کیا جائے تو زیادہ موزوں ہے۔

اگر ان لاکھوں جنگلی زیتون کے درختوں پر ماہرین کی مشاورت سے علاقے کے موسم سے مناسبت رکھنے والی زیتون کی اقسام کی پیوند کاری کی جائے تو چند سالوں میں یہ جنگلی درخت ہمیں زیتون کا پھل دینے کے قابل ہو جائیں گے ۔

بعض علاقوں میں زیتون پیوندکاری کے ابتدائی تجربات ناکام بھی ہوئے ہیں ۔ مثلا بیروٹ کے ایک علاقے ،،کہو شرقی ،، کے ایک صاحب نے ہمیں اپنے درخت دکھائے جہاں انھوں نے زیتون کی پیوند کاری کی تھی۔ لیکن حقیقت حال جاننے کے لیے جب ہم نے پیوند کے مقامات کھول کر دیکھے تو معلوم ہوا کہ پیوند لگانے میں مٹی گارے والا قدیم طریقہ اختیار کیا گیا تھا جو دیگر پھل دار درختوں میں تو کامیاب ہو سکتا ہے لیکن زیتون کے لیے وہ طریقہ سازگار نہیں ہے۔  اس لیے نتیجہ یہ اخذ ہوا کہ پیوند کاری کی ناکامی کی وجہ پیوند کاری کا غلط طریقہ تھا۔
اسی طرح بعض علاقوں میں زیتون کی قلمیں لگ تو گئی۔ لیکن یہاں خاطر خواہ پھل نہیں آیا۔ جب اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کی وجہ مناسب شاخ تراشی کا فقدان تھا۔

نکتہ یہ ہے کہ چاہے زیتون کے نئے درخت لگائے جائیں یا جنگلی زیتون پر زیتون کی پیوندکاری کی جائے دونوں صورتوں میں ماہرین کی ہدایات اور آداب و شرائط کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ اگر ان آداب و شرائط کا اہتمام نہ کیا جائے تو زیتون پیوندکاری کی طرح زیتون شجر کاری بھی ناکام ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر مناسب دیکھ بھال کی جائے تو زیتون پیوندکاری بھی اتنی ہی کامیاب ہو سکتی ہے جتنی زیتون شجر کاری ۔ آخر آلو بخارا، خوبانی ، ناشپاتی ، سیب اور آم وغیرہ کے نئے پودے پیوندکاری ہی سے تو تیار کیے جا رہے ہیں اور وہ کامیاب ہیں۔ اس لیے زیتون پیوند کاری کیسے ناکام ہو سکتی ہے۔
زیتون پیوندکاری کے عمدہ نتائج تالاش ، کلر کہار اور ایبٹ اباد وغیرہ میں ظاہر ہو چکے ہیں، جہاں جنگلی زیتون کے درخت پیوندکاری کے بعد پھل دے رہے ہیں ۔ ہماری یونین کونسل بیروٹ کے ایک گاؤں کہو شرقی میں سڑک کے کنارے جناب محمد فیاض صاحب کے گھر جنگلی زیتون کے دو پیوند شدہ پودے پھل دے رہے ہیں ۔اسی گاؤں میں افروز خان صاحب کے ہاں زیتون پیوند کاری پھل دے رہی ہے ۔ بیروٹ کے مشرق میں دریائے جہلم کے اس پار کشمیر کے گاؤں ساہلیاں اور سیسر میں بھی زیتون پیوند کاری پھل پھول رہی ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی زمینوں پر موجود کہو کے درختوں کی بڑی تعداد کو منظور شدہ اقسام زیتون سے پیوند کرایا جائے اور اس کے بعد ماہرین کی ہدایات کی روشنی میں ان درختوں کی دیکھ بھال کی جاتی رہے ۔

 

اگر ہم چند سال محنت سے کام لے لیں تو ہماری منزل زیادہ دور نہیں ہے ۔ بقول اقبال :

،،تیز تر گامزن، منزل ما دور نیست ،،
،،تیز رفتار سے جلدی جلدی آگے بڑھتے جاؤ کہ ہماری منزل اب دور نہیں ہے،،


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481