اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ریاض ساغر : شاعری کا پانچواں موسم

354448120 10224228961487802 3664495479685723524 n
شاعری کی خوشبو پہلی بار حسِ لطافت سے ہمکنار ہوئی تو سماعت میں آنے والا اولین موسم ریاض ساغرکا تھا۔ ہم نے جیسے ہی اس موسم کا نام لیا، اگلی ساعت، ساعتِ انکار کی تھی۔ ’’….اور شاعروں کی پیروی گمراہ کیا کرتے ہیں‘‘۔
بہت سفاک موسم ہے
نہ کوئی پھول کھلتا ہے
نہ راہوں میں ہوائیں گنگناتی ہیں
اور اس سفاک موسم میں
تمہاری آنکھ کے در پر کئی موسم سوالی ہیں
یہ تم سے پوچھنے آئے ہیں راتیں کب سحر ہون گی
تمہاری آنکھ کے جادو سے صبحیں کب امر ہون گی
تمہارے ہونٹ کا مقتل
شہیدوں کی قطاروں سے سدا لبریز رہتا ہے
کبھی ان کی وفائوں پر شہادت دو
اجازت دو
کہ یہ اگلے سفر میں خاک کی میلی ردا میں خاک ہو جائیں
تمہاری ادھ کھلی کھڑکی کے ساحل پر
ستارے کشتیاں اپنی جلا کر آج اترے ہیں
انہیں کرب ِمسافت سے رہائی دو
دکھائی دو
تمہارے ہاتھ کی شمعوں پہ رقص خاک کرنے کو
گریباں زندگی کا چاک کرنے کو
بہت پروانے آئے ہیں
یہ تم سے کہنے آئے ہیں
ہماری راکھ گر اڑتی ہوئی اس سمت سے گذرے
تو پلکوں پر سجا لینا
مگر سفاک موسم تو بڑا سفاک موسم ہے کسی کی کچھ نہیں سنتا۔
نفی سے آغاز ہونے والی اس مسافت کو اثبات تک آنے میں یقین و گماں کے کتنے سفاک موسموں سے گزرنا پڑا ، کتنے ہونٹوں کے مقتل گزرے ،کتنے شہیدوں کی قطاریں دیکھیں اور کتنی وفائوں نے شہادت دی۔ زیرو ڈگری سینٹی گریڈ میں پلنے والی خواہشیں، ہاتھوں کی شمعیں روشن کیے، خوبانیوں کے باغوں میں، گلابوں سے لدی راہداریوں کے بیچ، حرفِ تسلی کی طرح ایستادہ تھیں۔
فضا میں سوگواری ہے
پس دیوارِ زنداں ہاتھ سینے سے نہیں اٹھتے
عجب قسمت ہماری ہے
کبھی جو پھول کھلتے ہیں
جنازوں پر رکھے جانے کو ملتے ہیں
ہمارے ہونٹ ہلتے ہیں
ابھی موسم نہیں آیا
ہماری فاختائیں لوٹ کر اب تک نہیں آئیں
ہوا اس سمت کو جائے تو کہنا
آشیانوں میں ’’اداسی بال کھولے سو رہی ہے‘‘
سمندر ہانپتا ہے
اور سمندر پر تمہاری یاد کا اک چاند اب بھی کانپتا ہے
سمندر، موج، ساحل، نم ہوا
کب تک ہمارا ساتھ دیں گے
ہماری خشک مٹی پر تمہارے آسماں سے اوس کا قطرہ بھی کافی ہے
کہ اب ہم پیاس کا عنوان ہوتے جا رہے ہیں
بہت ویران ہوتے جا رہے ہیں
گذرتی رات کی ویران ٹہنی پر ستارہ ہم سے کہتا ہے
کہ رشتوں کی حرارت رفتہ رفتہ برف میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے
یہی وہ نقطہء انجماد ہے جہاں سے شاعری کا پانچواں موسم سفر آغاز کرتا ہے ۔ایک ایسا موسم جو پرانے منظروں سے تھک چکا ہے۔ وہ بخارا کا عزت بیگ نہیں کہ گجرات پہنچ کر سوہنی کے عشق میں مہینوال بن جائے۔ وہ گھوٹکی کی شاہزادی مومل کے طلسماتی محل کو سر کرنے والا رامو بھی نہیں۔ وہ کسی کوہ ِ بے ستوں سے جوئے شیر لانے والا فرہاد بھی نہیں کہ شیریں کا یقیں امر کر دے۔ وہ تو ریاض ساغر ہےجس نے ایک نگر میں چلتے چلتے اپنے ہونے کا اعلان کیا تو سب کو حیران کر دیا۔ دل کی تختی پر لہو سے نام لکھنے والا صحرا نورد سرخ محمل والوں سے بے نیاز، گلابوں کی قطاروں کے تصور میں ننگے پیر چلتا رہا۔ گزرتی رات کی ویران ٹہنی پر کوئی ستارہ اس کا ہم سفر نہ تھا کہ وہ نئی رُتوں کا مسافر تھا۔ ہم نے بھی ریاض ساغر کے نقشِ قدم پر ننگے پیر چلنے کی کوشش کی ہے اور یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ جب بھی کوئی صحرا چھاننے کی سعی کرے گا، اُسے ہانپتے ہوئے سمندر پر شاعری کے پانچویں موسم کا چاند کانپتا ہوا ضرور دکھائی دے گا۔
نئی آنکھیں پرانے منظروں سے تھک چکی ہیں
یہ روحیں رفتہ رفتہ مقبروں سے تھک چکی ہیں
تمہارے قرب کا ریشم کہاں ا لجھا ہوا ہے
ہماری انگلیاں اب پتھروں سے تھک چکی ہیں
نئے دیوار و در میں سانس لینا چاہتی ہیں
ہمارے عہد کی نسلیں گھروں سے تھک چکی ہیں
اب ان میں فاختائیں چہچہائیں گیت گائیں
یہ گلیاں آتے جاتے لشکروں سے تھک چکی ہیں
(فاضل جمیلی)


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481