یونان میں تارکین وطن کی کشتی کے ساتھ پیش آنے والے المناک حادثے میں آزاد کشمیر اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے 12 افراد کو ریسکیو کئے جانے کی تصدیق ہو گئی ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بھی آزاد کشمیر کے شہر کھوئی رٹہ سے تعلق رکھنے والے دو درجن کے قریب نوجوان لاپتہ ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر نوجوان کھوئی رٹہ کے گاؤں بنڈلی سے تعلق رکھتے ہیں جہاں اس وقت سوگ کی کیفیت ہے۔
واضح رہے کہ دو روز قبل جنوبی یونان کے ساحل پر ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی کشتی ڈوبنے سے درجنوں تارکین وطن ڈوب گئے تھے اور اب اموات کی تعداد 79 بتائی جاتی ہے جبکہ بیشتر لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔
گزشتہ روز پاکستانی سفارتخانے نے جن بارہ افراد کو ریسکیو کرنے کی تصدیق کی تھی ان میں سے دو عدنان بشیر اور حسیب الرحمان کا تعلق آزاد کشمیر کے علاقے کوٹلی سے ہے ، جب کہ حمزہ اور ذیشان کا تعلق گوجرانوالہ ، عظمت اور عثمان کا گجرات ، سنی اور زاہد اکبر کا شیخو پورہ ، مہتاب کا منڈی بہا الدین سے بتایا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ 14 جون کو جنوبی یونان کے ساحل پر ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی کشتی ڈوبنے کا واقعہ پیش آیا تھا جسے یورپ میں تارکین وطن کو پیش آنے والے بدترین واقعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ کشتی ڈوبنے کے اس واقعے میں اب تک کم از کم 78 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے ۔
بی بی سی کے مطابق اس کشتی پر 750 سے زیادہ افراد سوار تھے جن میں سے 100 کے لگ بھگ بچے ہو سکتے ہیں۔ یونانی حکام اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کشتی پر بڑی تعداد میں تارکین وطن سوار تھے۔ادھر یونان نے اسے تاریخ کے سب سے بڑے کشتی حادثوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
