اسلامی نظریاتی کونسل نے خواتین کو بغیر محرم حج کی مشروط اجازت دے دی ہے تاہم یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ اس کیلئے والدین یا شوہر اجازت ضروری ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل نے اس حوالے سے کہا ہے کہ فقہ جعفریہ، مالکی اور شافعی کے مطابق شریعت میں خاتون کے بغیر محرم کے حج کی گنجائش موجود ہےتاہم یہ گنجائش بعض شرائط کے ساتھ دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ وزارت مذہبی امور نے خواتین کے محرم کے بغیر حج کے معاملے پر کونسل سے رائے طلب کی تھی۔ اس حوالے سے اپنے فیصلے میں اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ وہ عورت بغیر محرم حج کیلئے جاسکتی ہے جس کے والدین یا شوہر اجازت دیں جب کہ فقہ حنفیہ اور فقہ حنبلی کے مطابق محرم میسر نہ ہونے پر عورت پرحج فرض نہیں، ایسی عورت جسے قابل اعتماد خواتین کی رفاقت حاصل ہو حج پر جاسکتی ہے۔
کونسل کے مطابق وہ خاتون جسے سفرکے دوران کسی فساد یا خطرے کا اندیشہ نہ ہو وہ بغیرمحرم حج پر جاسکتی ہے،تاہم مذکورہ خاتون عورت جس گروپ کے ہمراہ حج پر جائے اس کے بارے میں وزارت مذہبی امور چھان بین کرے، اور گروپ ممبران کے بارے میں مکمل اطمینان کے بعد ہی عورت کو حج پر جانے کی اجازت دی جائے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ 15 جون 2022 کو سعودی عرب کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حج پر آنے والی خواتین سے متعلق نیا حکم نامہ جاری کیا تھا۔جس میں سعودی عرب نے حج پر آنے والی خواتین کے لیے محرم کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ کیا تھا۔سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ نئے حکم نامے میں 45 سال سے کم عمر خواتین کیلئے حج پر آنے کے لیے محرم لازمی قرار دیا گیا تھا۔
