اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مری میں اوباش عناصرکی سرکوبی کیلئےخصوصی اقدامات ضروری

6af87a1b 1366 478a bc2a c9ab68532d4b 1

راشد عباسی

مری میں خواتین  کو ہراساں کرنے والے تین اوباش نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔تینوں ملزمان نشے میں دھت تھے جبکہ ان کے قبضہ سے شراب کی بوتل بھی برآمد ہوئی ہے۔
واقعہ کے حوالے سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق مری گھوڑاگلی (بڈگراں)روڑ کے قریب گجرات اور راولپنڈی سے گاڑی میں آنے والے تین اوباش نوجوانوں نے پولیوکے قطرے پلانے والی ہیلتھ ورکرز پچیوں کو ہراساں کر کے گاڑی میں زبردستی بٹھانے کی کوشش کی ،جس پر مقامی افراد نے شور مچایا تو وہ گاڑی بھگا کر مری کی طرفلے گئے جہاں کلڈنہ کے مقام پر مقامی افراد نے ٹریفک وارڈن کی مدد سے گاڑی کو روک لیا۔ جب تلاشی لی گئی تو ان کی گاڑی سے شراب برآمد ہوئی ،جبکہ تنیوں افراد نشے میں دھت تھے۔ مقامی افراد نے ان کی درگت بنانے کے بعد انہیں مری پولیس کے حوالے کر دیا جس نے ملزمان کو  تھانہ مری منتقل کر دیا جہاں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی۔

ملزمان کے نام
1.شیخ عثمان ولد شیخ خالد سکنہ صدر بازار راولپنڈی
2.راشد نعیم ولد محمد قاسم سکنہ نور پور شرقی گجرات
3.عبداللہ اکبر ولد محمد اکبر سکنہ گلریز راولپنڈی
استغاثہ زیر دفعہ ۔171.512.170.365.354.186pp
آیف آئی آر درج ہو چکی ہے

ارباب بست و کشاد توجہ فرمائیں

بظاہر یہ ایک تفریحی مقام پر پیش آنے والا عمومی واقعہ ہے، مگر یہاں معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ اگر مری میں سیاحوں کے ساتھ اکادکا پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کی تحقیق کی جائے تو ان میں سے زیادہ تر اسی قسم کے معاملات سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔
عام طور پر مری ، گلیات سمیت سیاحتی مقامات پر آنے والے افراد اپنی فیملیز اور بیوی بچوں کے ہمراہ سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں تاہم ان میں بڑی تعداد ایسے نو دولتیوں اور اوباش افراد کی بھی ہوتی ہے جن کے تصور میں تفریحی مقام سے مراد ہر قسم کی عیاشی اور مادرپدر آزادی ہوتی ہے۔وہ توقع کرتے ہیں کہ دیگر بڑے شہروں کی طرح یہاں بھی انہیں سامان تعیش دستیاب ہوگا ، جس کے لیے وہ بسا اوقات ہوٹلز کے ویٹرز اور ایجنٹ حضرات سے مطالبہ بھی کر بیٹھتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر مار پیٹ کا نشانہ بنتے ہیں جسے سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور مری کی ثقافت اور اقدار سے ناواقف لوگ انجانے میں ” بائیکاٹ مری” جیسی نفرت انگیز مہم کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مری کی معیشت کا دارومدار بڑی حد تک سیاحت پر ہے اور اس شعبے سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد پیشہ ورانہ تربیت اور مطلوبہ تعلیمی قابلیت نہیں رکھتی ، جس کی وجہ سے بسا اوقات سیاحوں کے ساتھ تلخی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں، تاہم مری اور گلیات میں تواتر کے ساتھ آنے والے دوسرے شہروں کے مکین بھی جانتے ہیں کہ خطہ کوہسار کے لوگ جہاں مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ ہیں اور مہمانوں کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کی رہتے ہیں وہیں غیرت و حمیت کے لئے مرمٹنے پر تیار رہتے ہیں۔
گھوڑا گلی کے مقام پر گزشتہ روز خاتون کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اس کی ایک مثال ہے۔ پولیس کی جانب سے بروقت کارروائی کرکے ملزمان کو گرفتار کرنے کا اقدام لائق تحسین ہے، تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ مقامی کمیونٹی کی مدد سے ایسے عناصر کی سرکوبی کے لئے باقاعدہ مہم چلائی جائے، اور بالخصوص سیزن کے دوران اوباش افراد پر کڑی نگاہ رکھنے کے لیے خصوصی دستے تشکیل دئے جائیں تاکہ مری کی پرامن فضا خراب نہ ہو اور مقامی اور بیرون شہر سے آنے والی خواتین بھی خود کو محفوظ تصور کریں ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481