جہانگیر ترین کی سربراہی میں پاکستان تحریک انصاف کے منحرف رہنماؤ ں کی جماعت پاکستان استحکام پارٹی میدان میں آ گئی جس کا نے با ضابطہ اعلان آج لاہور میں کر دیا گیا۔
جمعرات کو لاہور کے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جہانگیر ترین، علیم خان ، فواد چوہدری،سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس،سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، سابق وفاقی وزیر علی زیدی اور دیگر سابق پی ٹی آئی رہنماؤ ں نے شرکت کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں اکثریت ان رہنماؤں کی ہے جنہوں نے چند روز پہلے تحریک انصاف کے ساتھ سیاست کو بھی خیر باد کہنے کا اعلان کیا تھا۔
اس موقع پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی سربراہ جہانگیر ترین نے کہا کہ ہم آج ایک نئی پارٹی "استحکام پاکستان” کی بنیاد رکھنے آئے ہیں۔لکھی ہوئی تقریر پڑھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک نازک دور سے گزر رہا ہے، نئی جماعت بنانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ ملکی ترقی میں حصہ ڈالا جائے ،میری کوشش رہی ہے کہ ملک کی بہتری کیلئے کسی بھی طرح اپنا حصہ ڈالوں، اس طویل سفر میں کئی لوگوں کے ساتھ کام کیا۔
انہوں نے کہا کہ میں روایتی سیاستدان تو نہیں تھا مگر دیر سے ہی سہی، ایک مقصد کے تحت سیاسی میدان میں آیا، پھر میں نے تحریک انصاف میں اس سوچ کے ساتھ شمولیت اختیار کی کہ پاکستان کو جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ ہم حاصل کریں گے، اسلیے پی ٹی آئی کو مضبوط کرنے کے لیے جدوجہد اور دن رات محنت کی۔
جہانگیر ترین نے نو مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں آپ کے سامنے ایسے حقائق آجائیں گے جس سے آپ سب کو علم ہوگا کہ پی ٹی آئی کے لیے ہم نے کتنا کام کیا، ہم نے ہمیشہ کوشش کی تھی کہ پی ٹی آئی واضح اکثریت سے انتخابات میں فتح حاصل کرے اور ملک میں اتحاد کے لیے کام کرے مگر ایسا نہ ہوسکا اور لوگ بد دل ہوگئے۔
قبل ازیں گفتگو کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر علیم خان نے کہا کہ 9 مئی کے بعد حالات ایسے ہوگئے تھے جن کی وجہ سے ہر محب وطن پاکستانی پریشان تھا، مگر پھر جہانگیر ترین نے ہم خیال لوگوں سے رابطے کیے اور پھر نئی جماعت بنانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم سب کو مل کر پاکستان کو ایک خوبصورت ترقی یافتہ پاکستان بنانا ہے. اور انتشار سے بچانا ہے.انہوں نے کہا کہ پارلیمان، عدلیہ ، ایک ہی بیچ پر ہوں اور ہم مل کر درست فیصلے کریں۔ ہم نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ جہانگیر ترین کی سربراہی میں ہم سب مل کر پاکستان کی بہتری کے لیے کام کریں گے۔

