اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

جماعت اسلامی نے بلدیاتی ایکٹ میں  ترامیم عدالت میں چیلنج کر دیں

Hafiz Naeem High Court Pic copy

جماعت اسلامی نے پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کی جانب سے بلدیاتی ایکٹ میں بدنیتی پر مبنی ترامیم اور من پسند قانون سازی کو عدالت عالیہ میں چیلنج کر دیا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے بدھ کو سندھ ہائی کورٹ میں اس کے خلاف فوری سماعت کی استدعا کرتے ہوئے پٹیشن دائر کر دی۔

پٹیشن تیمور علی مرزا ایڈوکیٹ کے توسط سے دائر کی گئی، عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے جمعرات 8جون کو سماعت مقرر کر دی، بعد ازاں حافظ نعیم الرحمن نے سندھ ہائی کورٹ کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے آئین و قانون اور جمہوریت کو مذاق بنایا ہوا ہے، بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی شاندار اور تاریخی کامیابی اور بھر پور عوامی مینڈیٹ کے بعد سٹی کونسل میں جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کی واضح اکثریت ثابت ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کی سر توڑ کوشش ہے کہ کسی نہ کسی طرح کراچی میں اس کا من پسند فرد میئر بن جائے،

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے پیپلز پارٹی نے بلدیاتی انتخابات ہونے کے بعد غلط طریقے سے سندھ اسمبلی میں اپنی عددی اکثریت کی بنیاد پر قانون سازی کی اور میئر کے انتخابات کے طریقہ کار میں یہ ترمیم کی کہ کوئی بھی فرد وہ خواہ سٹی کونسل کا رکن نہ بھی ہو میئر،ڈپٹی میئر اور ٹاؤن چیئر مین و وائس چیئر مین کا امیدوار بن سکتا ہے۔ یوسی کی سطح پر 15جنوری اور7مئی کو تمام انتخابات مکمل ہونے کے بعد اس طرح کی قانون سازی کرنا اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد اور مفادات کو پورا کرنا ہے جو جمہوریت کی اصل روح اور انتخابات کے عمل کی شفافیت کے خلاف ہے، پیپلز پارٹی نے حالیہ ترمیمی بل مئی 2023میں منظورکروایا لیکن اسے نافذ العمل دسمبر2021سے کروایا گیا ہے تا کہ اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر کے کراچی پر اپنا قبضہ جمایا جائے، جماعت اسلامی اس ترمیمی بل اور بدنیتی پر مبنی قانون سازی کو کسی صورت بھی قبول نہیں کرے گی اس کے لیے ہم نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا ہے اور عدالت نے جمعرات 8جون کا دن ہماری درخواست کی سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481