اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

مزمل قریش گاڑی حادثہ ۔۔۔ اب ظلم بند ہونا چاہیے

b286a789 f1d6 4d81 8b8f 94c0cfbac9d4

ظلم کی تعریف یہ کی گئی کہ
،،کسی چیز کو اس کے جائز اور اصل مقام کے علاوہ کسی دوسری جگہ اور دوسرے مقام پر رکھ دینا ظلم ہے ،،
(وضع الشئی فی غیر محلہ )
اس کی مثال یوں سمجھیں کہ کسی نے کتاب واش روم میں رکھ دی ۔ چاہے یہ باتھ روم چمکتی دمکتی ٹائلوں سے مزین ہو لیکن یہ جگہ کتاب کے شایان نہیں ہے پس یہ ظلم ہوا ۔
کرسی بیٹھنے کے لیے لیکن ہم کبھی اسے بطور سیڑھی استعمال کرتے ہوئے اس پر کھڑے ہو کر بلب تبدیل کر لیتے ہیں۔ قلم سے ناڑا پانی کا کام لیتے ہیں ۔ یہ ظلم کی چھوٹی مثالیں ہیں ۔
اب ہم گاڑی کی طرف آتے ہیں ۔ جیسے موٹر سائیکل ہے یہ دو بندوں کے سوار ہونے کے لیے ہے اس پر تین بندوں کو بٹھانا ،سیمنٹ کا بیگ یا چینی کا بیگ لاد کر لے آنا یہ ظلم ہے ۔ ایک گاڑی جتنی سواریوں اور جتنے وزن کے لئے پاس ہے اس سے زیادہ بٹھانا یا لادنا ظلم ہے۔
اب سڑکوں کی طرف آئیں پرانے ماڈل کی ٹیکسی کے لائق روڈ پر کرولا لے دوڑنا ظلم ہے ۔ جیپ کے لائق روڈ پر شہہ زور گاڑی یا ٹرک لے جانا ظلم ہے ۔
ظلم کی جن اقسام کا ذکر ہوا ہمارے معاشرے میں بالکل عام ہیں ۔ اب اس ظلم کا تازہ نقصان ہمیں عزیزم مزمل قریشِ عباسی کی شدید زخمی ہونے کی صورت اٹھانا پڑا ۔ انھوں نے راولپنڈی سے نمبل کے کسی گاؤں کا فرنیچر لوڈ کیا ۔اس کی والدہ کے بقول ٹیلی فون پر وہ فرنیچر کے مالک سے کہہ رہا تھا کہ میں مین روڈ تک گاڑی یعنی شہہ زور لے جاؤں گا لنک روڈ پر نہیں جاؤں گا ۔ لیکن جب رات کو عشاء کے وقت وہ نمبل سے اوپر کھوڑیاں گاؤں کے پاس پہنچتے ہیں تو گاڑی لنک روڈ پر لے جاتے ہیں ۔ سننے میں آیا ہے کہ فرنیچر کے مالک نے مزمل قریش کو کہا کہ فکر نہ کریں اس روڈ پر تو ٹویوٹا ہائی ایس بھی جاتی ہے ۔ لیکن بعد میں پتا چلا کہ ٹویوٹا والا ، سواریاں اتار کر خالی گاڑی اوپر لے جاتا ہے ۔بہرحال ایک چڑھائی پر گاڑی آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کھسکنے لگی ٹائروں کے نشانات سڑک پر موجود ہیں یعنی بریک لگائی جاتی رہی لیکن گاڑی رک نہ سکی اور سینکڑوں فٹ گہری کھائی میں جا گری ۔
ایسے حادثوں سے بچنے کا آسان طریقہ ہے کہ ظلم نہ کریں نہ گاڑی پر اور نہ خود پر ، صاف جواب دیں آپ کی روڈ جیپ والی ہے تو بس میں شہہ زور نہیں لے جاتا ۔ آگے سے لیکن ویکن کرنے والے کی ایک نہ سنیں ۔ صاف کہہ دیں میں ظلم نہیں کرتا نہ گاڑی پر نہ روڈ پر اور نہ خود اپنی جان پر کہ اللہ نے ظلم سے روکا ہے ۔

اس حادثے میں
مزمل صاحب شدید زخمی ہیں ۔ پہلے سی ایم ایچ مظفرآباد اور کل سے کمپلیکس میں زیر علاج ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ انھیں صحت کاملہ عطا فرمائے ۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481