ظلم کی تعریف یہ کی گئی کہ
،،کسی چیز کو اس کے جائز اور اصل مقام کے علاوہ کسی دوسری جگہ اور دوسرے مقام پر رکھ دینا ظلم ہے ،،
(وضع الشئی فی غیر محلہ )
اس کی مثال یوں سمجھیں کہ کسی نے کتاب واش روم میں رکھ دی ۔ چاہے یہ باتھ روم چمکتی دمکتی ٹائلوں سے مزین ہو لیکن یہ جگہ کتاب کے شایان نہیں ہے پس یہ ظلم ہوا ۔
کرسی بیٹھنے کے لیے لیکن ہم کبھی اسے بطور سیڑھی استعمال کرتے ہوئے اس پر کھڑے ہو کر بلب تبدیل کر لیتے ہیں۔ قلم سے ناڑا پانی کا کام لیتے ہیں ۔ یہ ظلم کی چھوٹی مثالیں ہیں ۔
اب ہم گاڑی کی طرف آتے ہیں ۔ جیسے موٹر سائیکل ہے یہ دو بندوں کے سوار ہونے کے لیے ہے اس پر تین بندوں کو بٹھانا ،سیمنٹ کا بیگ یا چینی کا بیگ لاد کر لے آنا یہ ظلم ہے ۔ ایک گاڑی جتنی سواریوں اور جتنے وزن کے لئے پاس ہے اس سے زیادہ بٹھانا یا لادنا ظلم ہے۔
اب سڑکوں کی طرف آئیں پرانے ماڈل کی ٹیکسی کے لائق روڈ پر کرولا لے دوڑنا ظلم ہے ۔ جیپ کے لائق روڈ پر شہہ زور گاڑی یا ٹرک لے جانا ظلم ہے ۔
ظلم کی جن اقسام کا ذکر ہوا ہمارے معاشرے میں بالکل عام ہیں ۔ اب اس ظلم کا تازہ نقصان ہمیں عزیزم مزمل قریشِ عباسی کی شدید زخمی ہونے کی صورت اٹھانا پڑا ۔ انھوں نے راولپنڈی سے نمبل کے کسی گاؤں کا فرنیچر لوڈ کیا ۔اس کی والدہ کے بقول ٹیلی فون پر وہ فرنیچر کے مالک سے کہہ رہا تھا کہ میں مین روڈ تک گاڑی یعنی شہہ زور لے جاؤں گا لنک روڈ پر نہیں جاؤں گا ۔ لیکن جب رات کو عشاء کے وقت وہ نمبل سے اوپر کھوڑیاں گاؤں کے پاس پہنچتے ہیں تو گاڑی لنک روڈ پر لے جاتے ہیں ۔ سننے میں آیا ہے کہ فرنیچر کے مالک نے مزمل قریش کو کہا کہ فکر نہ کریں اس روڈ پر تو ٹویوٹا ہائی ایس بھی جاتی ہے ۔ لیکن بعد میں پتا چلا کہ ٹویوٹا والا ، سواریاں اتار کر خالی گاڑی اوپر لے جاتا ہے ۔بہرحال ایک چڑھائی پر گاڑی آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کھسکنے لگی ٹائروں کے نشانات سڑک پر موجود ہیں یعنی بریک لگائی جاتی رہی لیکن گاڑی رک نہ سکی اور سینکڑوں فٹ گہری کھائی میں جا گری ۔
ایسے حادثوں سے بچنے کا آسان طریقہ ہے کہ ظلم نہ کریں نہ گاڑی پر اور نہ خود پر ، صاف جواب دیں آپ کی روڈ جیپ والی ہے تو بس میں شہہ زور نہیں لے جاتا ۔ آگے سے لیکن ویکن کرنے والے کی ایک نہ سنیں ۔ صاف کہہ دیں میں ظلم نہیں کرتا نہ گاڑی پر نہ روڈ پر اور نہ خود اپنی جان پر کہ اللہ نے ظلم سے روکا ہے ۔
اس حادثے میں
مزمل صاحب شدید زخمی ہیں ۔ پہلے سی ایم ایچ مظفرآباد اور کل سے کمپلیکس میں زیر علاج ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ انھیں صحت کاملہ عطا فرمائے ۔
