اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

عالمی منڈی میں تیل قیمتیں بڑھنے کا خدشہ کیوں؟

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ
سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ تیل کی عالمی مارکیٹ کے توازن اور استحکام کے لیے وہ آئندہ ماہ سے خام تیل کی پیداوار میں یومیہ 10 لاکھ بیرل تک کمی کر دے گا۔ اس اعلان سے عالمی منڈی میں سراسیمگی پھیل گئی ہے اور خدشہ  ہے کہاس سعودی اقدام سے عالمی سطح پر تیل قیمتوں میں غیر معمولی  اضافہ ہوگا۔
واضح رہے کہ  سعودی عرب نے پہلے خام تیل کی پیداوار میں پانچ لاکھ بیرل یومیہ کی کمی کی تھی جبکہ اب مزید 10 لاکھ بیرل یومیہ کی کمی سے مجموعی پیداوار میں 15 لاکھ بیرل کی کمی ہو جائے گی۔سعودی عرب کا یہ فیصلہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس کے ویانا میں ہونے والے سات گھنٹے کے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ اوپیک تیل پیدا کرنے والے 13 ممالک کی تنظیم ہے جبکہ 10 دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کو شامل کرکے اسے اوپیک پلس کا نام دیا جاتا ہے۔اوپیک پلس میں شامل ممالک عالمی سطح پر خام تیل کی 40 فی صد پیداوار کرتے ہیں ۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ 2024 کے آخر تک اوپیک پلس ممالک تیل کی پیداوار میں 10 لاکھ بیرل کی کمی کریں گے۔ البتہ سعودی عرب نے یک طرفہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی پیداوار میں جولائی سے کمی لائے گا۔امریکہ کی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں یومیہ 10 کروڑ بیرل تیل کی پیداوار ہوتی ہے جبکہ سب سے زیادہ 20 فی صد پیداوار امریکہ کرتا ہے۔
اس کے بعد سعودی عرب 12 فی صد، روس 11 فی صد، کینیڈا 6 فی صد اور چین پانچ فی صد تیل کی پیداوار میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔سعودی وزارت توانائی کے مطابق خام تیل کی پیداوار میں اضافی رضاکارانہ کمی پر جولائی سے عملدرآمد شروع کر دیاجائے گا جو 2024 کے اختتام تک ہو گی۔وزارت کے مطابق یہ اضافی کمی چار جون 2023 کو اوپیک پلس کے اجلاس کے دوران ہونے والے اتفاق سے زیادہ ہے اور یہ کمی سال 2024 کے اختتام تک کی جا رہی ہے۔وزارتی ذرائع کے مطابق مملکت کی جانب سے یہ رضاکارانہ کمی اوپیک پلس کے ان احتیاطی اقدامات کا حصہ ہے جن کا مقصد تیل کی مارکیٹ میں استحکام اور توازن لانا ہے۔


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481