اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

کوہسار کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار

Picsart 23 05 25 17 17 29 781

ملکوں کی معیشت کا دارومدار بڑی حد تک درآمدات اور برآمدات کے توازن پر ہوتا ہے۔

ہم نے پون صدی کے پیہم استحصال کے باوجود سبق نہیں سیکھا کہ آئی ایم ایف کے منصوبے قطعا پاکستان کی ترقی اور پاکستانیوں کی خوشحالی کے لیے نہیں ہیں۔ بلکہ استحصال کنندگان سامراجی مفادات کے تحفظ کے لیے ہماری اسٹبلشمنٹ اور اشرافیہ کو اپنے آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ۔۔۔۔۔۔

  • آئی ایم ایف گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے حکومتوں پر ہمیشہ دباؤ ڈالتا ہے۔ عوام کو دی گئی تمام مراعات کو ختم نہ کرنے پر قرضے کی قسط روک لی جاتی ہے۔ کسانوں کو دی گئی سبسیڈیز ختم کروانے کے لیے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال ہوتے ہیں لیکن۔۔۔۔

اشرافیہ کی کھربوں ڈالر سالانہ کی مراعات پر آئی ایم ایف کی طرف سے مکمل خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ کیوں؟

ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کیا جاتا ہے کہ سی ایس ایس کرنے والے "کریم آف دی نیشن” ہوتے ہیں۔ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ ان شاہ دولے کے چوہوں میں کوئی تخلیقی صلاحیت نہیں ہوتی۔ صرف انگریزی اور خوئے غلامی دیکھی جاتی ہے۔

سی ایس پی افسر اتنے ہی ذہین اور فطین ہیں تو گزشتہ پچہتر سالوں میں بیوروکریسی نے اس ملک کے کون سے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کیا ہے؟

ہمارے نوجوانوں کو خود آگے آنا ہو گا۔ ہم نے ایک تو یہ مہم چلانی ہے کہ۔۔۔۔۔

  • ملٹائی نیشنل کمپنیز کے معیار کی مصنوعات مقامی طور پر، مقامی کمپنیوں کے ذریعے تیار کی جائیں۔

ہم گاہے بہ گاہے اعلانات سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں کہ ملٹائی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ لیکن اس معیار کی ان مصنوعات کا متبادل ہمارے پاس موجود ہی نہیں ہے۔ اس صورت حال میں صارف کیا کرے؟ اس لیے۔۔۔۔

ایک ڈیٹا بیس بنا کر بنیادی ضرورت کی تمام وہ مصنوعات جن سے ملٹائی نیشنلز سالانہ کھربوں ڈالر ہمارے ملک سے لوٹ کر لے جاتے ہیں ان کا متبادل خود تیار کریں۔

  • ہمارے ذہن میں راسخ کر دیا گیا ہے کہ درآمد شدہ مصنوعات اعلی معیار کی ہوتی ہیں۔

ہمارے نوجوانوں کو اس پروپیگنڈے کو غلط ثابت کرنے کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بہ روئے کار لاتے ہوئے سامنے آنا ہو گا۔ اور صاحبان استطاعت کو ان کی مالی معاونت کرنا ہو گی۔ تاکہ مقامی سطح پر عالمی معیار کی مصنوعات کی تیاری کا عمل شروع ہو سکے۔

  •  ہم عشروں سے یہ یاوہ گوئی سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ لیکن گندم اور سبزیاں تک ہم باہر سے منگوانے پر مجبور ہیں۔

صرف کوہسار میں اگر زراعت پر توجہ دی جائے تو مقامی ضروریات پوری کرنے کے بعد ہم غلہ دوسرے علاقوں کو بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ زرعی یونیورسٹی، محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف کے تعاون سے کوہسار میں زراعت کی بحالی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور بہتر پیداوار کے حصول میں اہل کوہسار اور خصوصا نوجوان متحرک کردار ادا کریں۔

  • پاکستان سب سے زیادہ زرمبادلہ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر خرچ کرتا ہے۔

یونیورسٹیوں کا فرض ہے کہ کاپی پیسٹ تھیسز لکھوانے کے بجائے تحقیق کرنے والے نوجوانوں سے الیکٹرک کاروں، موٹر سائیکلوں اور سائیکلوں کے سستے ترین ماڈلز پر کام کروائیں۔ پیٹرول پر چلنے والی گاڑیوں کے لیے ایسی تحقیقات ہوں جن کی مدد سے کم سے کم ایندھن کے استعمال والی گاڑیوں کی پیداوار شامل ہو۔ اگر ساٹھ ، ستر اور اسی کی دھائی کی گاڑیاں ماحولیاتی مسائل پیدا کر رہی ہیں اور وہ ایندھن بھی زیادہ کھاتی ہیں تو حکومت ان پر مکمل پابندی لگانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

  • ترقی یافتہ ممالک نے پبلک ٹرانسپورٹ کا بہترین نظام ترتیب دے کر نوے فی صد تک ذاتی گاڑیوں کے استعمال کو ختم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھیں بہت زیادہ سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔

ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم بہترین پبلک ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کے لیے ملک کی بہترین جامعات کو یہ منصوبہ دیں کہ وہ سارے پہلوؤں کا جائزہ لے کر طلباء سے ایسے تمام قومی مسائل کے حل کے لیے معروضی حالات کو سامنے رکھ کر تحقیقی مقالہ جات لکھوائیں۔

جو مقالہ کسی بھی منصوبے کے لیے موزوں قرار پائے اس کے خالق کو اس منصوبے پر عملی کام میں کلیدی عہدے پر تعینات کیا جائے۔

یوں نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا، ملکی مسائل کا مستقل حل مل جائے گا، نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے اور ملک ترقی کرے گا۔

  • زرمبادلہ کے حساب سے دوسرا بڑا خرچہ ہم خوردنی تیل کی درآمد پر کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم کئی محاذوں پر کام کر سکتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہماری کھانے پینے کی عادات انتہائی غیر مناسب ہیں۔

ہمارے ہاں ابلی ہوئی اور صحت بخش غذا کے بجائے تلی ہوئی اور بیماریاں پیدا کرنے والی خوراک کا استعمال زیادہ ہے۔

اس سے خوردنی تیل کا استعمال غیر ضروری طور پر بڑھ جاتا ہے۔ صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ خوراک میں سے غذائیت ختم ہو جاتی ہے۔

نوجوان اس سلسلے میں آگاہی بیدار کرنے کے لیے میڈیا اور سوشل میڈیا کا فعال استعمال کر کے ایک بڑی قومی خدمت سر انجام دے سکتے ہیں۔

کوہسار میں سرسوں اور سورج مکھی کی کاشت انتہائی کامیاب ہے۔

اگر اس سلسلے میں محکمہ زراعت اپنا بھرپور کردار ادا کرے اور نوجوان گاؤں گاؤں ، بستی بستی یہ ذہن سازی کرنے میں اپنا کردار ادا کریں کہ اپنی ضرورت کا خوردنی تیل کوہسار کا ہر گھر خود پیدا کرے تو کئی ٹن تیل کوہسار میں پیدا ہو سکتا ہے۔

کوہسار میں جنگلی زیتون "کہو” کے لاکھوں درخت ہیں جن پر زیتون کی کامیاب پیوند کاری ہو سکتی ہے۔

اگر ہم مل کر یہ تہیہ کر لیں کہ ہم نے کہو کا ایک بھی پودا اور درخت نہیں چھوڑنا جس پر زیتون کی پیوند کاری نہ ہوئی ہو تو ہم کوہسار سے اگلے چار سالوں میں کئی ٹن زیتون کا تیل پیدا کر کے نہ صرف زرمبادلہ بچانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ علاقے کو خوشحال بنانے کی راہیں بھی استوار کر سکتے ہیں۔

زیتون کی پیوندکاری کے علاوہ درخت بھی لگائے جا سکتے ہیں۔ جو این اے آر سی سے رعائتی قیمتوں پر دستیاب ہیں۔

پاکستان میں زیتون پروجیکٹ ایک بہت بڑا منصوبہ ہے جو نہ صرف صوبائی بلکہ وفاقی حکومت کے زیر اہتمام بھی کافی عرصے سے کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ چکوال میں بہت بڑے رقبے پر کامیاب کاشت کے بعد اب کے پی، بلوچستان، گلگت اور کشمیر میں بھی اس منصوبے پر بھرپور کام ہو رہا ہے۔

مری اور ہزارہ میں کہو کے لاکھوں درخت ہیں۔ نوجوان اگر بنیادی تربیت حاصل کر کے سوشل میڈیا کے ذریعے آگہی بیدار کرنے کی ذمہ داری قبول کر لیں تو ایک انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

زیتون کے تیل کے علاوہ اس کی اور بھی کئی مصنوعات ہیں جیسے اچار، کھانے کے لیے پکے ہوئے زیتون، قہوہ، صابن اور ہینڈ واش، جلانے کے پیلٹس، وغیرہ۔ ان سے بھی کافی آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔

ہمارا فرض ہے کہ ہم نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے انھیں مسائل کے حل کے لیے عملی کردار ادا کرنے کاموقع فراہم کریں۔

 

اگر نوجوان فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، آن لائن بزنس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے قابل ہو جائیں تو وہ اربوں ڈالر سالانہ کا زر مبادلہ کما سکتے ہیں۔

مندرجہ بالا معروضات کو پڑھ کر اپنی قابل عمل تجاویز سے ضرور نوازیں۔ اگر ہم سب مل کر حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے کوئی وقیع لائحہ عمل تیار کریں گے، اس پر عمل درآمد کے لیے ایک کاروان تشکیل دیں گے، نوجوان نسل کی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے انھیں ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھائیں گے تو "سٹیٹس کو” کے بدلنے کے امکانات پیدا ہوں گے اور اس ملک کو سامراجی تسلط سے نجات دلانے کی راہ ہموار ہو گی۔

۔۔۔۔ راشد عباسی ۔۔۔۔

41abfd11 b7aa 4412 96a3 82bdf10acd72

dxu0ultesiourkzc56g6xllqczc7tghdaylaj1ih 1


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481