اشتہار کے لیے جگہ (728x90)
تازہ ترین
● راولپنڈی میں 1300 کےجھگڑے نے 2 جانیں لے لیں ● پیپلز پارٹی آزادکشمیر اورجےیو آئی میں انتخابی اتحاد طےپاگیا ● نوازشریف کی صدارت میں ن لیگ پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ● اخلاقی جرائم کی درست تشخیص ضروری ہے ● 13 سالہ عبدالمعیز کے قتل کا معمہ کیسے حل ہوا ؟ ● دیول کے 13 سالہ معیز کے قاتل 3 ماہ بعد گرفتار ● بھانجے کے ہاتھوں قتل ہونے والے چوہدری آصف کی تدفین ● ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا 

ماں سمیت 3بچوں کو زندہ جلانے والےسفاک ملزم کو ضمانت مل گئی

742da312 fd5d 4d7c 8813 43b5a0369231

ایبٹ آباد(نوید اکرم عباسی )
تھانہ نواں شہر کی حدود گلی بنیاں میں ماں سمیت تین بچوں کو زندہ جلادینے والے سفاک ملزم کو تین ماہ کے اندر اندر پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بنچ سے ضمانت پر رہائی مل گئی ۔ متاثرہ خاندان کے سربراہ خالد عباسی انصاف کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔

WhatsApp Image 2023 03 02 at 15.25.48 750x430 1گرفتاری کے بعد ملزم جیدی کو پولیس حراست میں میڈیا کے سامنے ہپیش کیا جا رہا ہے۔۔ فائل فوٹو

خالد عباسی پریس کلب ایبٹ آباد میں میڈیا کے سامنے دھائی دیتا رہا اور پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نو فروری2023 کو تھانہ نواں شہر کے گاؤں گلی بنیاں میں اس کے گھر آگ لگی جس میں اس کی بیوی، نوجوان بیٹے 22سالہ معین 17 سالہ عبدالمعز اور بیٹی منیبہ کی موت واقعہ ہوگئی۔خاندان کے افراد نے جلی ہوئی لاشوں کی تدفین کی ، بعد ازاں تھانہ نواں شہرپولیس نے بعد ازاں ملزم جواد عرف جیدی جو مقتولین کا قریبی رشتہ دار تھا کو گرفتار کیا جس نے اعتراف کیا کہ اس نے سونے اور نقدی کے لیے قتل کی یہ سفاکانہ واردات کی اورانہیں قتل کرکے پورے مکان کو آگ لگا دی تاکہ تمام ثبوت ختم ہو جائیں اور میں پکڑا نہ جاؤں۔

WhatsApp Image 2023 03 02 at 15.25.47 1 169x300 1دو مقتول سگے بھائیوں کی فائل فوٹو

خالد کے مطابق  ملزم جواد عرف جیدی پر پہلے بھی قتل کے الزامات تھے ملزم کی گرفتاری پر ایبٹ آباد پولیس کے افسران  پریس کانفرنس کرکے حقائق سامنے لائے تھے ۔تاہم آج  پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد کے سنگل بینچ نے ملزم کو ضمانت دے دی۔ خالد عباسی نے پاکستان کے اعلی عدالتی نظام اور حکمرانوں سے فریاد کرتے ہوئے کہا کہ کیا میں خود کو آگ لگا دوں؟ دشت گرد بن جاؤ ں؟کب انصاف ملے گا؟ میری تو دنیا ہی ختم ہوگئ۔ بیوی بیٹی اور دو نوجوان بیٹے قتل ہوگئے، مکان جلا دیا گیا، ۔ خالد نے روتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا اتنے سفاک قاتل کو اتنی جلدی اس لئے چھوڑ دیا گیا کہ یہ مزید قتل  کرتا پھرے ۔

 

 

 


Notice: ob_end_flush(): Failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/kohsarne/public_html/wp-includes/functions.php on line 5481